PSX میں زبردست ری باؤنڈ، SBP کا پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے بعد مارکیٹ میں تیزی کی لہر

Investors Regain Confidence As PSX Gains 1,200 Points Following SBP’s Status Quo Decision

پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں کئی دنوں کی مندی کے بعد اس وقت ایک شاندار ریباؤنڈ دیکھنے میں آیا جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق پالیسی ریٹ (Policy Rate) کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ پچھلے ہفتے کی فروخت کے دباؤ (Selling Pressure) کے بعد ایک مضبوط سگنل ثابت ہوا. جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس نے تقریباً 1,200 پوائنٹس کا فائدہ حاصل کیا۔

پالیسی ریٹ میں تبدیلی نہ کرنے کے اس حکیمانہ فیصلے نے نہ صرف مارکیٹ میں استحکام (Stability) کا ایک احساس پیدا کیا. بلکہ سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد بھی دیا. کہ مستقبل قریب میں معاشی پالیسیاں یکساں رہیں گی۔ تاہم، ایک تجربہ کار مارکیٹ کے تجزیہ کار کے طور پر، یہ سمجھنا ضروری ہے. کہ یہ تیزی (Rally) صرف شرح سود (Interest rate) کے ایک فیصلے تک محدود نہیں ہے. بلکہ اس میں مقامی اور عالمی سطح پر کئی اہم عوامل شامل ہیں۔

اہم نکات

 

  • PSX میں تیزی کا سبب: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا شرح سود کو 11% پر برقرار رکھنا مارکیٹ میں مثبت رجحان (Positive Sentiment) کی فوری وجہ بنا، جس سے KSE100 انڈیکس میں 1,200 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

  • سیکٹرز میں خریداری: سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں (E&P) ، او ایم سیز (OMCs)، اور بجلی پیدا کرنے والے اداروں (Power Generation) جیسے بڑے سیکٹرز میں زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔

  • افراط زر اور ترقی: MPC نے ستمبر میں افراط زر (Inflation) کو 5.6% ریکارڈ کیا، جبکہ کور افراط زر 7.3% پر برقرار رہی۔ کمیٹی نے سیلاب کے معیشت پر متوقع اثرات کو کم قرار دیا۔

  • آئی ایم ایف کا کردار: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے پاکستان کو 1.2 بلین ڈالر کی اگلی قسط دسمبر 2025 تک جاری ہونے کی توقع بھی مارکیٹ کے اعتماد کو سہارا دے رہی ہے۔

  • عالمی پس منظر: ایشیائی اور امریکی مارکیٹوں میں مثبت رجحانات، خاص طور پر ٹیکنالوجی اسٹاکس (Tech Stocks) اور شرح سود میں نرمی کی امیدوں نے، PSX کے ریباؤنڈ کے لیے سازگار عالمی ماحول فراہم کیا۔

شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ: PSX پر اتنا بڑا اثر کیوں پڑا؟

جب اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھتا ہے. تو یہ مارکیٹ میں توقعات کا استحکام (Expectation Stability) پیدا کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کسی بڑے اضافے کا خدشہ پہلے ہی قیمتوں میں شامل (Priced in) کر لیا تھا. جس کی وجہ سے پچھلے دنوں فروخت کا دباؤ تھا۔

شرح 11% پر برقرار رہنے کا مطلب ہے کہ کارپوریٹ قرضوں (Corporate Borrowings) کی لاگت میں کوئی فوری اضافہ نہیں ہوگا. جس سے کمپنیوں کے منافع (profitability) پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ استحکام، خاص طور پر مندی (Bearish) کے بعد، بڑے سرمایہ کاروں (Institutional Investors) کو اسٹاکس میں دوبارہ داخل ہونے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

پچھلے ہفتے، KSE100 میں تقریباً 0.7% کی کمی ہوئی تھی. جو جزوی طور پر "رول اوور ویک” (Rollover Week) کے احتیاطی منافع خوری (Profit-Taking) کا نتیجہ تھی۔ شرح سود برقرار رہنے کا اعلان اس مندی کو روکنے کے لیے ایک کلیدی محرک (Key Catalyst) ثابت ہوا۔ مارکیٹ کے پرانے کھلاڑی جانتے ہیں. کہ غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) مارکیٹ کی سب سے بڑی دشمن ہے. اور SBP کے فیصلے نے کم از کم مانیٹری پالیسی کے محاذ پر اس غیر یقینی کو وقتی طور پر ختم کر دیا۔

میں نے اپنے 10 سالہ مارکیٹ تجربے میں بارہا دیکھا ہے. کہ Pakistan Stock Exchange کا ردعمل صرف موجودہ پالیسی پر نہیں ہوتا. بلکہ مستقبل کی پالیسی کی توقعات پر زیادہ ہوتا ہے۔

جب مارکیٹ میں غیر یقینی ہو اور شرحیں بلند رہنے کی توقع ہو. تو بڑے فنڈز (Funds) محتاط ہو جاتے ہیں۔ SBP کے اس فیصلے نے ‘مزید اضافہ نہیں ہوگا’ کا ایک واضح اشارہ دیا. جس نے تیزی سے کیش (Cash) کو اسٹاکس میں واپس لانے کا کام کیا۔ یہ دراصل مارکیٹ کی نفسیات کی جیت تھی، صرف معاشی اصول کی نہیں۔”

KSE100 dropped sharply last week but today it seems to take a rebound
KSE100 dropped sharply last week but today it seems to take a rebound

ریباؤنڈ میں نمایاں سیکٹرز اور اسٹاکس

 

KSE100 میں ریباؤنڈ کی سب سے اہم خصوصیت بڑے سیکٹرز میں وسیع پیمانے پر خریداری (broad-based buying) تھی، جو صرف قیاس آرائی (speculation) کے بجائے حقیقی دلچسپی کی نشاندہی کرتی ہے۔

سیکٹر (Sector) اثر (Impact of Status Quo) نمایاں اسٹاکس (Key Stocks)
سیمنٹ (Cement) شرح سود برقرار رہنے سے ترقیاتی منصوبوں (development projects) اور گھروں کی تعمیر (housing finance) پر قرضوں کی لاگت مستحکم رہتی ہے، جو ان کی مانگ بڑھاتی ہے۔ LUCK, DGKC, MLCF
کمرشل بینکس (Commercial Banks) اعلیٰ شرح سود سے فائدہ اٹھانا جاری رکھیں گے، جبکہ شرح میں اضافے کے خطرے کا نہ ہونا ان کے پورٹ فولیو (portfolio) کو مزید محفوظ بناتا ہے۔ MCB, UBL, MEBL
تیل و گیس (Oil & Gas E&P) یہ سیکٹر عالمی قیمتوں اور کرنسی کے استحکام پر زیادہ انحصار کرتا ہے، لیکن مجموعی مثبت رجحان نے ان بھاری اسٹاکس (index-heavy stocks) کو بھی اوپر اٹھایا۔ POL, PPL, OGDC
بجلی و ریفائنری (Power & Refinery) ان کمپنیوں کی منافع خوری (profitability) کا انحصار گردشی قرضے (Circular Debt) اور ریٹ کے استحکام پر ہوتا ہے۔ مارکیٹ کے عمومی اعتماد نے ان میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ HUBCO, ATRL

 عالمی تناظر اور مقامی محرکات: کیا خطرات کم ہوئے؟

آئی ایم ایف اور معاشی استحکام

 

 یہاں پر سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط اور PSX کے لیے اس کی اہمیت کیا ہے؟

پاکستان کی مارکیٹ کے لیے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کی بحالی انتہائی اہم ہے۔ 1.2 بلین ڈالر کی اگلی قسط کی دسمبر 2025 تک منظوری کی توقع براہ راست ملک کے بیرونی ذخائر (Forex Reserves) کو مضبوط کرے گی. اور روپے کی قدر (Rupee Value) کو مستحکم رکھے گی۔

روپے کا استحکام درآمدی بل (Import Bill) کو کم کرنے اور افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے. جو بالآخر کارپوریٹ منافع خوری پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ مارکیٹ کو یقین ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد جاری رکھے گی. جو کہ پالیسیوں کے تسلسل کا ایک بڑا اشارہ ہے۔

 

Inflation اور Core Inflation کا فرق

 

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بتایا کہ شہ سرخی افراط زر (Headline Inflation) 5.6% تک بڑھ گئی. جبکہ کور افراط زر 7.3% پر برقرار رہی۔

  • شہ سرخی افراط زر میں اضافہ: یہ زیادہ تر سیلاب کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں معمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک عارضی مسئلہ (Transitory Issue) ہو سکتا ہے۔

  • کور افراط زر کا استحکام: کور افراط زر میں زیادہ تبدیلی نہ آنا یہ بتاتا ہے. کہ بنیادی معیشت (Underlying Economy) میں قیمتوں کا دباؤ (Price Pressure) بڑی حد تک قابو میں ہے۔ یہ SBP کے لیے ایک مثبت نکتہ ہے کہ پالیسی کو مزید سخت (Tighten) کرنے کی ضرورت نہیں ہے

عالمی مارکیٹوں کا اثر: کیا PSX تنہا نہیں؟

 

عالمی مارکیٹوں میں تیزی کا PSX پر بالواسطہ (indirect) مثبت اثر پڑا۔

  • ایشیائی شیئرز میں تیزی: عالمی تجارتی تناؤ (Global Trade Tensions) میں نرمی کی امیدوں نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں کو مضبوط کیا۔

  • ٹیکنالوجی اسٹاکس کا رجحان: نِکئی (Nikkei) سمیت مختلف انڈیکس میں ٹیکنالوجی اسٹاکس کی ریلی (Rally) نے عالمی سرمایہ کاروں کے رسک ایپیٹائٹ (Risk Appetite) کو بڑھایا۔ جب عالمی رسک سینٹیمنٹ (Risk Sentiment) بہتر ہوتا ہے. تو سرحدی مارکیٹوں (Frontier Markets) جیسے پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کا بہاؤ (Inflow) بڑھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

  • امریکی فیڈرل ریزرو: امریکہ میں شرح سود میں کمی کے امکانات نے عالمی بانڈز (Bonds) کو سہارا دیا. اور ڈالر پر دباؤ ڈالا۔ یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے سازگار ہے. کیونکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری (Foreign Investment) کے لیے راستہ ہموار ہوتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی: آگے کیا کریں؟

شرح سود کا یہ استحکام صرف ایک دن کی تیزی نہیں ہے. بلکہ یہ بنیادی اصولوں (Fundamentals) پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع ہے۔ ایک تجربہ کار حکمت عملی ساز (Strategist) کے طور پر، میں مندرجہ ذیل نکات پر غور کرنے کا مشورہ دوں گا:

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جب State Bank of Pakistan (SBP) نے مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق Policy Rate کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ چند دنوں کی مندی اور فروخت کے دباؤ کے بعد سرمایہ کاروں نے دوبارہ خریداری کی طرف رجحان دکھایا. جس سے مارکیٹ میں شاندار بحالی دیکھی گئی۔ منگل کی صبح ٹریڈنگ کے آغاز پر KSE-100 Index میں 1,200 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا. جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی واضح علامت ہے۔

قلیل المدتی (Short-Term) حکمت عملی

 

  1. منافع خوری کا جائزہ: جس تیزی سے انڈیکس 1,200 پوائنٹس چڑھا ہے. منافع خوری (Profit-Taking) کا ایک مختصر وقفہ (correction) متوقع ہو سکتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے خرید و فروخت (blind buying/selling) سے گریز کریں۔

  2. بڑے سیکٹرز پر توجہ: کمرشل بینکس، سیمنٹ، اور بجلی کے وہ اسٹاکس جن میں حالیہ تیزی کم رہی ہے. وہ تیزی سے اوپر آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی بنیادی قدر (Intrinsic Value) کا تجزیہ کریں۔

طویل مدتی (Long-Term) حکمت عملی

 

  1. پورٹ فولیو ری بیلنسنگ (Rebalancing): اپنے پورٹ فولیو میں ان کمپنیوں کے اسٹاکس کا وزن (Weight) بڑھائیں. جن کے مالیاتی نتائج (Financial Results) مستحکم ہیں. اور وہ حکومتی پالیسیوں (مثلاً تعمیراتی سیکٹر) سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں۔

  2. بلند افراط زر سے تحفظ: چونکہ کور افراط زر اب بھی 7% سے اوپر ہے. ایسے اسٹاکس کی تلاش کریں. جو افراط زر کے دباؤ کو صارفین پر منتقل کر سکیں (Pricing Power) ، جیسے کہ صارفین کی اشیاء (Consumer Goods) اور توانائی کمپنیاں۔

  3. انتظار کریں اور دیکھیں (Wait and Watch): آئی ایم ایف کی قسط کی منظوری اور عالمی مارکیٹوں کے اگلے بڑے محرکات (next major triggers) کا انتظار کریں۔ استحکام کے اس دور کو ریسرچ اور تجزیے کے لیے استعمال کریں۔

حرف آخر.

PSX کا یہ ریباؤنڈ مارکیٹ کے ایک بنیادی اصول کی تصدیق کرتا ہے. توقعات کو مستحکم کرنا ہی سب سے بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ SBP نے صرف شرح سود کو برقرار نہیں رکھا، بلکہ معاشی غیر یقینی کی ایک لہر کو بھی عارضی طور پر روک دیا۔

تاہم، مارکیٹ کی اصلی ترقی کا انحصار اب بھی حقیقی معاشی ترقی (Real Economic Growth) ، آمدنی میں اضافہ (Earning Growth) ، اور حکومت کی ساختی اصلاحات (Structural Reforms) پر ہے۔ اگلے چند ماہ تک سرمایہ کاروں کو خبروں کے شور کے بجائے کمپنیوں کے مالیاتی بیانات (Financial Statements) اور ان کی حقیقی قدر (Value) پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔

 

آپ کا کیا خیال ہے؟ اس تیزی کے بعد، آپ اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو کس طرح ترتیب دیں گے؟ اپنے خیالات اور تجزیات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

 

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button