Monetary Policy: Introduction, Objectives, and Theoretical Foundations

Monetary Policy: Introduction, Objectives, and Theoretical Foundations

Monetary Policy مالیاتی پالیسی کسی بھی ملک کے مرکزی بینک (Central Bank) کی جانب سے اختیار کی جانے والی وہ حکمتِ عملی ہے۔ جس کا مرکزی مقصد ملکی معیشت میں زر کی مقدار (Money Supply)، قرض کی دستیابی (Credit Availability)، اور شرحِ سود (Interest Rates) کو منظم کرنا ہوتا ہے۔ اس کا حتمی ہدف قیمتوں میں استحکام (Price Stability)، مکمل روزگار (Full Employment)، اور پائیدار معاشی ترقی (Sustainable Economic Growth) کو فروغ دینا ہے۔

بنیادی اہداف (Core Objectives)

Monetary Policy مالیاتی پالیسی کے اہداف دو اہم حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں:

1. پرائمری مقصد (Primary Objective) – قیمتوں کا استحکام:

تاریخی طور پر۔ مرکزی بینکوں کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ مؤثر ہدف افراطِ زر (Inflation) پر قابو پانا رہا ہے۔ افراطِ زر پر قابو پانے کی اہمیت اس لیے ہے۔ کہ یہ صارفین کی قوت خرید کو بحال رکھتی ہے۔ اور معیشت میں غیر یقینی کو کم کرتی ہے۔ اگر لوگ افراطِ زر کے بارے میں پریشان نہ ہوں، تو وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر مرکزی بینکوں کا مقصد سالانہ افراطِ زر کو 2% کے قریب رکھنا ہوتا ہے۔ جسے "افراطِ زر کا ہدف” (Inflation Target) کہا جاتا ہے۔

2. ثانوی مقاصد (Secondary Objectives):

o زیادہ سے زیادہ پائیدار روزگار: مرکزی بینک مجموعی طلب (Aggregate Demand) کو منظم کر کے بے روزگاری کو قدرتی شرح (Natural Rate of Unemployment) یا غیر-تیز رفتار افراطِ زر والی بے روزگاری کی شرح (Non-Accelerating Inflation Rate of Unemployment – NAIRU) کے قریب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

o اعتدال پسند طویل مدتی شرح سود: شرح سود کو ایک ایسی سطح پر رکھنا۔ جو قرض لینے اور سرمایہ کاری کو فروغ دے۔

o مالیاتی استحکام (Financial Stability): مالیاتی نظام کو بحرانوں سے بچانا۔ جس پر 2008 کے بحران کے بعد زیادہ زور دیا گیا۔

 نظریاتی مباحث (Theoretical Debates)

Monetary Policy مالیاتی پالیسی کی مؤثریت اور اس کے کردار پر مختلف معاشی مکاتبِ فکر کا تاریخی اختلاف رہا ہے:

1. کلاسیکی مکتبہ فکر (Classical School of Thought)

• نظریہ زر کی مقدار (Quantity Theory of Money): یہ نظریہ اس مساوات پر مبنی ہے: (جہاں زر کی فراہمی، زر کی گردش کی رفتار، قیمت کی سطح، اور حقیقی پیداوار ہے)۔ کلاسیکی ماہرین کا ماننا تھا کہ طویل مدت میں، اور مستحکم رہتے ہیں۔ لہٰذا، زر کی فراہمی () میں کوئی بھی تبدیلی براہ راست قیمت کی سطح () کو متاثر کرے گی۔

• مالیاتی غیرجانبداریت (Monetary Neutrality): اس نقطہ نظر کے تحت، زر کی فراہمی میں طویل مدت میں اضافہ صرف برائے نام متغیرات (Nominal Variables) (جیسے قیمتوں اور برائے نام اجرتوں) کو متاثر کرتا ہے اور حقیقی متغیرات (Real Variables) (جیسے پیداوار اور روزگار) پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔

• پالیسی کا تجویز کردہ رول: اس لیے مرکزی بینک کو معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے بجائے "غیر فعال رول” ادا کرنا چاہیے۔ اور زر کی فراہمی میں صرف ایک مستقل اور کم شرحِ نمو برقرار رکھنی چاہیے۔ اس سے افراطِ زر پر مبنی غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے گی۔

2. کینزین مکتبہ فکر (Keynesian School of Thought)

• مختصر مدت کا کردار: کینز نے کساد بازاری (Recession) کے دوران مالیاتی پالیسی کے فعال کردار پر زور دیا۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قیمتیں اور اجرتیں مختصر مدت میں "سخت” (Sticky) ہوتی ہیں۔

• سود کی شرح کا چینل (Interest Rate Channel): کینز نے Monetary Policy مالیاتی پالیسی کو مجموعی مانگ (Aggregate Demand) پر اثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔

o کساد بازاری میں: مرکزی بینک شرح سود کم کرتا ہے قرض لینا سستا ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری اور کھپت بڑھتی ہے۔ مجموعی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیداوار اور روزگار میں اضافہ ہوتا ہے۔

• لیکویڈیٹی ٹریپ (Liquidity Trap): کینز کا ایک اہم تصور یہ ہے۔ کہ شدید کساد بازاری کے دوران جب شرح سود پہلے ہی بہت کم ہو۔ تو مالیاتی پالیسی غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔ اس حالت میں، لوگ مستقبل کے بارے میں منفی توقعات کی وجہ سے اپنی تمام اضافی نقدی کو اپنے پاس رکھتے ہیں۔ (بانڈز میں سرمایہ کاری نہیں کرتے)، اور شرح سود میں مزید کمی پیداوار کو مزید فروغ نہیں دے سکتی۔

3. مونیٹارسٹ مکتبہ فکر (Monetarist School of Thought)

• بانی: ملٹن فریڈمین (Milton Friedman)۔ مونیٹارسٹ کینزین نقطہ نظر کے خلاف کھڑے ہوئے۔ اور یہ دلیل دی کہ زر کی فراہمی میں ہونے والی تبدیلیاں مختصر اور طویل دونوں مدتوں میں معاشی سرگرمی کا بنیادی محرک ہیں۔

•Monetary Policy مالیاتی پالیسی کی تاخیر (Policy Lags): فریڈمین نے زور دیا کہ مالیاتی پالیسی کے اقدامات اور معیشت پر ان کے اثرات کے درمیان ایک "طویل اور متغیر تاخیر” (Long and Variable Lag) ہوتی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے، مرکزی بینک جب کسی ایک مسئلے (جیسے کساد بازاری) کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو پالیسی کا اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے۔ جب معیشت پہلے ہی بحال ہو چکی ہوتی ہے، جس سے الٹا افراطِ زر پیدا ہوتا ہے۔

• تجویز: اس لیے فعال (Discretionary) پالیسی خطرناک ہے۔ بہترین حکمت عملی ایک مستقل "مانیٹری رول” (Monetary Rule) کو اپنانا ہے، جیسے کہ زر کی فراہمی کو سالانہ سے کی شرح سے بڑھانا۔

4. نیو-کینزین نقطہ نظر (New-Keynesian Perspective)

• توقعات اور ساکھ (Expectations and Credibility): یہ جدید نقطہ نظر منطقی توقعات (Rational Expectations) اور قیمتوں میں سختی (Price Stickiness) کو شامل کرتا ہے۔

o اگر عوام کو مرکزی بینک کی پالیسیوں پر اعتماد ہو (یعنی اس کی ساکھ ہو)۔ اور انہیں یقین ہو کہ افراطِ زر کم رہے گا۔ تو وہ خود بھی کم قیمتیں مقرر کریں گے۔

o شفافیت: مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی کی مکمل شفافیت (Transparency) اور جوابدہی (Accountability) بہت اہم ہے۔ شفافیت عوام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پالیسی کے رد عمل کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی توقعات کو ترتیب دیں۔

• سٹیبلائزیشن کا کردار: نیو-کینزین ماڈلز فعال  Monetary Policy مالیاتی پالیسی کو قیمتوں میں سختی کی موجودگی میں مجموعی طلب کو مستحکم کرنے کے لیے جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ آج کی مالیاتی پالیسی فریم ورک کی بنیاد ہیں۔

 مالیاتی پالیسی کے تکنیکی اوزار (Technical Instruments of Monetary Policy)

مرکزی بینک معیشت میں نقدی اور قرض کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے مختلف اوزار استعمال کرتے ہیں۔ یہ اوزار مرکزی بینک کے اہداف (Goals) اور سہ ماہی اہداف (Intermediate Targets) (جیسے شرح سود) کے درمیان کڑی کا کام کرتے ہیں۔

 روایتی اوزار (Conventional Tools)

یہ وہ اوزار ہیں جو طویل عرصے سے استعمال ہو رہے ہیں۔ اور عام اقتصادی حالات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

1. پالیسی ریٹ (Policy Rate) – (جیسے Repo/Discount Rate/Interest on Reserves)

• تعریف: یہ وہ بیس ریٹ ہے جسے مرکزی بینک کمرشل بینکوں سے فوری قرضوں (Overnight Borrowing) پر وصول کرتا ہے۔ یا انہیں ان کے ریزرو پر ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں اسے پالیسی ریٹ یا ڈسکاؤنٹ ریٹ کہا جاتا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) اسے وفاقی فنڈز ریٹ (Federal Funds Rate) کا ہدف رکھتا ہے۔

 میکانزم:

o کمی (Easing): مرکزی بینک پالیسی ریٹ کم کرتا ہے کمرشل بینکوں کے لیے نقدی حاصل کرنا سستا ہوتا ہے۔ وہ صارفین اور کاروباروں کو کم شرح پر قرض دینا شروع کرتے ہیں۔ قرض کی دستیابی بڑھتی ہے، مجموعی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔

o اضافہ (Tightening): مرکزی بینک پالیسی ریٹ بڑھاتا ہے۔ بینکوں کے قرض کی لاگت بڑھتی ہے۔ بینک اپنی شرح سود بڑھاتے ہیں زر کی فراہمی اور مجموعی طلب محدود ہوتی ہے۔ افراطِ زر قابو میں آتا ہے۔

• بینکوں کے لیے اہمیت: پالیسی ریٹ دراصل معیشت میں شرح سود کی حد (Floor) اور چھت (Ceiling) کا کام کرتا ہے۔ دیگر تمام شرح سود (جیسے مورگیج، کار قرضے، کارپوریٹ بانڈز) اسی پالیسی ریٹ کے ارد گرد گھومتی ہیں۔

 اوپن مارکیٹ آپریشنز (Open Market Operations – OMOs)

• تعریف: یہ مرکزی بینک کی جانب سے سرکاری سیکیورٹیز (Government Securities) کی خرید و فروخت کا عمل ہے۔ یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور لچکدار (Flexible) اوزار ہے۔

میکانزم:

o سیکیورٹیز کی خریداری (Injection of Liquidity): مرکزی بینک کمرشل بینکوں سے سرکاری بانڈز خریدتا ہے۔ مرکزی بینک بانڈز کے بدلے میں کمرشل بینکوں کو نقدی (ریزرو) فراہم کرتا ہے۔ بینکوں کے ریزرو بڑھ جاتے ہیں۔ اور وہ زیادہ قرض دینے کے قابل ہو جاتے ہیں شرح سود کم ہوتی ہے۔ (یہ افراطِ زر کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے)۔

o سیکیورٹیز کی فروخت (Absorption of Liquidity): مرکزی بینک کمرشل بینکوں کو سرکاری بانڈز فروخت کرتا ہے۔ کمرشل بینک بانڈز کے بدلے میں مرکزی بینک کو نقدی دیتے ہیں بینکوں کے ریزرو کم ہو جاتے ہیں۔ قرض دینے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، اور شرح سود بڑھتی ہے۔ (یہ افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتا ہے)۔

• افادیت: OMOs بہت تیز، درست اور آسانی سے پلٹے جا سکنے والے (Reversible) ہوتے ہیں۔ جو انہیں روزانہ کی بنیاد پر نقدی کو منظم کرنے کے لیے مثالی بناتے ہیں۔

 ریزرو ریکوائرمنٹس (Reserve Requirements – RR)

• تعریف: یہ وہ کم از کم رقم (ڈپازٹس کا فیصد) ہے جو کمرشل بینکوں کو لازمی طور پر مرکزی بینک کے پاس یا اپنے واؤلٹس میں ریزرو کے طور پر رکھنی ہوتی ہے۔

میکانزم:

o RR میں اضافہ: بینکوں کو زیادہ ریزرو رکھنا پڑتا ہے۔ قرض دینے کے لیے کم رقم دستیاب ہوتی ہے زر کا ضارب (Money Multiplier) کم ہو جاتا ہے۔ زر کی فراہمی میں تیزی سے کمی آتی ہے۔

o RR میں کمی: بینکوں کو کم ریزرو رکھنا پڑتا ہے۔ قرض دینے کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوتی ہے۔ زر کا ضارب بڑھ جاتا ہے۔

• حدود: یہ ایک ڈرامائی اور سخت (Blunt) اوزار ہے۔ اس میں معمولی تبدیلی بھی بینکنگ نظام میں بڑے اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا زیادہ تر جدید مرکزی بینک (جیسے Fed نے 2020 میں اسے صفر کر دیا) اسے بہت کم استعمال کرتے ہیں۔

غیر روایتی اوزار (Unconventional Tools)

صفر کی حد (Zero Lower Bound – ZLB): جب پالیسی ریٹ صفر یا صفر کے قریب ہو جائے اور معیشت اب بھی کساد بازاری کا شکار ہو۔ تو روایتی اوزار غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں مرکزی بینک غیر روایتی اوزار استعمال کرتے ہیں۔ یہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران (GFC) اور 2020 کے کووڈ-19 بحران کے دوران اہم ہوئے۔

1. کوانٹیٹیٹو ایزنگ (Quantitative Easing – QE)

• تعریف: یہ ایک "وسیع پیمانے پر اثاثوں کی خریداری کا پروگرام” ہے۔ جو عام طور پر طویل مدتی سرکاری بانڈز (Long-term Government Bonds) اور کبھی کبھار کارپوریٹ بانڈز یا مورگیج بیکڈ سیکیورٹیز (MBS) کی خریداری پر مشتمل ہوتا ہے۔

• مقصد: QE کا بنیادی مقصد زر کی مقدار کو براہ راست متاثر کرنا نہیںبلکہ طویل مدتی شرح سود (Long-term Interest Rates) کو کم کرنا اور مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنا ہے۔

• ترسیلی چینل:

o پورٹ فولیو ری بیلنسنگ چینل: جب مرکزی بینک طویل مدتی بانڈز خریدتا ہے، تو ان بانڈز کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور ان کی یدلد (Yield) کم ہو جاتی ہے۔ بانڈز بیچنے والے سرمایہ کاروں کو نقدی ملتی ہے، اور وہ اس نقدی کو دوسرے اثاثوں (جیسے اسٹاکس، رئیل اسٹیٹ) میں منتقل کرتے ہیں، جس سے ان اثاثوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور مجموعی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

o فلوٹنگ شرح سود: طویل مدتی شرح سود کو کم کر کے، QE صارفین کے مورگیج اور کاروباروں کے طویل مدتی قرضوں کو سستا بناتا ہے۔

• چیلنج: QE سے بیلنس شیٹ (Balance Sheet) میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور مستقبل میں اسے کوانٹیٹیٹو ٹائٹننگ (QT) کے ذریعے واپس لینا ایک مشکل عمل ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

 فارورڈ گائیڈنس (Forward Guidance – FG)

• تعریف: مرکزی بینک کی جانب سے مستقبل کی پالیسی کے ارادوں کے بارے میں شفاف اور عوامی وعدے کرنا۔

• قسمیں:

o ٹائم بیسڈ FG: ایک مخصوص وقت کی مدت کے لیے شرح سود کو کم رکھنے کا وعدہ (مثلاً: "شرح سود کو 2024 تک صفر پر رکھا جائے گا”)۔

o حالت بیسڈ FG (State-Contingent FG): مخصوص معاشی حالات کے پورا ہونے تک شرح سود کو کم رکھنے کا وعدہ (مثلاً: "شرح سود کو اس وقت تک صفر پر رکھا جائے گا جب تک افراطِ زر 2% سے اوپر نہ جائے اور بے روزگاری 4% سے کم نہ ہو جائے”)۔

• مقصد: توقعات کو باندھنا (Anchor Expectations)۔ جب لوگ یقین کرتے ہیں کہ شرح سود مستقبل میں بھی کم رہے گی، تو وہ آج ہی سرمایہ کاری اور اخراجات کا فیصلہ کرتے ہیں، اس طرح پالیسی کا اثر فوری طور پر ہوتا ہے۔

• افادیت: یہ ایک کم لاگت والا اوزار ہے جو مرکزی بینک کی ساکھ (Credibility) کو استعمال کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب ZLB کے قریب پالیسی کے روایتی راستے ختم ہو چکے ہوں۔

 مالیاتی پالیسی کا ترسیلی میکانزم (Transmission Mechanism of Monetary Policy)

ترسیلی میکانزم وہ چینلز ہیں جن کے ذریعے مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں تبدیلی بالآخر صارفین کی قرض لینے کی لاگت، کاروباروں کی سرمایہ کاری کے فیصلے، اور مجموعی طلب کو متاثر کرتی ہے۔ پالیسی کا اثر عام طور پر 12 سے 18 ماہ کی تاخیر (Lag) کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔

1. شرح سود کا چینل (Interest Rate Channel)

یہ سب سے زیادہ براہ راست اور روایتی چینل ہے۔

مرکزی بینک پالیسی ریٹ بڑھاتا ہے → مارکیٹ کی شرح سود (قلیل اور طویل مدتی) بڑھتی ہے → کھپت (Consumption) (کار اور گھر کے قرضوں کی مہنگائی کی وجہ سے) اور سرمایہ کاری (Investment) (کاروباروں کے لیے قرض کی لاگت میں اضافہ) کم ہوتی ہے → مجموعی طلب اور افراطِ زر کم ہوتا ہے۔

2. اثاثہ جات کی قیمت کا چینل (Asset Price Channel)

مالیاتی پالیسی اثاثوں کی قیمتوں (جیسے اسٹاکس، بانڈز، رئیل اسٹیٹ) کے ذریعے بھی کام کرتی ہے۔

• سرمایہ کاری کا چینل: شرح سود میں کمی بانڈز کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اسٹاک کی مارکیٹ کی قدر بڑھتی ہے "ٹووبن کا ق (Tobin’s q)” (بازار کی قدر اور متبادل لاگت کا تناسب) بڑھتا ہے کاروباروں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ نئے اثاثوں میں سرمایہ کاری کریں مجموعی طلب بڑھتی ہے۔

• دولت کا چینل (Wealth Effect): شرح سود میں کمی اثاثوں کی قیمتیں (خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور اسٹاکس) بڑھتی ہیں خاندانوں کی مالیاتی دولت (Financial Wealth) بڑھتی ہے وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں اور زیادہ خرچ کرتے ہیں (کھپت بڑھتی ہے) مجموعی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔

3. قرض کا چینل (Credit Channel)

یہ وہ چینل ہے جو مرکزی بینک کی پالیسی کے اثرات کو مالیاتی نظام کی خرابیوں کی موجودگی میں بڑھاتا ہے۔

i. بینک قرض کا چینل (Bank Lending Channel)

• میکانزم: سخت مالیاتی پالیسی (ریزرو کم یا پالیسی ریٹ زیادہ) کمرشل بینکوں کے ریزرو اور نقدی کم ہو جاتی ہے وہ کارپوریشنوں اور صارفین کو قرض دینے کی صلاحیت کم کر دیتے ہیں یہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو متاثر کرتا ہے، جو بانڈز جاری کرنے کے بجائے بینک قرضوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں سرمایہ کاری اور کھپت کم ہوتی ہے۔

ii. بیلنس شیٹ چینل (Balance Sheet Channel)

• میکانزم: بلند شرح سود کاروباروں اور خاندانوں کے لیے قرض کی ادائیگیوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے ان کا منافع (Profits) یا خالص مالیت (Net Worth) کم ہو جاتی ہے۔

• اخلاقی خطرہ (Moral Hazard) اور مخالف انتخاب (Adverse Selection): کمزور بیلنس شیٹ والے کاروباروں کو قرض دینا بینکوں کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ بینک مخالف انتخاب کے خطرے (صرف زیادہ خطرہ والے قرضدار قرض لینے آتے ہیں) کو کم کرنے کے لیے قرض کی فراہمی محدود کر دیتے ہیں مجموعی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔

4. زر مبادلہ کا چینل (Exchange Rate Channel)

یہ چینل ان معیشتوں میں خاص طور پر طاقتور ہے جو عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مضبوطی سے مربوط ہیں۔

• آسان پالیسی (Monetary Easing): مرکزی بینک شرح سود کم کرتا ہے ملکی اثاثوں (جیسے بانڈز) پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا منافع کم ہو جاتا ہے غیر ملکی سرمایہ ملک سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے (Capital Outflow) ملکی کرنسی کی طلب کم ہوتی ہے کرنسی کی قدر میں گراوٹ (Depreciation/Devaluation)۔

اثرات:

o برآمدات میں اضافہ: ملکی اشیا بیرونی خریداروں کے لیے سستی ہو جاتی ہیں خالص برآمدات () بڑھتی ہیں مجموعی مانگ بڑھتی ہے۔

• ترقی پذیر ممالک میں خطرہ: کرنسی کی گراوٹ ایک "پاس تھرو ایفیکٹ” (Pass-Through Effect) کے ذریعے درآمدی افراطِ زر (Imported Inflation) کا سبب بنتی ہے، کیونکہ درآمدی اشیا کی قیمتیں فوری طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ یہ مرکزی بینک کے لیے افراطِ زر پر قابو پانے کا ہدف مشکل بنا سکتا ہے۔

IV. پالیسی کا ادارہ جاتی فریم ورک اور اصول (Institutional Framework and Rules of Policy)

جدید مرکزی بینکنگ نے ماضی کی صوابدیدی (Discretionary) پالیسیوں سے ہٹ کر اصولوں پر مبنی (Rule-Based) اور شفاف (Transparent) فریم ورک کو اپنایا ہے تاکہ ساکھ (Credibility) کو مضبوط کیا جا سکے۔

1. افراطِ زر کا ہدف (Inflation Targeting – IT)

IT جدید مالیاتی پالیسی کا سب سے زیادہ مقبول فریم ورک ہے۔

i. تعریف اور عمل

• تعریف: ایک ایسی حکمت عملی جس میں مرکزی بینک عوامی طور پر ایک مخصوص افراطِ زر کا ہدف (مثلاً سے ) مقرر کرتا ہے، اور پھر تمام پالیسی اوزاروں کو استعمال کرتے ہوئے اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ نے 1990 میں اسے اپنانے والا پہلا ملک تھا۔

• عمل:

1. اعلان: ہدف کا عوامی اعلان۔

2. تنظیم: مرکزی بینک کی آپریشنل آزادی (Operational Autonomy) کو یقینی بنانا۔

3. ترسیل: افراطِ زر کی پیشن گوئیوں اور پالیسی فیصلوں کی باقاعدہ وضاحت کرنا (شفافیت)۔

4. جوابدہی: ہدف حاصل نہ ہونے کی صورت میں حکومت یا پارلیمنٹ کو جوابدہ ہونا۔

ii. کامیابی کی شرائط اور فوائد

• آزادی (Independence): مرکزی بینک کو سیاسی دباؤ سے پاک ہونا چاہیے تاکہ وہ قلیل المدتی سیاسی فوائد کے بجائے طویل المدتی معاشی مقاصد پر توجہ دے سکے۔

• شفافیت اور ساکھ: IT فریم ورک ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔ جب لوگ یہ یقین کرتے ہیں کہ مرکزی بینک اپنے ہدف کے حصول میں سنجیدہ ہے، تو ان کی توقعات (Expectations) بھی کم افراطِ زر پر "لنگر انداز” ہو جاتی ہیں، جس سے اصل افراطِ زر کو کم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

• تنقید: IT کبھی کبھار مرکزی بینک کو معاشی ترقی یا مالیاتی استحکام جیسے دوسرے اہم اہداف کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

ٹیلر رول (Taylor Rule)

یہ اصول ایک میکانکی گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے کہ مرکزی بینک کو قلیل المدتی شرح سود کیا مقرر کرنی چاہیے۔ اسے جان ٹیلر (John B. Taylor) نے 1993 میں تیار کیا تھا۔

i. ٹیلر فارمولا

اصول ایک سادہ مساوات پر مبنی ہے:

جہاں:

• Neutral Rate: وہ شرح سود جو نہ تو معیشت کو محدود کرے اور نہ ہی فروغ دے (عام طور پر حقیقی شرح سود پلس ہدف افراطِ زر )۔

• Inflation Gap: موجودہ افراطِ زر () اور ہدف افراطِ زر () کے درمیان فرق:

• Output Gap: موجودہ GDP () اور ممکنہ GDP () کے درمیان فرق:

ii. جواز اور اہمیت

• ہدایتی اصول (Prescriptive Rule): ٹیلر رول مرکزی بینک کی "رد عمل کی شرح” (Reaction Function) کو معیاری بناتا ہے۔ یہ مارکیٹ کو یہ واضح سگنل دیتا ہے کہ اگر افراطِ زر یا پیداوار اپنے ہدف سے ہٹتی ہے تو مرکزی بینک کی پالیسی کیا ہو گی۔

• افراطِ زر پر زیادہ زور: ٹیلر رول یہ تجویز کرتا ہے کہ اگر افراطِ زر ہدف سے ایک فیصد زیادہ ہو، تو مرکزی بینک کو شرح سود کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھانا چاہیے (یعنی، )۔ اس سے یہ یقینی ہوتا ہے کہ حقیقی شرح سود (Real Interest Rate) میں اضافہ ہو، جو افراطِ زر کے خلاف ایک مؤثر اقدام ہے۔

ٹائم کنسسٹینسی مسئلہ (Time Consistency Problem)

• مسئلہ: مرکزی بینک کے لیے یہ لالچ ہو سکتا ہے کہ وہ آج افراطِ زر کو بڑھانے والی (Inflationary) پالیسی اپنائے (تاکہ روزگار میں قلیل المدتی اضافہ ہو)، حالانکہ اس نے پہلے ہی کم افراطِ زر کا وعدہ کیا تھا۔ جب عوام کو اس لالچ کا علم ہو جاتا ہے، تو وہ شروع سے ہی اعلیٰ افراطِ زر کی توقع رکھتے ہیں، جس کا نتیجہ بالآخر اعلیٰ افراطِ زر اور بغیر کسی روزگار کے فوائد کی صورت میں نکلتا ہے۔

• حل: IT فریم ورک، مرکزی بینک کی آزادی، اور واضح اصول (جیسے ٹیلر رول) اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، کیونکہ یہ مرکزی بینک کو اپنے وعدے پر قائم رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

 مالیاتی پالیسی اور میکرو-پرڈینشل ٹولز (Monetary Policy and Macro-Prudential Tools)

2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد، یہ واضح ہو گیا کہ صرف قیمتوں کے استحکام پر توجہ مرکوز کرنا ناکافی ہے۔ مالیاتی استحکام (Financial Stability) کو بھی مالیاتی پالیسی کے ایک کلیدی جزو کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

1. میکرو-پرڈینشل پالیسی (Macro-Prudential Policy – MaPP)

• تعریف: یہ وہ پالیسیاں ہیں جو انفرادی مالیاتی اداروں (مائیکرو-پرڈینشل) کے بجائے پورے مالیاتی نظام کے خطرات (سسٹمک رسک) کو منظم کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔

• مقصد: معاشی سائیکل کے دوران مالیاتی نظام میں جمع ہونے والے خطرات (جیسے قرض کا تیزی سے بڑھنا، اثاثوں کے بلبلے) کی روک تھام کرنا، جو کسی بڑے مالیاتی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔

i. میکرو-پرڈینشل اوزار

• کاؤنٹر سائیکلیکل کیپٹل بفر (Countercyclical Capital Buffer – CCCB):

o خوشحالی (Boom) کے دوران: مرکزی بینک کمرشل بینکوں کو زیادہ سرمایہ (Capital) رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سے بینکوں کی قرض دینے کی اہلیت محدود ہوتی ہے اور اثاثوں کے بلبلے کو ہوا دینے والے ضرورت سے زیادہ قرض (Excessive Credit) کی تخلیق کو کم کیا جاتا ہے۔

o بحران (Bust) کے دوران: بفر کو جاری (Release) کر دیا جاتا ہے، جس سے بینکوں کے پاس قرضوں کے نقصانات کو جذب کرنے اور معیشت میں قرض کی فراہمی کو جاری رکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

• قرض سے قدر کا تناسب (Loan-to-Value Ratio – LTV Ratio):

o تعریف: قرض کی رقم اور رہن (Mortgage) کے لیے استعمال ہونے والے اثاثے کی قیمت کا تناسب۔

o مقصد: رئیل اسٹیٹ کے بلبلے کو روکنا۔ اگر LTV کو سے کر دیا جائے، تو خریدار کو زیادہ ڈاؤن پیمنٹ (Down Payment) کرنی پڑتی ہے، جو قرض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

• قرض سے آمدنی کا تناسب (Debt-to-Income Ratio – DTI Ratio): یہ قرض کی ادائیگیوں اور قرض لینے والے کی ماہانہ آمدنی کا تناسب ہے۔ اسے محدود کرنے سے خاندانوں کی قرض لینے کی حد مقرر ہوتی ہے، جس سے قرض کا حجم قابو میں رہتا ہے۔

2. مالیاتی اور میکرو-پرڈینشل پالیسی کا باہمی تعلق

• ہم آہنگی (Coordination): 2008 کے بعد، مرکزی بینکوں کو نہ صرف افراطِ زر کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے بلکہ مالیاتی استحکام کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔

• تنازعہ (Conflict): بعض اوقات مالیاتی اور میکرو-پرڈینشل مقاصد میں تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے۔

o مثال: معیشت میں افراطِ زر کم ہے (آسان مالیاتی پالیسی کا مطالبہ)، لیکن ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ میں ایک بلبلہ بن رہا ہے (سخت میکرو-پرڈینشل پالیسی کا مطالبہ)۔

• حل: بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ میکرو-پرڈینشل ٹولز کو مالیاتی خطرات کو منظم کرنے کے لیے "پہلی دفاعی لائن” (First Line of Defense) کے طور پر استعمال کیا جائے، اور مالیاتی پالیسی (شرح سود) کو بنیادی طور پر افراطِ زر کے ہدف کے لیے استعمال کیا جائے۔

 پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے چیلنجز اور رکاوٹیں (Challenges and Constraints in Pakistan’s Monetary Policy)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو ایک ترقی پذیر اور ساختہ جاتی طور پر غیر مستحکم معیشت میں مالیاتی پالیسی کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے کئی منفرد اور سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

1. ساختہ جاتی افراطِ زر اور رسد کے جھٹکے (Structural Inflation and Supply Shocks)

• مسئلہ: پاکستان میں افراطِ زر کا ایک بڑا حصہ رسد کے جھٹکوں (Supply Shocks) سے پیدا ہوتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:

o خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ (فصل کی خرابی، مناسب ذخیرہ اندوزی کا فقدان)۔

o عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ (پاکستان کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر منحصر ہے)۔

o حکومت کی جانب سے انتظامی قیمتوں (Administered Prices) میں اضافہ (بجلی، گیس، پیٹرولیم لیوی)۔

• حدود: SBP کی مالیاتی پالیسی (شرح سود میں اضافہ) بنیادی طور پر مجموعی طلب سے پیدا ہونے والے افراطِ زر (Demand-Pull Inflation) پر قابو پاتی ہے۔ یہ رسد کے جھٹکوں کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر سکتی۔ شرح سود میں اضافہ رسد کے افراطِ زر کو حل کیے بغیر صرف معاشی ترقی کو سست کر سکتا ہے، جسے اسٹیگ فلیشن (Stagflation) کا خطرہ کہا جاتا ہے۔

 مالیاتی بالادستی (Fiscal Dominance)

• مسئلہ: مالیاتی بالادستی کا مطلب ہے کہ SBP کی Monetary Policy مالیاتی پالیسی کے فیصلے دراصل حکومت کی مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) (بجٹ خسارہ اور قرض) سے بالادست (Dominated) ہوتے ہیں۔

• میکانزم:

1. بجٹ خسارے میں اضافہ: حکومت کے ٹیکس آمدنی سے زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔

2. قرض کا بوجھ: خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت قرض لیتی ہے۔

3. SBP پر دباؤ: حکومت SBP پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ کم شرح سود پر حکومتی سیکیورٹیز خریدے (یعنی بجٹ خسارے کی براہ راست مالی معاونت کرے)۔

4. اثر: SBP کی بیلنس شیٹ بڑھتی ہے، معیشت میں زر کی فراہمی میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ براہ راست افراطِ زر کو بڑھاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں SBP اپنی آزادی کھو دیتا ہے اور قیمتوں کا استحکام حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

 غیر رسمی معیشت اور کمزور ترسیلی میکانزم (Informal Economy and Weak Transmission)

• مسئلہ: پاکستان کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ (تخمینہ تک) غیر رسمی (Informal) ہے اور بینکنگ نظام سے باہر کام کرتا ہے۔

• اثر:

o پالیسی کا اثر کم: SBP جب شرح سود بڑھاتا ہے تو اس کا اثر صرف رسمی، بینکوں سے منسلک کمپنیوں اور افراد پر پڑتا ہے۔ غیر رسمی شعبہ (جو نقدی پر مبنی ہے) بہت کم متاثر ہوتا ہے، جس سے پالیسی کا مجموعی اثر کم ہو جاتا ہے۔

o قرض کا چینل کمزور: روایتی طور پر، پاکستانی کمپنیاں قرض لینے کے لیے بانڈ مارکیٹ یا بیرونی فنانس پر زیادہ انحصار کرتی ہیں، جبکہ SMEs (جو زیادہ تر غیر رسمی ہیں) قرضوں تک بہت کم رسائی رکھتے ہیں۔ اس سے بینک قرض کا چینل کمزور ہو جاتا ہے۔

 شرح مبادلہ اور بیرونی عدم استحکامی (Exchange Rate and External Instability)

• مسئلہ: پاکستان کو مسلسل ادائیگیوں کے توازن میں خسارہ (Balance of Payments Deficit) اور بڑے بیرونی قرضوں کا سامنا ہے۔

• اثر:

o روپے پر دباؤ: بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ (ڈالر) کی مستقل طلب روپے کی قدر پر مستقل گراوٹ کا دباؤ ڈالتی ہے۔

o افراطِ زر کا "پاس تھرو”: روپے کی گراوٹ فوری طور پر درآمدی افراطِ زر کو بڑھاتی ہے (جیسا کہ سیکشن III میں بیان کیا گیا ہے)۔ SBP کو اس درآمدی افراطِ زر پر قابو پانے اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے مجبوراً شرح سود کو بہت زیادہ بڑھانا پڑتا ہے، یہاں تک کہ جب معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کم شرح سود کی ضرورت ہو۔ یہ SBP کو ایک "ڈائیلما” میں ڈالتا ہے۔

 ساختی اصلاحات کی ضرورت

پاکستان میں مالیاتی پالیسی کی کامیابی کا انحصار حکومت کی جانب سے جامع ساختی اصلاحات پر ہے۔ ان میں شامل ہیں:

• مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline): بجٹ خسارے کو کم کرنا اور مالیاتی بالادستی کو ختم کرنے کے لیے SBP کی جانب سے حکومتی خسارے کی براہ راست مالی معاونت کو آئینی طور پر روکنا۔

• توانائی کے شعبے کی اصلاح: گردشی قرضہ (Circular Debt) کو ختم کرنا اور قیمتوں کے انتظام کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا۔

• ٹیکس بیس میں اضافہ: غیر رسمی معیشت کو رسمی نظام میں لانا اور ٹیکس بیس کو بڑھانا تاکہ حکومت کا انحصار SBP سے قرض لینے پر کم ہو۔

• SBP کی قانونی آزادی: 2021 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں کی گئی ترامیم SBP کی آزادی کو قانونی گارنٹی فراہم کرتی ہیں، جو مالیاتی پالیسی کو قلیل المدتی سیاسی مقاصد سے بچانے کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔

 نتیجہ اور عالمی چیلنجز (Conclusion and Global Challenges)

Monetary Policy مالیاتی پالیسی ایک ایسا محرک انجن (Economic Engine) ہے۔ جو کسی بھی معیشت کے لیے قیمتوں میں استحکام، روزگار اور مالیاتی مضبوطی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کا ارتقاء کلاسیکی اور کینزین نظریات سے ہوتا ہوا ایک جدید فریم ورک تک پہنچا ہے۔ جو شفافیت، احتساب اور قواعد پر مبنی ہے۔

1. پالیسی کا ارتقاء

مرکزی بینکنگ نے سادہ زر کی فراہمی کے اہداف سے ہٹ کر افراطِ زر کے اہداف (Inflation Targeting) کو اپنایا ہے۔ تاکہ توقعات (Expectations) کو کامیابی سے باندھا جا سکے۔ میکرو-پرڈینشل ٹولز کا اضافہ اس بات کا اعتراف ہے۔ کہ مالیاتی پالیسی کو صرف افراطِ زر ہی نہیں بلکہ سسٹمک رسک (Systemic Risk) کو بھی منظم کرنا چاہیے۔

2. معاصر عالمی چیلنجز (Contemporary Global Challenges)

• عالمی قرضوں کا بوجھ: ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں حکومتی اور نجی قرضوں کا بہت زیادہ حجم شرح سود میں اضافے کی مرکزی بینکوں کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔ کیونکہ بلند شرح سود قرضوں کی ادائیگی کو غیر پائیدار بنا سکتی ہے۔

• جغرافیائی سیاسی غیر یقینی: تجارت کی زنجیروں میں خلل (جیسے کووڈ یا جنگوں کے دوران) اور علاقائی تنازعات رسد کے مستقل جھٹکے پیدا کرتے ہیں۔ جنہیں شرح سود کے اوزار سے حل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

• ڈیجیٹل کرنسیز: بلاک چین اور مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں (CBDCs) کا ممکنہ تعارف مستقبل میں زر کی تعریف اور مرکزی بینک کے زر کی فراہمی پر کنٹرول کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

• کلائمیٹ رسک: مرکزی بینک اب اس بات پر غور کر رہے ہیں۔ کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات (جیسے تباہ کن واقعات) کس طرح مالیاتی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اور ان کا پالیسی میں کیسے دھیان رکھا جائے۔

3. پاکستان کے لیے حکمتِ عملی کا خلاصہ

پاکستان جیسے ملک میں، SBP کی کامیابی مالیاتی بالادستی کے خاتمے، ساختی افراطِ زر پر قابو پانے، اور روپے کے استحکام پر منحصر ہے۔

• Monetary Policy مالیاتی پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے، یہ ضروری ہے۔ کہ حکومت مالیاتی پالیسی (بجٹ خسارہ) میں نظم و ضبط لائے۔

• مالیاتی نظم و نسق (Governance) میں بہتری اور SBP کی آئینی گارنٹی شدہ آزادی کو برقرار رکھنا کلیدی ہے۔ تاکہ پالیسی کے فیصلے "اچھی معاشیات” پر مبنی ہوں، نہ کہ "اچھی سیاست” پر۔

صرف ایک مربوط اور ہم آہنگ پالیسی مکس (Coordinated and Harmonized Policy Mix) ۔جہاں SBP قیمتوں میں استحکام کے لیے کام کرے اور حکومت ساختی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنائے۔ہی پائیدار معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کے اہداف کو حاصل کر سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button