پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
"pakistan stock exchange declined after postponment of provincial elections" کے لیے 951 نتائج۔
پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ڈے ٹریڈرز دونوں کو ایک بار پھر محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔
عالمی بانڈ مارکیٹ اسوقت ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے جسے Global Bonds Selloff کہا جا رہا ہے۔ امریکہ سے لے کر فرانس اور جاپان تک، حکومتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
موجودہ مالیاتی منظر نامے میں، پاکستان کی معیشتایک انتہائی اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر، ملک کے معاشی اشاریے ملے جلا رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔ جہاں Pakistan Public Debt FY26 میں اضافے کے ساتھ کل 86.72 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے ابتدائی سیشن کے دوران ایک زبردست واپسی دیکھی گئی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے گہری دلچسپی کے باعث KSE100 انڈیکس میں 1,600 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں