پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
"امریکہ کی اکتوبر 2022ء کی durable goods orders رپورٹ جاری کر" کے لیے 1021 نتائج۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
معاشی دنیا میں آج کل ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ ڑھتی ہوئی Bond Yields اور Global Stocks پر اثرات کا یہ مرحلہ نہ صرف روایتی سرمایہ کاری کے اصولوں کو بدل رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹس میں ایک نئی بے یقینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔
US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
بٹ کوئن $84,499 پر مستحکم ہو رہا ہے جبکہ ڈیرائیوٹیوز مارکیٹ میں لیوریج کی صفائی کے بعد اب سپاٹ خریدار مارکیٹ کو سنبھال رہے ہیں۔ ایتھیریم $2,707 اور مقامی USDT/PKR ریٹ 276.94 روپے پر موجود ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی ڈالر انڈیکس 101.04 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ مرکزی بینکوں کے متضاد مانیٹری بیانات کے اثرات کرنسیوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔
پی آئی اے (PIA) کی طرف سے مالدیپ کے لیے براہ راست پروازوں کے اجراء کا اعلان نہ صرف ہوائی سفر کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے، بلکہ یہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کو بھی ایک نئی جہت عطا کرے گا
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پیشگوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 3.7 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔
عالمی سیاسی منظر نامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں نیویارک میں یو این جنرل اسمبلی (UN General Assembly) کا اجلاس جاری ہے۔ امریکی صدر Donald Trump اسوقت اس سے خطاب کر رہے ہین۔
اقوام متحدہ میں تہران کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنی فوجی کشدگی کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے، تو Strait of Hormuz کو صرف سات دن کے اندر بحال کیا جا سکتا ہے
دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ یعنی جی سیون (G7) کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کو عسکری امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی فوری طور پر بند کرے۔
عالمی معیشت اور فنانشل مارکیٹس میں ایک بار پھر ہلچل مچ چکی ہے کیونکہ واشنگٹن میں US China Trade Summit 2026 میں دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات کا مرحلہ آ گیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں