US-EU Tariff Deal کے بعد کیا US China Trade Deal ممکن ہے؟
A 15% tariff pact with EU may pressure China into a US China Trade Deal
امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان US-EU Tariff Deal عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے. جو نہ صرف امریکی ریونیو میں اضافہ کرے گا بلکہ عالمی تجارتی توازن کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا یہی حکمت عملی US China Trade Deal کے لیے بھی کارگر ثابت ہو سکتی ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق US-EU Tariff Deal کے ساتھ معاہدہ امریکہ کی تجارتی حکمت عملی کی بڑی فتح ہے. مگر اصل امتحان اب چین کے ساتھ ہے۔ اگر US China Trade Deal کامیاب ہو گئی تو یہ عالمی معیشت کے لیے نئی صبح کی نوید ہو سکتی ہے۔
خلاصہ: اہم نکات
-
امریکہ اور یورپی یونین نے 15 فیصد Tariff پر اتفاق کر لیا۔
-
صدر ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر کے درمیان براہ راست ملاقات کے بعد یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
-
اس معاہدے سے امریکی معیشت کو 90 ارب ڈالر کا اضافی ریونیو متوقع ہے۔
-
امریکی مارکیٹ میں 600 ارب ڈالرز کی نئی سرمایہ کاری کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے۔
-
یہ معاہدہ US China Trade Deal کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے، لیکن بیجنگ کا رویہ اب بھی سخت ہے۔
-
امریکہ اور چین کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور سوئیڈن میں ہونے جا رہا ہے۔
-
اگر چین نرم موقف اختیار نہ کرے تو عالمی تجارت ایک بار پھر Global Trade War بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
US-EU Tariff Deal کا پسِ منظر
تجارتی محاذ پر کئی ماہ کی کشمکش کے بعد، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان بالآخر ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے. جو امریکی اقتصادی پالیسی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یورپی مصنوعات پر 15 فیصد Tariff کے نفاذ سے امریکی حکومت کے خزانے کو ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے. جو صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں شامل تھا۔
صدر ٹرمپ کی ذاتی شمولیت اور تجارتی فتوحات
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ کی براہ راست شرکت سے کوئی معاہدہ ممکن ہوا ہو۔ ان کی فعال سفارت کاری کی بدولت امریکہ پہلے ہی جاپان، برطانیہ، انڈونیشیا اور کمبوڈیا جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر چکا ہے۔ اب یورپی یونین جیسے 27 ملکی اتحاد کے ساتھ یہ Tariff Deal صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
اثرات: امریکی معیشت کو نئی سمت
US-EU Tariff Deal امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ٹیرف سے حاصل ہونے والا 90 ارب ڈالر کا ریونیو اور 600 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری امریکی معیشت کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔
اب نظریں US China Trade Deal پر
یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے بعد امریکہ کی نگاہیں اب چین پر مرکوز ہیں۔ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں. لیکن واشنگٹن میں امید ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ کامیابی چین کو بھی نرمی اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا تاثر دیا. لیکن عملی طور پر بیجنگ کا رویہ اب تک خاصا غیر لچکدار رہا ہے۔ خاص طور پر Rare Earth Metals کی برآمدات، ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے شعبوں میں اختلافات ابھی باقی ہیں۔
تجارتی مذاکرات کا اگلا دور: فیصلہ کن مرحلہ
سوموار اور منگل کو سوئیڈن میں ہونے والا US China Trade Deal کے حوالے سے تیسرا دور انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کی رائے میں یہ مذاکرات یا تو ایک نیا معاہدہ سامنے لا سکتے ہیں. یا پھر عالمی معیشت کو مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
یورپی یونین کے ساتھ کامیابی سے واشنگٹن نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور قیادت مضبوط ہو تو پیچیدہ تجارتی مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن چین کے ساتھ معاملات اتنے سادہ نہیں۔ اگر US China Trade Deal کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف صدر ٹرمپ کے لیے ایک تاریخی کارنامہ ہو گا بلکہ عالمی مارکیٹس میں ایک نیا باب بھی رقم ہو گا۔
Source: Reuters News Agency: https://www.reuters.com/
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



