پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
"یورپی اسٹاکس میں دوران ٹریڈ ملا جلا رجح" کے لیے 1037 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
فنانشل مارکیٹس میں اس وقت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، اور Global Stocks میں ایک زبردست مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جمعہ کے روز ایشیائی شیئڑ بازاروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ وال اسٹریٹ کے بہتر اثرات نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو نئی امید دی ہے۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ایشیائی اسٹاکس (Asian Stocks) نے وال اسٹریٹ (Wall Street) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مثبت رجحان کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیس ڈیک (Nasdaq) کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہونے والی تکنیکی ریلی (Tech-Fuelled Rally) نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کو سہارا دیا ہے
فنانشل مارکیٹس میں اس وقت ایک انتہائی دلچسپ اور اہم موڑ آ چکا ہے۔ جہاں ایک طرف خام تیل (crude oil) کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے عالمی معیشت بالخصوص European Stocks کو ایک نئی سانس دی ہے
عالمی مارکیٹس میں جب بھی مرکزی بینکوں کی طرف سے پالیسی بیانات آتے ہیں، سرمایہ کاروں میں بے یقینی بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ کے بیانات نے ایک بار پھر فاریکس اور بانڈز مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی معمولی گراوٹ کا رجحان برقرار رکھے ہوئے ہے، جو 277.72 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ عالمی ڈالر کی مستحکم پوزیشن اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی طلب کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.656 ارب ڈالر رہا۔ یہ کارکردگی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے
کینیڈا کی لیبر مارکیٹ میں ستمبر کے مہینے کے دوران نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں Canadian Unemployment Rate (کینیڈا کی ستمبر کی بے روزگاری کی شرح) میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فنانشل مارکیٹس میں روزگار کے اعداد و شمار (Employment Data) کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ حالیہ دنوں میں جاری ہونے والی US ADP Employment Revised کی رپورٹ نے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں