عالمی منڈی میں خام تیل کے بینچ مارک برینٹ کی قیمت 100 ڈالر کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے 99.63 ڈالر پر آ گئی ہے، جبکہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کا اسپرڈ گھٹ کر 11.13 ڈالر پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی نے سابقہ ڈائیورجنس تھیسس کو باطل کر دیا ہے۔
"bitcoin crossed 30 thousand psychological hurdle after 10 months" کے لیے 824 نتائج۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے بینچ مارک برینٹ کی قیمت 100 ڈالر کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے 99.63 ڈالر پر آ گئی ہے، جبکہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کا اسپرڈ گھٹ کر 11.13 ڈالر پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی نے سابقہ ڈائیورجنس تھیسس کو باطل کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد PSX Market Recovery کا عمل شروع ہو چکا ہے، جہاں بینچ مارک KSE100 انڈیکس نے سیشن کے ابتدائی منٹوں میں شاندار واپسی کرتے ہوئے 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.277% تک اضافے اور بینک آف جاپان کی نرم پالیسی کے باعث USD/JPY میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جہاں قیمت 157.815 پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 277.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں مثبت حقیقی شرح سود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں