پاکستان میں Local Currency Lending کے فروغ کے لیے SBP اور IFC کا تاریخی معاہدہ

Strategic move aims to strengthen private sector growth

پاکستان کی معیشت ایک نئے موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جہاں State Bank of Pakistan (SBP) اور International Finance Corporation (IFC) کے درمیان ہونے والا معاہدہ ملک کے مالیاتی استحکام اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف Local Currency Financing کو فروغ دے گا بلکہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خطرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

SBP اور ورلڈ بینک گروپ کے نجی شعبے کے بازو، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے درمیان حالیہ شراکت داری سے ملک میں مقامی کرنسی کی فنانسنگ (Local Currency Financing) کے منظر نامے میں بنیادی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔

خلاصہ

  • SBP اور IFC کے درمیان ISDA Agreement پر دستخط۔

  • معاہدہ مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کی مالی معاونت کے لیے۔

  • کرنسی کے خطرات کو کم کر کے معاشی استحکام میں بہتری۔

  • World Bank Group کی حکمتِ عملی میں Local Currency Lending کو مرکزی حیثیت۔

  • پاکستانی معیشت میں روزگار کے نئے مواقع اور سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے کی امید۔

اس معاہدے کے بنیادی نکات کیا ہیں اور یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

یہ معاہدہ SBP اور IFC کے درمیان ISDA (انٹرنیشنل سوئیپس اینڈ ڈیریویٹوز ایسوسی ایشن) کے تحت ہوا ہے۔ یہ ایک تکنیکی لیکن نہایت اہم قدم ہے. جو IFC کو پاکستانی روپے میں زیادہ مؤثر طریقے سے کرنسی کے خطرات کا انتظام کرنے کے قابل بنائے گا۔

SBP اور IFC کے درمیان ISDA معاہدے کے ذریعے ایک شراکت داری قائم کی گئی ہے. جس کا مقصد پاکستان میں مقامی کرنسی کی فنانسنگ کو فروغ دینا ہے۔ یہ IFC کو پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری کرنے کے دوران کرنسی کے خطرات کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس سے پاکستانی نجی شعبے  کے لیے قرض لینے کے مواقع میں اضافہ ہوگا. اور کمپنیوں کو غیر ملکی کرنسی میں قرض لینے پر پیدا ہونے والے زر مبادلہ کے خطرات سے بچایا جاسکے گا۔ یہ قدم بالآخر اقتصادی ترقی، روزگار کی تخلیق اور وسیع تر معاشی لچک (Economic Resilience) کو سہارا دے گا۔

پاکستانی کاروبار غیر ملکی کرنسی کے خطرے (Foreign Exchange Risk) سے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟

 

زیادہ تر کاروباری ادارے اپنی آمدنی مقامی کرنسی (روپے) میں کماتے ہیں، لیکن جب وہ امریکی ڈالر (US Dollar) جیسی سخت کرنسی میں قرض لیتے ہیں تو ایک بڑا تضاد (mismatch) پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہے، روپے کے لحاظ سے ان کا قرض کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

(ماہر کا ذاتی نقطہ نظر): فنانشل مارکیٹس میں میرے ایک دہائی سے زیادہ کے تجربے میں، میں نے دیکھا ہے. کہ پاکستانی روپے کی تیزی سے گراوٹ نے کیسے بظاہر منافع بخش کاروباری اداروں کو بھی دیوالیہ پن (Bankruptcy) کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ خاص طور پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں. جہاں لمبے عرصے کے قرضے غیر ملکی کرنسی میں ہوتے ہیں. روپے کی قدر میں صرف $5$ یا $10$ روپے کی گراوٹ بھی ایک کمپنی کے سالانہ منافع (Annual Profit) کو آسانی سے نگل سکتی ہے۔ یہ وہ خطرناک تضاد (currency mismatch) ہے. جس پر یہ نیا معاہدہ براہ راست حملہ کر رہا ہے۔ یہ مقامی کرنسی کی فنانسنگ کو فروغ دے کر، قرض لینے والوں کو غیر متوقع مارکیٹ کی تبدیلیوں کے سامنے غیر ضروری طور پر بے نقاب ہونے سے بچائے گا۔

یہ SBP IFC local currency lending اس مسئلے کو کیسے حل کرے گی؟

  • خطرے کا انتظام (Risk Management): ISDA معاہدہ IFC کو مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کے دوران اپنے خطرات کو ‘سوئیپ’ کرنے کی سہولت دے گا۔

  • زیادہ سرمایہ کاری: جب IFC مقامی کرنسی کے خطرے کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکتی ہے. تو وہ روپے میں مزید قرض دینے کے لیے تیار ہوگی۔

  • نجی شعبے کو فائدہ: پاکستانی کمپنیاں مقامی کرنسی میں قرض لے سکیں گی. جس کا مطلب ہے کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ ان کے قرض کی ادائیگیوں کو متاثر نہیں کرے گا۔

روزگار پر براہ راست اثر

جب کمپنیاں کرنسی کے خطرات کی فکر کیے بغیر ترقی کرتی ہیں. اور سرمایہ کاری کرتی ہیں. تو وہ زیادہ بھروسے کے ساتھ توسیع کر سکتی ہیں۔ یہ توسیع بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر نئے روزگار پیدا کرتی ہے. خاص طور پر اہم شعبوں میں جن میں فنانسنگ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ یہ SBP IFC local currency lending  شراکت داری ان شعبوں کو ‘ان لاک’ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

یہ معاہدہ SBP اور IFC کے درمیان ایک ISDA (International Swaps and Derivatives Association) فریم ورک کے تحت طے پایا، جس کے ذریعے IFC اب پاکستانی روپے میں زیادہ سرمایہ کاری کر سکے گا. اور اپنے کرنسی خطرات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے گا۔ SBP کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے نجی شعبے کے لیے مالیاتی مواقع کو بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

عالمی سطح پر مقامی کرنسی کی فنانسنگ کی اہمیت

IFC کے نائب صدر اور خزانچی، جان گینڈولفو نے واضح کیا کہ کرنسی کی غیر مستحکم شرحوں کے پیش نظر، ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مقامی کرنسی کی فنانسنگ تک رسائی کبھی بھی زیادہ اہم نہیں رہی۔ ورلڈ بینک گروپ کی ترجیحات میں یہ شامل ہے. کیونکہ یہ اقتصادی ترقی کا ایک بڑا محرک ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح پچھلے دو دہائیوں میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں (Emerging Markets) نے غیر ملکی کرنسی پر انحصار کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ جب فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) جیسے بڑے مرکزی بینک اپنی شرحیں بڑھاتے ہیں تو ڈالر مضبوط ہوتا ہے، اور روپیہ جیسی مقامی کرنسیوں پر فوری دباؤ آتا ہے۔

یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک ‘بفر’ (Buffer) کا کام کرتا ہے۔ یہ پاکستان کو بیرونی مانیٹری پالیسی کے جھٹکوں سے بچنے میں مدد دے گا، جس سے معیشت کو اپنی رفتار پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ یہ فنانشل مارکیٹ کے استحکام کے لیے ایک اہم طویل مدتی میکانزم (Mechanism) ہے۔

ایک مضبوط اور متوازن مستقبل کی تعمیر

یہ شراکت داری ایک واضح پیغام دیتی ہے. پاکستان اپنی معاشی لچک کو بڑھانے، نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے، اور غیر ملکی زر مبادلہ کی لیکویڈیٹی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ نہ صرف مالیاتی پالیسی میں ایک بہترین حکمت عملی  تبدیلی ہے. بلکہ عالمی سرمایہ کاری برادری کے ساتھ گہرے تعلقات کا بھی ثبوت ہے۔

یہ معاہدہ پاکستان کی مالیاتی منڈیوں میں ایک زیادہ متوازن اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھتا ہے۔ نجی شعبے کو بااختیار بنا کر، SBP اور IFC ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں. جہاں کاروباری ادارے خطرات کو کم کر کے، ترقی کو زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنا سکتے ہیں۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ کے تجزیہ کار کے طور پر، میں اسے پاکستان کی اقتصادی پختگی (Economic Maturity) کی علامت سمجھتا ہوں۔

مزید پڑھیں اور اپنی رائے دیں

کیا آپ کے خیال میں یہ معاہدہ واقعی پاکستانی روپے میں طویل مدتی استحکام لا سکتا ہے؟ نجی شعبہ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کس طرح منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟

ہمیں تبصروں میں اپنی رائے اور تجزیے سے آگاہ کریں۔ آپ اس نئی پیش رفت کے تناظر میں کن شعبوں (Sectors) میں سرمایہ کاری کے مواقع دیکھتے ہیں؟

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button