Stocks Overview

سینڈک ریکوڈک پروجیکٹ کی پاکستانی معیشت کیلئے اہمیت

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران لوگوں نے بھولے بسرے سینڈک ریکوڈک منصوبے کا نام دوبارہ سنا ہے۔ 1960ء کے عشرے سے صوبہ بلوچسٹان کے ایرانی سرحد پر واقع آخری پاکستانی شہر تفتان کی حدود شروع ہونے سے پہلے ریکوڈک منصوبے کا بورڈ تو پاکستانی بلوچستان کے اکثر شہریوں نے دیکھا ہے تاہم مخصوص افراد کے علاوہ کسی کو یہاں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک طویل عرصے سے سننے میں آ رہا ہے کہ یہاں پر سونے، چاندی اور تانبے کے وسیع ذخائر ہیں اور ان کی کان کنی سے نہ صرف بلوچستان بلکہ سارے پاکستان کی ہی قسمت بدلنے والی ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ 62 سال سے بلند و بانگ دعووں کے باوجود یہاں سے کتنا سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں نکالی گئی ہیں۔ انہیں کہاں Purify کیا گیا اور بیچا کدھر گیا ہے۔ اور مزید یہ کہ آخر اس سے ملک کی قسمت کیوں نہیں بدلی جس طرح سونے کی دریافت نے جنوبی افریقہ کے شہریوں کی حالت بدل دی تھی کیونکہ ادھر تو سونے کی کئی اقسام کے علاوہ چاندی، تانبا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ حال ہی میں جاری کی گئی عالمی معاشی ادارے IMF کی رپورٹ میں اس پروجیکٹ کے بارے میں کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سینڈک اور ریکوڈک کی پہاڑیوں میں IMF اور دیگر معاشی اداروں کی طرف سے جاری کی جانیوالی رپورٹس کے مطابق یہاں 5.9 ارب ٹن تانبا (Copper) , 20.9 ملیئن اونس گولڈ جبکہ چاندی اور دیگر نایاب دھاتیں بھی موجود ہیں جو کہ تانبے اور گولڈ کے دنیا میں سب سے بڑے جبکہ چاندی کے تیسرے بڑے ذخائر ہیں۔ عالمی ادارہ برائے کان کنی (World Mining and Metals Extraxtion) کے مطابق ریکوڈک کرہ ارض میں روس سے شروع ہونیوالی یوریشیائی میٹلز پلیٹ کی Extension ہے جہاں نایاب دھاتوں کی بہتات ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن معدنیات اور قیمتی دھاتوں سے مالا مال یہ ایریا معاشرتی اعتبار سے ملک کا سب سے پسماندہ اور غریب علاقہ ہے۔ یہاں کے مقامی افراد کی اکثریت بکریوں کے ریوڑ چراتی نظر آتی ہے اور وہ دنیا کے سب سے بڑے ذخائر سے بے نیاز انتہائی مشکل حالات میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

پروجیکٹ پر اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

1962ء سے 1990ء تک یہ منصوبہ صرف سینڈک تک محدود تھا اور پاکستانی سیاست کی نذر ہوتا ہوا بیورو کریسی کی فائلوں میں بند رہا۔ اس پر عملی طور پر کام کا آغاز سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو (مرحومہ) کے دور میں 1990ء میں شروع کیا گیا جس میں ایک چینی کمپنی کو تانبے، سونے اور دیگر معدنیات کے لئے کھدائی ، نایاب دھاتوں کی purification ، پانی کی فراہمی اور ملازمین کی رہائش گاہوں کے انتظام کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ لیکن حیران کن طور پر اس پر ابتدائی سطح کے کام کے بعد بھی یہ پروجیکٹ اگلے تین سال کے دوران سیاسی عدم استحکام کے باعث تعطل کا شکار رہا۔ 1995ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں اس پر دوبارہ کام شروع ہوا اور آزمائشی بنیادوں پر 15 سو میٹرک ٹن تانبا، گولڈ اور چاندی نکالے گئے۔ لیکن اس پر کام آزمائشی کان کنی سے آگے نہ بڑھ پایا۔ اور پھر سے تعطل کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں ملک کے سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2003ء میں اس پروجیکٹ پر کام بحال ہوا اور چینی کمپنی MRDL نے اپنے کام کا دوبارہ کان کنی شروع کی۔ سینڈک پروجیکٹ میں تاحال کن کنی اور صفائی کا انتظام اسی کمپنی کے پاس ہے۔ دوسری طرف ریکوڈک پروجیکٹ 1993ء میں اینگلو آسٹریلین کمپنی BHP Billton اور حکومت بلوچستان کے درمیان معاہدے کے بعد اسی انداز کی سست روی کا شکار رہا۔

اس پروجیکٹ میں ڈرامائی موڑ اسوقت آیا جب 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد BHP Bilton نے اس پروجیکٹ میں اپنا 75 فیصد حصہ دو کمپنیوں کو فروخت کر دیا جن میں چلی کی Antofagasta اور کینیڈا کی معروف مائننگ کمپنی Barrick Gold شامل ہیں (بیچے گئے شیئرز میں دونوں کمپنیاں برابر کی حصہ دار ہیں) . لیکن قانونی پیچیدگیاں یہیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ دونوں کمپنیوں نے جو کہ مشترکہ طور پر Tethyan Mining Corporation کی خریدار تھیں اور جنہوں نے اس پروجیکٹ کی آمدنی کے اپنے حصے کا تخمینہ 75 بلیئن امریکی ڈالر لگایا ہے ۔ یعنی اگلے 56 سال کے لئے 1.25 ارب ڈالر سالانہ 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد حکومت پاکستان نے دونوں کمپنیوں کا حصہ 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا جس پر BHP Billton کے سینڈک ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ کی دونوں شراکت دار کمپنیوں Antofagasta اور Barrick Gold نے 2011 میں التوا کے شکار منصوبے پر حکومت پاکستان پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف (International court of Justice) میں جانے کا اعلان کر دیا اور 9 سال سے زائد عرصے کے بعد بعد پاکستان کے خلاف 11 ارب ڈالر سے زائد کی رقم بطور یرجانہ حاصل کرنے کا کیس 2020 ء میں جیت لیا۔ تاہم ترک صدر طیب اردگان نے 2021ء میں دونوں کمپنیوں کو ترکی میں مائننگ کے کانٹریکٹس دے کر پاکستان کے ذمہ واجب الادا 11 ارب ڈالرز کے ہرجانے کی رقم کا تصفیہ کروایا۔ بعد ازاں انہیں کی درخواست ہر کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ اسی منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے اور 8.5 بلیئن ڈالرز کی اضافی سرمایہ کاری پر آمادہ ہو گئی۔ پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد موجودہ حکمران اتحاد نے بیرک گولڈ اور پاکستان کے درمیان ہونیوالے معایدے پر عمل درآمد کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی ریفرنس دائر کیا۔ جس کا فیصلہ 9 دسمبر 2022ء کو جاری کیا گیا اور آخرکار کئی عشروں پر محیط اس منصوبے کے عملی طور پر آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے جس کے بینیفشریز میں وفاق پاکستان، حکومت بلوچستان اور کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی شامل ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا گولڈ مائننگ پروجیکٹ

سینڈک ریکوڈک پروجیکٹ مجموعی طور پر دنیا کا سب سے بڑا گولڈ اینڈ کاپر مائننگ پروجیکٹ ہے۔ سینڈک میں Mining and Refining کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب تک 14136 ٹن تانبا اور 11033 کلو گرام گولڈ جبکہ 1706 کلو گرام چاندی نکالی جا چکی ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے Sandak Metal Limited اس منصوبے کی نگران ہے جبکہ چینی کمپنی اس میں برابر کی حصہ دار ہے۔ سینڈک اور ریکوڈک دراصل ایک ہی نوعیت کے دو مختلف پروجیکٹس ہیں لیکن انکے مجموعی ذخائر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ پاکستانی اور بلوچ عوام کی زندگیوں کو بدل سکتے ہیں اور آنیوالی نسلوں کی معاشی خوشحالی اور تابناک مستقبل کے ضامن ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کو سیاست اور کرپشن کی نذر نہ ہونے دیا جائے تا کہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسکے حقیقی ثمرات سے فیضیاب ہو سکے۔

 

Table of References 
1 Barrick Gold official website.  https://www.barrick.com/English/operations/reko-diq/default.aspx
2 USGS ( united states Gold Statistics official website) https://www.usgs.gov/centers/national-minerals-information-center/international-minerals-statistics-and-information
3 World Bank’s official website  Statistics about Sandak and Rekodiq project 
4 The News, Pakistan  https://www.thenews.com.pk/print/1014948-the-reko-diq-saga-economic-implications
5 Sandak Metals Limited  https://www.saindak.com.pk/

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button