Australian Dollar کی کمزوری: امریکہ کا معاشی ڈیٹا اور تجارتی کشیدگی.
Analyzing AUD Trends, US Dollar Strength, and Global Trade Impacts
کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ روزمرہ کا معمول ہے. لیکن کچھ رجحانات مستقبل کے بڑے اشارے دے سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں، Australian Dollar کی کمزوری نمایاں رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی ہے۔ یہ آرٹیکل آپ کو ان وجوہات کا گہرا تجزیہ فراہم کرے گا. اور مستقبل کے ممکنہ رجحانات پر روشنی ڈالے گا۔ ہم نہ صرف ‘کیا’ اور ‘کیوں’ کے سوالات کا جواب دیں گے. بلکہ ‘آئندہ کی سمت’ پر بھی بات کریں گے.
اہم نکات.
-
Australian Dollar کی کمزوری: Australian CPI Report کے بعد AUD میں کمی آئی. جبکہ امریکی ڈالر (USD) نے اپنی حالیہ گراوٹ سے واپسی کی۔
-
امریکی ڈیٹا کا اثر: توجہ اب امریکہ کے اہم اقتصادی ڈیٹا جیسے کہ پی سی ای (PCE) پر مرکوز ہے. جسے فیڈ (Fed) افراط زر کے لیے ترجیح دیتا ہے۔ مضبوط ڈیٹا فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسی کو سخت کرنے کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
-
تجارتی کشیدگی اور جیومیٹرکس: چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کا براہ راست اثر Australian Dollar پر پڑتا ہے. کیونکہ آسٹریلیا کی معیشت چین سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔
-
آر بی اے (RBA) کا نقطہ نظر: ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے. کہ وہ مستقبل میں شرح سود میں مزید کمی پر غور کر سکتے ہیں، جو آسٹریلین ڈالر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
-
ٹیکنیکل تجزیہ (Technical Analysis): ٹیکنیکل چارٹ کے مطابق، اگر آسٹریلین ڈالر 0.6500 کی سطح کو توڑتا ہے تو اس میں تیزی کا رجحان آ سکتا ہے، لیکن اہم سپورٹ لیولز کو کھونا مزید گراوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔
Australian Dollar کی کمزوری کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
Australian Dollar کی کمزوری کئی عوامل کا نتیجہ ہے، لیکن سب سے اہم حالیہ مہنگائی (Inflation) ڈیٹا اور امریکی ڈالر کا ریباؤنڈ ہے۔ آسٹریلیا کا Monthly Consumer Price Index (CPI) جولائی میں 2.8 فیصد تک بڑھا. جو توقعات سے کم تھا۔ اس ڈیٹا نے مارکیٹ کے ان خدشات کو بڑھا دیا. کہ آسٹریلیا کی معاشی بحالی سست ہے۔ جب کسی ملک کا مہنگائی کا ڈیٹا توقع کے مطابق نہیں آتا. تو اس کی کرنسی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے. کیونکہ یہ سینٹرل بینک کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی پیدا کرتا ہے۔
امریکی ڈالر میں واپسی کیوں ہو رہی ہے؟
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) نے اپنی حالیہ گراوٹ کو پلٹتے ہوئے مضبوطی دکھائی ہے. اور اس کی بڑی وجہ مارکیٹ کی توجہ آئندہ امریکی اقتصادی ریلیز پر ہے۔
خاص طور پر، سرمایہ کار Q2 Gross Domestic Product (GDP) اور July Personal Consumption Expenditures (PCE) Price Index ڈیٹا کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پی سی ای (PCE) کو فیڈ (Fed) افراط زر (Inflation) کا پسندیدہ پیمانہ سمجھتا ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات سے زیادہ آتے ہیں، تو یہ فیڈ کو اپنی پالیسی کو سخت رکھنے کی ترغیب دے گا، جس سے امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوگا۔
حال ہی میں، امریکی ملازمت کی Initial Jobless Claims میں اضافہ ہوا ہے. جو کہ لیبر مارکیٹ میں کچھ سست روی کا اشارہ ہے۔ اس کے باوجود، S&P Global US Composite PMI جیسے دیگر اشارے امریکی معیشت کی مضبوطی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ مخلوط ڈیٹا فیڈ کے لیے فیصلہ سازی کو پیچیدہ بنا رہا ہے. اور اسی غیر یقینی کی فضا میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
عالمی تجارتی کشیدگی اور اس کا AUD پر اثر
عالمی تجارتی تعلقات، خاص طور پر چین اور امریکہ کے درمیان، آسٹریلین ڈالر کی قیمت پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 200 فیصد ٹیرف (Tariff) لگانے کی دھمکی جیسی خبریں مارکیٹ میں تجارتی جنگ کے خوف کو بڑھاتی ہیں۔
چونکہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے. لہذا چین کی معیشت میں کوئی بھی گڑبڑ براہ راست آسٹریلیا کی برآمدات اور اس کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب Global Trade War بڑھتی ہے. تو آسٹریلین ڈالر جیسی رسک سے حساس کرنسیوں (Risk-Sensitive Currencies) کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔
جب میں ٹریڈنگ کا آغاز کر رہا تھا، مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ کچھ کرنسیوں کا آپس میں براہ راست تعلق کیوں ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2018 کی تجارتی جنگ کے دوران AUDUSD اور USDCNY کے چارٹس کا گہرا مطالعہ کرنا پڑا تھا۔
میں نے خود دیکھا کہ جیسے ہی امریکہ اور چین کے درمیان کوئی منفی خبر آتی، AUD پر فوری دباؤ پڑتا۔ اس تجربے نے مجھے سکھایا کہ بین الاقوامی تعلقات کو صرف سیاسی خبریں نہیں سمجھنا چاہیے. بلکہ یہ کرنسیاں ٹریڈ کرنے والوں کے لیے ایک کلیدی معاشی اشارہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ محض اکنامک کیلنڈر دیکھنا کافی نہیں. بلکہ عالمی سیاسی منظرنامے پر بھی گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
ٹیکنیکل آؤٹ لک: Australian Dollar کا مستقبل کا راستہ
ٹیکنیکل تجزیہ (Technical Analysis) کے مطابق، Australian Dollar کا مستقبل کا راستہ کئی اہم سطحوں پر منحصر ہے۔ روزانہ کے چارٹ کے مطابق AUDUSD جوڑا 0.6500 کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. اور 9-day EMA سے اوپر ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تیزی (Bullish) کی علامت ہے۔
-
اوپری سمت (Upside): اگر یہ جوڑا 0.6500 کی نفسیاتی سطح کو کامیابی سے توڑتا ہے. تو یہ 0.6568 (اگست کی بلند ترین سطح) اور اس کے بعد 0.6625 (جولائی کی بلند ترین سطح) کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
-
نچلی سمت (Downside): فوری سپورٹ 50-day EMA 0.6494 اور 9-day EMA 0.6482 پر موجود ہے۔ اگر یہ سطحیں ٹوٹ جاتی ہیں تو یہ جوڑا دوبارہ Descending Channel میں داخل ہو کر 0.6414 (دو ماہ کی کم ترین سطح) کو ہدف بنا سکتا ہے. اور مزید گراوٹ 0.6372 (تین ماہ کی کم ترین سطح) تک لے جا سکتی ہے۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میں ہمیشہ ٹیکنیکل اور بنیادی تجزیے (Fundamental Analysis) کو ملا کر دیکھتا ہوں۔ ان سطحوں کو محض نمبرز نہیں سمجھنا چاہیے. بلکہ یہ وہ پوائنٹس ہیں جہاں بڑے پیمانے پر خرید و فروخت کا دباؤ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، 0.6500 صرف ایک نمبر نہیں ہے. بلکہ یہ ایک نفسیاتی سطح ہے جہاں اکثر مارکیٹ کا رجحان بدل سکتا ہے۔

حرف آخر.
Australian Dollar کی کمزوری ایک پیچیدہ رجحان ہے جو آسٹریلیا کی مقامی مہنگائی، امریکہ کی معاشی ریلیز اور عالمی تجارتی تعلقات کا مرکب ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی، خاص طور پر فیڈ کی پالیسی اور پی سی ای (PCE) ڈیٹا کی غیر یقینی کی وجہ سے، Australian Dollar پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی حساسیت AUD کو عالمی واقعات کے لیے مزید کمزور بناتی ہے۔
مارکیٹ کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ کبھی بھی ایک سیدھے راستے پر نہیں چلتی۔ کامیابی کا راز صرف ڈیٹا کو جاننا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کی کہانی کو سمجھنا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ کے تجربے میں، میں نے یہ سیکھا ہے کہ مارکیٹ کے شور میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ عوامل تلاش کیے جائیں جو طویل مدت میں قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ اس وقت، یہ عوامل امریکی معاشی اعداد و شمار کی مضبوطی اور عالمی تجارتی ماحول ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ اس صورتحال میں Australian Dollar کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی جاری رہے گی یا پھر Aussie Dollar اپنی حالیہ کمزوری سے باہر آئے گا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



