IMF Staff-Level Agreement کے بعد PSX میں تاریخی تیزی.

KSE-100 Index Soars Over 2,000 Points as Investor Confidence Returns

PSX میں بدھ کے روز ایک بار پھر تیزی کی لہر دیکھی گئی. جب International Monetary Fund (IMF) اور پاکستانی حکام کے درمیان Staff-Level Agreement (SLA) طے پا گیا۔ اس اہم پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں نے بھرپور خریداری کا مظاہرہ کیا. جس کے نتیجے میں KSE100 Index انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 2,000 پوائنٹس سے زائد بڑھ گیا۔ صبح 11:15 بجے انڈیکس 167,533.22 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 2,057 پوائنٹس یا 1.24 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے Staff-Level Agreement کی خبر نے پاکستان کے مالیاتی بازاروں (Financial Markets) میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے۔ یہ معاہدہ محض قرض کا ایک حصہ نہیں. بلکہ معیشت  میں استحکام  اور اعتماد  کی بحالی کا ایک مضبوط اشارہ ہے۔ اس خبر کے آتے ہی پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی آئی ایم ایف ریلی ایک حقیقت بن گئی. جس نے KSE100 انڈیکس کو غیر معمولی سطح پر پہنچا دیا۔

تجربہ کار مالیاتی تجزیہ کار (Financial Analyst) کی حیثیت سے، میرا مقصد اس ابھار کے پیچھے کی وجوہات، اس کے مضمرات (Implications). اور سب سے اہم، آپ کے لیے قابلِ عمل حکمت عملیوں (Actionable Strategies) کا گہرائی سے جائزہ لینا ہے. تاکہ آپ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

خلاصہ

  • IMF اور پاکستان کے درمیان Staff-Level Agreement طے پا گیا ہے.

  • KSE100 Index میں 2,000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ۔

  • سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، مارکیٹ میں خریداری کا رجحان۔

  • کل بھی PSX میں تاریخی 7,000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔

  • عالمی اسٹاکس  میں بھی مثبت رجحان، US-China Trade Tensions بارے بے یقینی۔

PSX میں بلز کی واپسی – سرمایہ کاروں کا جشن

گزشتہ روز PSX میں بلز کی زبردست واپسی ہوئی. جب مارکیٹ نے ایک ہی دن میں 7,032 پوائنٹس کا تاریخی اضافہ دیکھا۔ بدھ کے روز بھی یہی رجحان برقرار رہا. اور سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر بڑی کمپنیوں جیسے HUBCO, OGDC, PPL, PSO, MCB اور UBL کی طرف مبذول رہی. جن کے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں اعتماد کی فضا بحال ہو چکی ہے۔

KSE100 Index as on 15th October 2025 while PSX resumed Bullish Trend
KSE100 Index as on 15th October 2025 while PSX resumed Bullish Trend

IMF کے نئے فریم ورک کے تحت فنڈنگ کا راستہ کھل گیا

IMF کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، معاہدے کی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً $1.0 Billion (SDR 760 Million) Extended Fund Facility (EFF) کے تحت اور تقریباً $200 Million (SDR 154 Million) Resilience and Sustainability Facility (RSF) کے تحت فراہم کیے جائیں گے. جس سے مجموعی رقم 3.3 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔ یہ پاکستان کے لیے بیرونی دباؤ میں ریلیف اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔

عالمی اسٹاکس  میں بھی بہتری – US Market سے مثبت اشارے

بین الاقوامی سطح پر بھی سرمایہ کاروں کا موڈ خوشگوار دکھائی دیا۔ ایشیائی مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی. جس میں Federal Reserve Chair Jerome Powell کے نرم مؤقف اور امریکی بینکوں کے شاندار نتائج نے بڑا کردار ادا کیا۔ Powell کے بیان نے واضح کیا کہ سود کی شرح میں مزید کمی کے دروازے کھلے ہیں. جس نے عالمی سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا۔

PSX ریلی (Rally) کے پیچھے کلیدی ڈرائیورز کیا ہیں؟

IMF کے معاہدے کے تحت طے شدہ اقتصادی اصلاحات (Economic Reforms) کے وعدے بعض شعبوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

1. روپے کی قدر میں استحکام (Rupee Stability)

IMF کا پروگرام زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتا ہے، جس سے ڈالر (Dollar) کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری یا کم از کم استحکام آتا ہے۔

  • فائدہ: یہ درآمد پر منحصر (Import-Dependent) شعبوں کے لیے سازگار ہے. کیونکہ ان کی خام مال (Raw Material) کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔

  • مثال کے طور پر: آٹو موبیل (Automobile) اور اسٹیل (Steel) سیکٹر۔

2. سود کی شرحوں میں کمی کی توقع (Anticipation of Rate Cuts)

IMF کی شرائط کے تحت حکومت کی طرف سے سخت مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) کا وعدہ. یعنی ٹیکسوں میں اضافہ اور اخراجات پر کنٹرول، بالآخر مہنگائی (Inflation) کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

  • فائدہ: مہنگائی پر قابو پانے کی توقع سے مرکزی بینک (Central Bank) پر مستقبل میں سود کی شرحوں (Interest Rates) کو کم کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے۔

  • سب سے بڑا فائدہ: بینکنگ سیکٹر (Banking Sector) اور قرض لے کر کام کرنے والے (Highly Leveraged) سیمنٹ اور بجلی کے شعبے۔

 

3. حکومتی بانڈز اور قرض کی مارکیٹ (Sovereign Bonds and Debt Market)

IMF کی یقین دہانی پاکستانی یورو بانڈز (Eurobonds) کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرتی ہے. جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے. کہ عالمی سطح پر پاکستان کے قرضوں کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔

  • اثر: یہ عالمی سرمایہ کاروں (Global Investors) کو ایک بار پھر پاکستانی اسٹاکس کی طرف راغب کرتا ہے. جسے پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (Portfolio Investment) کہتے ہیں۔

اگلی لہر کی تیاری

آئی ایم ایف معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک عارضی حل (Temporary Fix) نہیں. بلکہ ایک Patchwork ہے. جو ہمیں ایک سانس لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی لاتا ہے. کیونکہ یہ بنیادی خطرے کو کم کرتا ہے. نہ کہ اس لیے کہ یہ معیشت کو یکدم بدل دیتا ہے۔

ایک ماہر مالیاتی اسٹریٹجسٹ (Financial Strategist) کے طور پر، میرا آخری نقطہ نظر یہ ہے. کہ یہ ریلی اصلی سرمایہ کاری (Genuine Investment) کی شروعات ہو سکتی ہے. لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سخت پالیسیوں پر عمل پیرا رہے۔

مارکیٹ استحکام (Market Stability) کو مزید گہرا کرنے کے لیے Structural Reforms اور پرائیویٹائزیشن کی خبروں پر نظر رکھیں۔ یہ خبریں مارکیٹ کی اگلی لہر کی قیادت کریں گی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ Pakistan Stock Exchange کی اس تیزی میں شامل ہو رہے ہیں. یا محتاط انتظار کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ نیچے تبصرہ (Comment) میں اپنے تجزیے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button