بٹ کوئن کی قیمت 83,000 ڈالر کے نفسیاتی زون کے نیچے پھسل کر 82,989 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایتھیریم اور مقامی P2P مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک طویل اصلاحی فیز کا اشارہ دے رہے ہیں۔
"south korea and block chain tokens government spending" کے لیے 794 نتائج۔
بٹ کوئن کی قیمت 83,000 ڈالر کے نفسیاتی زون کے نیچے پھسل کر 82,989 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایتھیریم اور مقامی P2P مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک طویل اصلاحی فیز کا اشارہ دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
USD/JPY اس وقت 156.74 کے قریب trade کر رہا ہے۔ جاپانی ین پر دباؤ برقرار ہے۔ US Dollar کی مضبوطی pair کی سمت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ Bank of Japan کی پالیسی بھی اہم ہے۔ 157.30 اہم resistance ہے۔ 158.00 کے اوپر مزید مضبوطی دیکھی جا سکتی ہے۔ 156.50 اہم support ہے۔ 156.00 کے نیچے کمزوری بڑھ سکتی ہے۔
پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) نے 1.3200-1.3250 کے کلیدی حمایتی زون کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ برطانیہ میں 3.10 فیصد کی سی پی آئی افراط زر اور بینک آف انگلینڈ کے سخت موقف کے باعث کیبل میں پیش قدمی کا امکان بڑھ رہا ہے۔
مالیاتی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک Goldman Sachs نے اپنے تقریباً 100 بلین ڈالر کے ٹریژری فنڈ کو انسٹی ٹیوشنل کرپٹو فرموں کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب U.S. spot Solana Exchange Traded Funds (Solana ETF) نے ایک ہفتے کے دوران ریکارڈ $188 ملین (188 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری حاصل کی
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں