اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
"pakistani monetary policy announced as interest rate sustained unchanged" کے لیے 902 نتائج۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں ڈالر انڈیکس 101.92 پر مستحکم رہا جبکہ EUR/USD، GBP/USD اور USD/JPY میں مختلف رجحانات دیکھے گئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR کی تازہ ترین صورتحال کا مکمل تجزیہ۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.277% تک اضافے اور بینک آف جاپان کی نرم پالیسی کے باعث USD/JPY میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جہاں قیمت 157.815 پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
EUR/USD کی قیمت 1.12517 کے زون پر مستحکم ٹریڈ کر رہی ہے۔ ڈالر انڈیکس میں 101.92 کے قریب محدود تحرک اور انٹرسٹ ریٹ ڈیفرینشل کے استحکام نے یورو کو 1.12500 کی حمایتی سطح سے اوپر سہارا دیا ہوا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
اسٹیٹسٹکس بیورو آف جاپان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں ٹوکیو کا کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد بڑھ گیا، جو کہ گزشتہ مہینے میں 1.9 فیصد تھا۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تعطل اور استحکام کا رجحان جاری ہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی پر سخت کنٹرول اور پالیسی اقدامات کی بدولت برینٹ 96.42 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں