امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
"indices news" کے لیے 546 نتائج۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
Ethereum نے $2,639 کی کلیدی حمایت کا دفاع کرنے کے بعد $2,715 پر ریکوری دکھائی ہے۔ دن کی حد $2,695 سے $2,736 کے درمیان رہنے کے بعد مارکیٹ میں Layer-2 لیکویڈیٹی اور تکنیکی استحکام کے اثرات نمایاں ہیں۔
بٹ کوئن (BTC/USD) نے پچھلے بریک آئوٹ کو برقرار رکھتے ہوئے 86,060 ڈالر کی سطح پر پیشرفت کی ہے۔ ایتھیریم اور پاکستانی P2P مارکیٹ میں کس طرح کے رجحانات قائم ہیں؟ جانئے مکمل مالیاتی جائزہ۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
امریکی 10 سالہ ییلڈز کے 5.277% پر قائم رہنے اور بینک آف جاپان کی نرم پالیسی کے باعث USD/JPY 157.730 کے قریب مضبوطی سے قائم ہے۔ جانئے بنیادی محرکات اور تکنیکی حدیں۔
پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں