US CPI ڈیٹا، ٹرمپ کی Chairman Fed پر تنقید اور ڈالر پر اثرات: مارکیٹ کے لیے ایک اہم اشارہ

Lower-than-expected inflation and political pressure on the Fed raise uncertainty for global investors

جولائی کا US CPI Data جاری ہوتے ہی عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی. کیونکہ اس ڈیٹا نے افراط زر (Inflation) کے بارے میں ماہرین کی پیش گوئیوں کو مات دے دی۔ اس دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے Chairman Fed جیروم پاول (Jerome Powell) پر شدید تنقید اور قانونی کارروائی کی دھمکی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

اس صورتحال نے نہ صرف US Dollar کی قدر پر دباؤ ڈالا. بلکہ مرکزی بینک (Central Bank) کی آزادی (Independence) پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ آرٹیکل ان تمام واقعات کا تجزیہ کرے گا .اور بتائے گا کہ اس کا پاکستانی اور عالمی فنانشل مارکیٹس پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

خلاصہ

  • CPI کی پیش گوئی سے کم آمد: US CPI Data کے مطابق  جولائی میں افراط زر 2.7% رہی. جو 2.8% کی پیش گوئی سے کم تھی۔ اس نے فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (interest rate) میں کمی کی امیدوں کو بڑھا دیا. جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر (US Dollar) کی قدر میں کمی آئی۔

  • ٹرمپ کی جانب سے پاول پر حملے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Chairman Fed جیروم پاول (Jerome Powell) پر شدید تنقید کی. اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی. جس سے فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی آزادی (independence) پر خدشات پیدا ہوئے۔

  • فیڈ کی آزادی اور ڈالر کا تعلق: مرکزی بینک (Central Bank) کی آزادی (Independence) کا کمزور ہونا کرنسی مارکیٹ (Currency Market) کے لیے بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے. کیونکہ یہ مارکیٹ کے اعتماد کو متزلزل کرتا ہے. اور سرمایہ کار (Investors) ڈالر کو کم عدم استحکام کا شکار سمجھتے ہیں۔

  • مارکیٹ پر گہرا اثر: اس صورتحال سے امریکی ڈالر (US Dollar) میں مزید کمزوری آ سکتی ہے. جبکہ سونا (Gold) اور دیگر کرنسیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال اہم ہے. کیونکہ ڈالر کی قدر میں کمی سے درآمدات (Imports) کی لاگت میں فرق پڑ سکتا ہے۔

  • آگے کیا؟ مارکیٹ اب فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے اگلے اجلاس (Meeting) اور جیروم پاول (Jerome Powell) کے بیانات کا انتظار کر رہی ہے. تاکہ ان کی پالیسی کی سمت کو سمجھا جا سکے۔

کنزیومر پرائس انڈیکس (Consumer Price Index – CPI) کیا ہے؟

کنزیومر پرائس انڈیکس یا CPI وہ پیمانہ ہے جو صارفین (Consumers) کی جانب سے خریدی جانے والی اشیاء اور خدمات کی اوسط قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مہنگائی (افراط زر) کا ایک اہم انڈیکیٹر ہے. اور مرکزی بینک (Central Bank) اپنی مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) بنانے کے لیے اس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر CPI بڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے. اور اگر یہ کم ہوتا ہے تو مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔

جولائی میں جاری ہونے والے US CPI Data کے مطابق، افراط زر کی سالانہ شرح 2.7% رہی. جو ماہرین کی 2.8% کی پیش گوئی سے کم تھی۔ یہ ایک ایسا اشارہ تھا جو مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے غیر متوقع تھا۔

جب مہنگائی (inflation) کی شرح کم ہوتی ہے، تو عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرکزی بینک کو شرح سود (Interest Rate) کو مزید بڑھانے کی ضرورت نہیں. بلکہ وہ اس میں کمی کر سکتا ہے۔ اس خبر نے ڈالر کے خریداروں کو مایوس کیا .اور فیوچرز مارکیٹ (Futures Market) میں شرح سود (Interest Rate) میں کمی کے امکانات کو بڑھا دیا۔

ٹرمپ کی دھمکی اور فیڈرل ریزرو کی آزادی (Independence) کا مسئلہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے جیروم پاول (Jerome Powell) پر کیا تنقید کی؟  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جیروم پاول پر شدید حملہ کیا اور ان کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو "نااہل” قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی. کہ وہ پاول کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں۔

یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی شرح سود (Interest Rate) کی پالیسی پر پہلے ہی بحث چل رہی تھی۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ پاول نے شرح سود (interest rate) کو بہت زیادہ دیر تک بلند رکھا. جس نے معیشت کی رفتار کو سست کیا۔

مرکزی بینک (Central Bank) کی آزادی (Independence) کیوں ضروری ہے؟

مرکزی بینک (Central Bank) کی آزادی (Independence) اس لیے بہت اہم ہے. کیونکہ یہ اسے سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر مرکزی بینک حکومت یا کسی بھی سیاسی جماعت کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنا شروع کر دے، تو اس کی ساکھ (Credibility) ختم ہو جاتی ہے۔

جب مارکیٹ کو یہ یقین ہو کہ مرکزی بینک غیر جانبدارانہ (Impartial) فیصلے لے رہا ہے. تو سرمایہ کار (Investors) اور کاروباری افراد (Businesses) اس کی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ سیاسی مداخلت اس اعتماد کو کم کرتی ہے. جس سے مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی (Uncertainty) اور اتار چڑھاؤ (Volatility) پیدا ہوتا ہے۔

میں نے اپنی 10 سالہ مارکیٹ کیریئر میں دیکھا ہے کہ جب بھی کسی ملک کے مرکزی بینک کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے. تو اس کی کرنسی (Currency) پر فوری منفی اثر پڑتا ہے۔ ایک بار ایک ابھرتی ہوئی معیشت (Emerging Economy)  ترکی کے صدر نے مرکزی بینک کو عوامی طور پر شرح سود کم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس کے نتیجے میں مقامی کرنسی میں راتوں رات 25% سے زیادہ کی گراوٹ آئی. کیونکہ عالمی سرمایہ کاروں (Global Investors) نے فورا اس ملک سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض ایک تصور نہیں ہے. بلکہ یہ کرنسی کی ساکھ اور استحکام (Stability) کی بنیاد ہے۔

ڈالر (US Dollar) پر اثرات اور آگے کا منظر

US CPI Data اور ٹرمپ کی تنقید کا مجموعی اثر ڈالر (US Dollar) کی قدر میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جب توقع سے کم مہنگائی (Inflation) رپورٹ ہوتی ہے، تو فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے لیے شرح سود (Interest Rate) بڑھانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے یا وہ اسے کم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ اس سے ڈالر کم پرکشش ہو جاتا ہے. کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع (Return) کی تلاش میں دوسری کرنسیوں یا اثاثوں (Assets) کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

  • ڈالر میں کمزوری: اس وقت ڈالر پر دو طرفہ دباؤ ہے۔ پہلا، معاشی ڈیٹا (Economic Data) جو شرح سود میں کمی کا اشارہ دے رہا ہے. اور دوسرا، Chairman Fed کے خلاف سیاسی مداخلت کا خطرہ جو مارکیٹ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہا ہے۔

  • سونے (Gold) اور دوسری کرنسیوں کو فائدہ: ڈالر میں کمزوری عموما سونے کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جسے سرمایہ کار غیر یقینی (Uncertainty) کے دور میں ایک محفوظ ٹھکانہ (safe haven) سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یورو (Euro) اور جاپانی ین (Japanese Yen) جیسی بڑی کرنسیوں کو بھی ڈالر کی کمزوری کا فائدہ مل سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی: کیا توقع کی جائے؟

اب مارکیٹ کی نظریں فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔ خاص طور پر Chairman Fed جیروم پاول (Jerome Powell) کی اگلی پریس کانفرنس اور اس میں دیئے گئے بیانات بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔ کیا وہ فیڈ کی آزادی (Independence) کا دفاع کریں گے؟ کیا وہ مستقبل کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کے بارے میں کوئی نیا اشارہ دیں گے؟

پاکستانی ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کو اس صورتحال کو بغور دیکھنا چاہیے۔ ڈالر کی عالمی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پاکستانی روپے (Pakistani Rupee) پر پڑتا ہے۔ اگر ڈالر مزید کمزور ہوتا ہے تو یہ درآمدات (Imports) کو سستا کر سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر مقامی معیشت (Local Economy) پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

حرف آخر.

جولائی کا US CPI Data اور ٹرمپ کی سیاسی مداخلت دونوں نے عالمی مارکیٹوں کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اگرچہ CPI کی کمزوری ایک اچھی خبر کی طرح لگتی ہے. لیکن اس کے ساتھ سیاسی مداخلت کا عنصر شامل ہونے سے صورتحال غیر یقینی بن گئی ہے۔

فیڈرل ریزرو کی آزادی مالیاتی استحکام (Financial Stability) کی بنیاد ہے. اور اس پر کسی بھی قسم کا حملہ ڈالر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ اب محتاط ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے. کہ اس ہنگامی صورتحال کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈرل ریزرو اپنی آزادی برقرار رکھ پائے گا، یا سیاسی دباؤ بالاآخر اس کی پالیسی کو تبدیل کر دے گا؟

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button