امریکی ڈالر انڈیکس دو ماہ کی بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گیا.

Fed Rate Hike Expectations Rise While Gold, Euro and Global Markets React to Changing Economic Signals

عالمی فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں منگل کے روز ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے. جب امریکی ڈالر اپنی دو ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی اور جیو پولیٹیکل (Geopolitical) حالات کے بہتر ہونے کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہوں (Safe-Haven Assets) سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے. جس کی وجہ سے امریکی ڈالر انڈیکس (US Dollar Index) گر کر 99.85 کی سطح پر آگیا ہے۔

اس وقت عالمی سرمایہ کاروں اور تاجروں کی تمام تر نظریں رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر (Inflation) کے اعداد و شمار پر لگی ہوئی ہیں، جو فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی سود کی شرح (Interest Rate) کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

اس تفصیلی تجزیے میں ہم جانیں گے کہ مارکیٹ کے اس اتار چڑھاؤ کے پیچھے کون سے اہم عوامل کارفرما ہیں. اور آنے والے دنوں میں فاریکس اور کموڈٹی مارکیٹ (Commodity Market) پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اہم نکات

  • ڈالر میں کمی: مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور سیاسی تناؤ میں کمی کی وجہ سے US Dollar Index retreats from two-month high کی صورتحال پیدا ہوئی ہے. اور ڈالر 99.85 کی سطح پر آگیا ہے۔

  • فیڈرل ریزرو کی پالیسی: تاجر اب دسمبر میں شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کے 43.2% امکانات کو دیکھ رہے ہیں. جبکہ ایک ماہ قبل یہ شرح صرف 14% تھی۔

  • یورو اور پاؤنڈ کی بحالی: یورو (EUR/USD) 1.1550 اور پاؤنڈ (GBP/USD) 1.3350 سے اوپر چلے گئے ہیں. جبکہ یورپی سنٹرل بینک (ECB) رواں ہفتے شرح سود میں اضافے کی تیاری کر رہا ہے۔

  • چین کا تجارتی سرپلس: چین کا تجارتی سرپلس مئی میں ریکارڈ $105.43 ارب تک پہنچ گیا ہے، جس نے عالمی اقتصادی نمو کی امیدوں کو فروغ دیا ہے۔

  • سونا اور جاپانی ین: سونا $4,340 کی سطح پر معمولی بحالی دکھا رہا ہے. جبکہ جاپانی حکام کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت (Intervention) کے خدشات کے باعث USD/JPY 160.15 پر مستحکم ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور US Dollar Index پر اس کے اثرات

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازعات میں اچانک نرمی آنے کے باعث امریکی ڈالر کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر جنگ یا جیو پولیٹیکل بحران پیدا ہوتا ہے. تو سرمایہ کار اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکی ڈالر اور سونے کا رخ کرتے ہیں۔

چونکہ ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے. اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئے معاہدے کی تجویز پیش کرنے کا اشارہ دیا ہے، اس لیے مارکیٹ میں پایا جانے والا خوف و ہراس کم ہو گیا ہے. اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے ڈالر سے منافع کمانا (Profit-Taking) شروع کر دیا. جس سے US Dollar Index اپنی حالیہ بلند ترین سطح برقرار نہ رکھ سکا۔

اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی. لیکن ایران کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کے بیان نے مارکیٹ کو ایک عارضی سکون فراہم کیا ہے۔ فنانشل مارکیٹ کے ماہرین جانتے ہیں. کہ جیو پولیٹیکل خطرات جب کم ہوتے ہیں. تو مارکیٹ کی توجہ دوبارہ اقتصادی ڈیٹا (Economic Data) اور سنٹرل بینکوں کی پالیسیوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔

امریکی سی پی آئی (CPI) اور پی پی آئی (PPI) کا انتظار: فیڈ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

عالمی مارکیٹ کے تاجر اس وقت بدھ کو جاری ہونے والے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) اور جمعرات کو آنے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعداد و شمار کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا امریکی معیشت میں افراط زر کی رفتار کو ظاہر کرے گا. جس کی بنیاد پر فیڈرل ریزرو (Fed) سود کی شرح بڑھانے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول (CME FedWatch Tool) کے مطابق، مارکیٹ اب دسمبر میں شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کے 43.2 فیصد امکانات کو قیمتوں میں شامل (Price in) کر رہی ہے۔ ایک ماہ قبل یہ امکان صرف 14 فیصد تھا۔ اگر افراطِ زر کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ آتے ہیں. تو فیڈرل ریزرو کے لیے سود کی شرح بڑھانا ناگزیر ہو جائے گا. جس سے US Dollar Index کو دوبارہ مضبوطی مل سکتی ہے۔

اقتصادی تقریب (Economic Event) متوقع دن (Expected Day) مارکیٹ پر ممکنہ اثر (Potential Market Impact)
یو ایس سی پی آئی (US CPI Inflation) بدھ (Wednesday) بہت زیادہ اتار چڑھاؤ (High Volatility)
یو ایس پی پی آئی (US PPI Inflation) جمعرات (Thursday) درمیانے سے تیز رجحان (Medium to High Trend)
ای سی بی پالیسی میٹنگ (ECB Rate Decision) جمعرات (Thursday) یورو کی قیمت میں بڑی تبدیلی (Major EUR Movement)

چین کا ریکارڈ تجارتی سرپلس اور عالمی معیشت

چین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تجارتی ڈیٹا نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق، مئی میں چین کا تجارتی سرپلس (Trade Surplus) بڑھ کر 105.43 ارب ڈالر ہو گیا ہے. جو اپریل میں 84.82 ارب ڈالر تھا۔ اس کی بڑی وجہ چین کی برآمدات (Exports) میں 19.4% کا سالانہ اضافہ ہے. جو کہ مارکیٹ کی 15.0% کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی، چین کی درآمدات (Imports) میں بھی 27.4% کا زبردست اضافہ ہوا ہے۔ چین کا یہ مضبوط ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر طلب (Demand) اب بھی موجود ہے. اور یہ خاص طور پر آسٹریلین ڈالر (AUD) اور خام تیل (Crude Oil) جیسی کموڈٹیز کے لیے مثبت اشارہ ہے. جو چین کی صنعتی پیداوار سے براہِ راست منسلک ہیں۔

یورپی مارکیٹ کی صورتحال: یورو اور جرمن انڈسٹریل پروڈکشن

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار جرمنی کی صنعتی پیداوار (Industrial Production) میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ مئی کے مہینے میں جرمن صنعتی پیداوار میں ماہانہ بنیادوں پر 0.4% کا اضافہ ہوا ہے. جس نے یورو کو سہارا دیا ہے۔ اس مثبت ڈیٹا کے ساتھ ہی، یورو اور ڈالر (EURUSD) کی جوڑی بڑھ کر 1.1550 کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔

یورو کی اس مضبوطی کی ایک اور بڑی وجہ یورپی سنٹرل بینک (ECB) کی آنے والی پالیسی میٹنگ ہے۔ مارکیٹ کو قوی امید ہے کہ ای سی بی (ECB) جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں تقریباً تین سالوں میں پہلی بار اپنی بنیادی سود کی شرح میں اضافہ کرے گا۔ سود کی شرح میں یہ متوقع اضافہ یورو کی مانگ کو بڑھا رہا ہے. اور یہی وجہ ہے کہ US Dollar Index retreats from two-month high کے ماحول میں یورو سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

برطانوی پاؤنڈ اور جاپانی ین کی مارکیٹ موومنٹ

برطانوی پاؤنڈ (GBPUSD) اپنی تین ہفتوں کی کم ترین سطح سے شاندار واپسی کرتے ہوئے 1.3350 سے اوپر نکل گیا ہے۔ ڈالر کی عمومی کمزوری اور برطانیہ کے مثبت معاشی اشاریوں نے پاؤنڈ کو آگے بڑھنے میں مدد دی ہے۔ ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) کے مطابق، اگر پاؤنڈ 1.3380 کی مزاحمتی سطح (Resistance Level) کو عبور کرتا ہے. تو یہ مزید اوپر جا سکتا ہے۔

دوسری طرف، جاپانی ین (USD/JPY) 160.15 کے آس پاس مستحکم ہے۔ جاپانی مارکیٹ میں اس وقت شدید تناؤ پایا جاتا ہے. کیونکہ جاپان کی وزیرِ خزانہ ستسوکی کاتایاما (Satsuki Katayama) نے واضح کیا ہے. کہ حکومت ملکی کرنسی کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے کسی بھی وقت فاریکس مارکیٹ میں براہِ راست مداخلت (FX intervention) کر سکتی ہے۔ بڑے سرمایہ کار اور انسٹی ٹیوشنز (institutional investors) اس سطح پر نئی پوزیشنز لینے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی 160.00 کی سطح پر جاپانی بینک نے بڑی مداخلت کی تھی۔

سونے کی قیمتوں میں استحکام اور مستقبل کا آؤٹ لک

عالمی مارکیٹ میں سونا (Gold) اس وقت $4,340 فی اونس کے قریب معمولی اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ عام طور پر جب US Dollar Index کمزور ہوتا ہے، تو سونے کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں. لیکن اس بار ایسا نہیں ہو رہا۔ سونا اب بھی 24 مارچ کے بعد اپنی سب سے کم ترین سطح کے قریب موجود ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تناؤ میں کمی نے سونے کی محفوظ پناہ گاہ (Safe-haven) کی حیثیت کو عارضی طور پر کم کیا ہے. اور دوسری طرف امریکہ میں شرح سود بڑھنے کے بڑھتے ہوئے امکانات نے سونے کے خریداروں کو محتاط کر دیا ہے۔ چونکہ سونے پر کوئی سود نہیں ملتا. اس لیے جب سود کی شرحیں بڑھتی ہیں. تو بڑے سرمایہ کار سونے کے بجائے بانڈز (Bonds) میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

آپ کا اس مارکیٹ موومنٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ US Dollar Index دوبارہ اپنی بلند ترین سطح پر واپس آئے گا. یا ای سی بی کا فیصلہ یورو کو مزید مضبوط کرے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button