AUDUSD کا منظرنامہ: مزید فوائد کیوں ممکن ہیں؟
Aussie Rebounds Strongly Amid US Dollar Weakness and China’s Deflation Concerns
AUDUSD کرنسی جوڑا تیزی سے اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے. جس نے 0.6600 کی اہم سطح کو عبور کرتے ہوئے نومبر 2024 کے آغاز کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ یہ مضبوط تیزی ایسے وقت میں آئی ہے. جب امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے. اور سرمایہ کار چین میں افراط زر کے دباؤ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مارکیٹ میں موجود سینئر تجزیہ کاروں کے طور پر، ہم اس بات کی گہرائی میں تحقیق کریں گے. کہ یہ تیزی کیوں ہو رہی ہے. اور مستقبل میں اس کی کیا سمت ہو سکتی ہے۔ اس مضمون کا مقصد نہ صرف موجودہ صورتحال کو سمجھانا ہے. بلکہ وہ بنیادی عوامل بھی بیان کرنا ہے. جو مستقبل میں AUDUSD کے راستے کا تعین کریں گے۔
اہم نکات
-
AUDUSD میں تیزی: AUDUSD جوڑا 0.6600 کی سطح کو عبور کر گیا ہے. جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور آسٹریلوی معیشت کی غیر متوقع لچک ہے۔
-
امریکی ڈالر کی کمزوری: امریکہ میں کمزور پیداواری قیمتوں کا ڈیٹا اور گرتی ہوئی پیداوار (Yields) فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں مزید کمی کے امکانات کو بڑھا رہے ہیں. جو ڈالر کو کمزور کر رہا ہے۔
-
آسٹریلوی معیشت کی مضبوطی: آسٹریلیا میں افراط زر کا برقرار رہنا، مینوفیکچرنگ (Manufacturing) اور خدمات کے شعبوں میں مضبوطی، اور ایک لچکدار لیبر مارکیٹ نے ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کو زیادہ جارحانہ ریٹ کٹس سے روکا ہوا ہے۔
-
چین کا عنصر: آسٹریلیا کی معیشت کی قسمت کا گہرا تعلق چین کی معیشت سے ہے۔ چین کا ملا جلا اقتصادی ڈیٹا اور افراط زر کا دباؤ AUD کے لیے ایک اہم "وائلڈ کارڈ” ہے۔
-
مارکیٹ کی پوزیشننگ: CFTC کے ڈیٹا کے مطابق، ٹریڈرز (Traders) نے آسٹریلوی ڈالر کے خلاف اپنی بیریش (Bearish) پوزیشنوں میں کمی کی ہے، جو مارکیٹ کے رویے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
AUDUSD میں حالیہ تیزی کی لہر کیوں آئی ہے؟
AUDUSD میں موجودہ ریلی کئی اہم میکرو اکنامک (Macroeconomic) عوامل کی وجہ سے ہے. جو دونوں کرنسیوں کو مختلف انداز میں متاثر کر رہے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر آسٹریلوی ڈالر کی اندرونی طاقت اور امریکی ڈالر کی بیرونی کمزوری کا ایک دلچسپ امتزاج ہے۔
امریکی ڈالر کی کمزوری کا کردار
امریکی ڈالر (USD) کے لیے حال ہی میں اچھی خبر نہیں آئی ہے۔ کمزور پیداواری قیمتوں کا ڈیٹا (Producer Prices Data) اور گرتی ہوئی امریکی ٹریژری پیداوار (US Treasury yields) نے فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں مزید کمی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔
جب سود کی شرحیں کم ہوتی ہیں، تو متعلقہ کرنسی عام طور پر کم پرکشش ہو جاتی ہے۔ یہ ڈالر پر دباؤ ڈال رہا ہے. جس سے AUDUSD جیسے جوڑوں کے لیے اوپر کی طرف جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔
اس کے علاوہ، اس ہفتے کی اہم ترین اقتصادی خبروں میں سے ایک امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی ریلیز ہے. جو کہ افراط زر کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اب اس ڈیٹا کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں. اور اگر یہ توقع سے زیادہ کمزور رہا تو ڈالر پر مزید دباؤ آئے گا۔
آسٹریلیا کی معیشت کی لچک اور RBA کا محتاط رویہ
آسٹریلیا کی معیشت نے حال ہی میں امید سے کہیں زیادہ لچک دکھائی ہے۔ اگرچہ عالمی اقتصادی سست روی کا خطرہ موجود ہے. آسٹریلیا کا مینوفیکچرنگ اور خدمات کا شعبہ اب بھی بڑھ رہا ہے۔ جون میں خوردہ فروخت (Retail Sales) میں 1.2% کا اضافہ ہوا. اور برآمدات میں بھی بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، لیبر مارکیٹ (Labour Market) بھی مضبوط رہی ہے. جہاں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 4.2% ہو گئی اور نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوئیں۔
ان تمام عوامل نے ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کو ایک محتاط اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ حالانکہ RBA نے اپنی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے، لیکن گورنر مشیل بلک (Michele Bullock) نے مزید تیزی سے کمی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے تو مرکزی بینک عام طور پر تیزی سے شرح سود کم کرنے سے گریز کرتا ہے، اور یہ آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک مضبوط سپورٹ فراہم کرتا ہے۔
چین کا عنصر: آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک وائلڈ کارڈ
آسٹریلیا کی معیشت کی صحت کا گہرا تعلق چین کی معیشت سے ہے. کیونکہ چین اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ اس لیے، چین کا اقتصادی منظرنامہ آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک "وائلڈ کارڈ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین نے حال ہی میں ملا جلا ڈیٹا دکھایا ہے. اس کے جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے. لیکن خوردہ فروخت توقع سے کم رہی ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ چین میں افراط زر (Inflation) کا دباؤ ہے، جہاں اگست میں سی پی آئی (CPI) میں 0.4% کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر چین کی معیشت میں واضح بہتری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے. تو یہ آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک بڑا مثبت محرک ثابت ہو سکتا ہے۔
تکنیکی اور مارکیٹ کی پوزیشننگ
تکنیکی طور پر (Technically)، AUDUSD جوڑا اس وقت اپنے 0.6400–0.6600 کی رینج کے اوپری سرے کو چیلنج کر رہا ہے۔ اس کا اگلا بڑا مزاحمتی لیول (Resistance Level) ستمبر 2025 کی بلند ترین سطح 0.6635 پر ہے. جسے عبور کرنے پر نومبر 2024 کی بلند ترین سطح 0.6687 کی طرف نظریں مرکوز ہو جائیں گی۔ ایک بار اگر یہ نفسیاتی (Psychological) سطح 0.7000 کو توڑ دیتا ہے تو پھر مزید تیزی آ سکتی ہے۔
مارکیٹ کی پوزیشننگ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ Commodity Futures Trading Commission (CFTC) کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ٹریڈرز (Traders) نے آسٹریلوی ڈالر کے خلاف اپنی بیریش پوزیشنوں میں کمی کی ہے. جو کہ ایک اہم تبدیلی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ بڑے فنڈز اور انسٹیٹیوشنل سرمایہ کاروں (Institutional Investors) کا رویہ آسٹریلوی ڈالر کے حوالے سے زیادہ مثبت ہو رہا ہے۔

حرف آخر.
AUDUSD کی حالیہ تیزی صرف ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ مضبوط بنیادی عوامل (Fundamental Factors) پر مبنی ہے۔ جب تک امریکی ڈالر کمزور رہتا ہے. اور آسٹریلوی معیشت مضبوط رہتی ہے. یہ جوڑا اوپر کی طرف اپنی ریلی جاری رکھ سکتا ہے۔ آنے والے امریکی سی پی آئی ڈیٹا اور چین کی جانب سے کوئی بھی ممکنہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
یہ صورتحال پیشہ ور ٹریڈرز کو موقع فراہم کرتی ہے. کہ وہ موجودہ مارکیٹ ڈائنامکس کا فائدہ اٹھائیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ ہمیشہ ممکن ہے۔
ایک ماہر کے طور پر، میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیشہ اپنی حکمت عملی میں رسک مینجمنٹ (Risk Management) کو شامل رکھیں اور صرف ٹھوس ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا AUDUSD اپنی ریلی جاری رکھے گا، یا آپ اس کے پاتھ پر کوئی رکاوٹ دیکھتے ہیں؟ نیچے تبصرے میں اپنی رائے سے ہمیں آگاہ کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



