پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر بے یقینی کا بادل چھایا ہوا ہے۔ سیاسی محاذ پر بڑھتے ہوئے تناؤ اور عالمی سطح پر جغرافیائی خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل نظر آ رہا ہے
"research" کے لیے 10 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر بے یقینی کا بادل چھایا ہوا ہے۔ سیاسی محاذ پر بڑھتے ہوئے تناؤ اور عالمی سطح پر جغرافیائی خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل نظر آ رہا ہے
پاکستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے اور روایتی درآمدات سے آگے بڑھ کر مقامی پیداوار، مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، حالیہ دنوں میں Pakistan Russia Agricultural Cooperation کے تحت انتہائی اہم مذاکرات کا آغاز کیا گیا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں اس وقت USDCHF کی قدر میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے آج عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ سوئس نیشنل بینک کے متوقع فیصلے اور امریکی معاشی اعشاریوں پر مرکوز ہے
حالیہ دنوں میں، بلاک چین کے ماہرین نے ایک اہم پیش رفت کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق دیوالیہ ہو جانے والے ادارے ایف ٹی ایکس (FTX) اور المیڈا ریسرچ (Alameda Research) سے وابستہ والٹس سے تقریبا پچھتر ملین ڈالر مالیت کا ایتھیریئم (ETH) معروف مارکیٹ میکر فرم "ونٹر میوٹ" (Wintermute) کو منتقل کیا گیا ہے۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
معاشی دنیا میں اس وقت سب سے بڑی بحث کا محور Bitcoinہے، جو 80 ہزار ڈالر کی اہم نفسیاتی سطح کو چھونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 27 فیصد اضافے نے سرمایہ کاروں میں ایک نئی امید پیدا کی ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 176,846 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 0.44% کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔ سرمایہ کار آئندہ مارکیٹ رجحانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں