پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 277.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں مثبت حقیقی شرح سود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
"کروڈ آئل کی قیمتوں میں مسلسل کمی 103 ڈالر" کے لیے 1021 نتائج۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 277.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں مثبت حقیقی شرح سود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب اس شعبے سے متعلق اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹس کی سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔ US ISM Manufacturing PMI کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
وال اسٹریٹ میں Mag-7 ٹیکنالوجی دیو کی پیش قدمی جاری ہے۔ اینویڈیا اور ایپل کے ریکارڈز کے باعث انڈیکس تیزی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے جبکہ مالیاتی سیکٹر پیچھے رہ گیا ہے۔
یورو بمقابلہ امریکی ڈالر 1.1350 کی اہم حمایتی سطح نیچے توڑنے کے بعد 1.13403 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور معاشی تفاوت کے باعث کرنسی جوڑے پر مندی کا غلبہ ہے۔
بٹ کوئن کی قیمت 83,000 ڈالر کے نفسیاتی زون کے نیچے پھسل کر 82,989 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایتھیریم اور مقامی P2P مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک طویل اصلاحی فیز کا اشارہ دے رہے ہیں۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں ایک واضح 'اسٹیپننگ' کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل مدتی ییلڈز میں اضافہ جبکہ قلیل مدتی ییلڈز میں نسبتاً استحکام یا کمی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل میں معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ DXY میں کمی عالمی رسک سینٹیمنٹ میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستانی روپیہ آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ دن کے اوپن سے نیچے آ کر بند ہونا مارکیٹ میں کچھ استحکام کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن بنیادی دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 1.16% کی کمی کے ساتھ 170,885 پوائنٹس پر بند ہوا، جس نے پچھلے دن کی تیزی کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ مارکیٹ اب 166,200 کی اہم سپورٹ سطح کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے، جو آئندہ رجحان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں