چین کی تجارت اور RBA کی شرح سود: AUDUSD کی رینج میں رہنے کی وجوہات.
A gripping financial story of how the Australian Dollar surged amid US–China diplomatic thaw
آج کی مالی داستان میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح AUDUSD نے ایک تہلکہ خیز موڑ لیا، اور اس میں Trade Optimism، آسٹریلیا کی معاشی حالت، اور مرکزی بینک کی حکمتِ عملی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جب عالمی مارکیٹس نے خوشگوار اشارے دیکھے تو آسٹریلیائی ڈالر میں جذباتی اتھل پھل مچی۔
خلاصہ
-
AUDUSD کا رجحان: آسٹریلوی ڈالر (AUD) 0.6400 اور 0.6700 کی حد (Range) کے اندر پھنسا ہوا ہے. جو امریکہ-چین تجارتی تعلقات، فیڈرل ریزرو (Fed) کی شرح سود، اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے آئندہ فیصلے جیسے بڑے محرکات (Catalysts) کا انتظار کر رہا ہے۔
-
چین کا اہم کردار: چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار (Trade Partner) ہے. اور امریکی-چین تجارتی کشیدگی میں نرمی کی امید (Trade Optimism) AUD کے لیے ایک مضبوط معاون (Tailwind) ثابت ہوئی ہے. جس نے اسے 0.6600 کی طرف دھکیلا ہے۔
-
RBA کی توجہ مہنگائی پر: RBA مہنگائی (Inflation) کو قابو کرنے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سہ ماہی (Q3) مہنگائی کے اعداد و شمار بینک کے ہدف (2-3%) کی بالائی حد کو چھو رہے ہیں. جس سے نومبر میں شرح سود (Official Cash Rate – OCR) میں کٹوتی کا امکان بہت کم (تقریباً 91% ہولڈ کا امکان) ہو گیا ہے۔
-
تکنیکی سطحیں (Technical Levels): موجودہ تیزی کی صورت میں، AUDUSD کو اگلی مزاحمت (Resistance) 0.6629 اور پھر 0.6707 پر درپیش ہوگی۔ نیچے کی جانب، اہم سپورٹ 0.6440 پر ہے. جو 200 دن کی سادہ متحرک اوسط (200-day Simple Moving Average – SMA) سے بھی تقویت یافتہ ہے۔
AUDUSD Outlook پر امریکی-چین تجارت کا کیا اثر ہے؟
آسٹریلوی ڈالر (AUD) کو عام طور پر ایک رسک آن کرنسی (Risk-On Currency) سمجھا جاتا ہے. جو عالمی تجارت، خاص طور پر چین کے معاشی استحکام، سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ جمعرات کے ایشیائی سیشن میں، AUDUSD Outlook میں بہتری آئی. اور قیمت خریداروں کی دلچسپی سے 0.6600 کی طرف بڑھی۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جاری ملاقات کے مثبت نتائج کی امید ہے. جس سے عالمی تجارتی ماحول میں نرمی آنے کا امکان ہے۔
AUD کی مضبوطی میں چین کی معیشت کا بنیادی کردار ہے۔ چونکہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے. اور چینی مرکزی بینک بین الاقوامی تجارت میں لین دین کے لیے AUD کو استعمال کرتا ہے. اس لیے چین کی بڑھتی ہوئی طلب (Demand) اور اقتصادی ترقی (Economic Growth) براہ راست AUD کی قدر میں اضافہ کرتی ہے۔ تجارتی تنازعات میں کسی بھی قسم کی پیش رفت AUD کے لیے ہمیشہ ایک بڑا معاون عنصر (Booster) ثابت ہوتی ہے۔
آسٹریلوی معیشت: کیا RBA کے لیے شرح سود میں کٹوتی کا کوئی جواز ہے؟
RBA کی مانیٹری پالیسی کا AUDUSD outlook پر کیا اثر ہے؟
معاشی اعداد و شمار کی کارکردگی (Domestic Data Performance):
آسٹریلیا کی معیشت توقع سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ ستمبر میں بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) میں معمولی اضافہ (4.3% سے 4.5% تک) اور روزگار میں سست روی (14.9K) آئی ہے. جو لیبر مارکیٹ (Labour Market) میں ٹھنڈک کا اشارہ ہے۔
تاہم، جی ڈی پی (GDP) میں سالانہ بنیادوں پر 1.1% کی معقول نمو، اور سروسز پی ایم آئی (Services PMI) کا 53.1 تک بہتر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ معیشت میں ابھی بھی تھوڑا دم خم باقی ہے۔
-
جی ڈی پی (GDP): سہ ماہی (Q2) میں 0.6%، سالانہ 1.1% کی نمو۔
-
ریٹیل سیلز (Retail Sales): جون میں 1.2% کا اضافہ۔
-
تجارتی سرپلس (Trade Surplus): اگست میں A$1.25 بلین۔
مہنگائی کا مسئلہ اور RBA کا موقف:
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی گورنر مشیل بلک (Michele Bullock) نے واضح کر دیا ہے. کہ ہر فیصلہ "اعداد و شمار پر منحصر” (Data-Dependent) ہوگا۔ حالیہ سہ ماہی کی مہنگائی کے اعداد و شمار نے RBA کی تشویش بڑھا دی ہے. کیونکہ سالانہ مہنگائی کی شرح 3.2% رہی۔
| مہنگائی کی پیمائش (Inflation Measure) | شرح (YoY) | RBA ہدف (Target) |
| ہیڈلائن سی پی آئی (Headline CPI) | 3.2% | 2-3% |
| ٹرمڈ مین سی پی آئی (Trimmed Mean CPI) | 3.0% | 2-3% |
ٹرمڈ مین CPI کا 3.0% پر آنا، جو RBA کے ہدف کی بالائی حد (top end) کو چھو رہا ہے. پالیسی سازوں کو شرح سود کم کرنے سے روک رہا ہے۔ مارکیٹ اب نومبر کے اجلاس میں شرح (OCR) کے 3.60% پر برقرار رہنے کا 91% امکان دیکھ رہی ہے۔ ہاٹ مہنگائی (Hot Inflation Print) کی صورت میں شرح میں کٹوتی کی بات چیت کو مزید ملتوی کیا جا سکتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے کہ مرکزی بینک (Central Banks) اپنے مقررہ ہدف کے قریب مہنگائی کو لے کر کتنے حساس ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں، RBA کا رویہ مکمل طور پر احتیاط پر مبنی (Cautious) ہے۔
اگر مہنگائی ہدف کے قریب رہتی ہے. یا اس سے اوپر جاتی ہے تو وہ شرح سود میں کٹوتی کو جلد بازی نہیں کریں گے۔ ایک سمجھدار ٹریڈر یا سرمایہ کار RBA کے اگلے اقدام کو فیڈ (Fed) سے پہلے نہیں دیکھے گا. کیونکہ ڈالر کی حرکت AUDUSD کو زیادہ متاثر کرے گی۔ RBA اب محض انتظار کرو اور دیکھو (Wait-and-See) کی حکمت عملی اپنائے گا. جب تک کہ لیبر مارکیٹ یا چین سے کوئی شدید منفی اشارہ نہ آئے۔
کنیکی جائزہ: AUDUSD 0.6400 اور 0.6700 کی حد میں کیوں ہے؟
AUDUSD کی اہم مزاحمت اور سپورٹ کی سطحیں کیا ہیں؟
تکنیکی انالیسس (Technical Analysis) کے مطابق، AUDUSD اس وقت ایک وسیع تجارتی حد (Trading Range) یعنی 0.6400 اور 0.6700 کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔
مضبوط آسٹریلوی مہنگائی کے اعداد و شمار نے RBA کے شرح میں کٹوتی نہ کرنے کے نظریے کو تقویت دی ہے. جس نے AUD کو مزید مدد فراہم کی ہے۔ مومینٹم انڈیکیٹرز (Momentum Indicators) جیسے کہ ریلیٹیو سٹرینتھ انڈیکس (Relative Strength Index – RSI) جو 60 سے اوپر ہے. قلیل مدتی بنیادوں پر مزید اضافے کی حمایت کر رہا ہے۔
تاہم، ایوریج ڈائریکشنل انڈیکس (Average Directional Index – ADX) کا 19 سے اوپر نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ موجودہ رجحان (Trend) ابھی بھی کمزور ہے. اور ایک مضبوط بریک آؤٹ (Breakout) کے لیے واضح محرک کی ضرورت ہے۔
| سمت (Direction) | سطح (Level) | وضاحت (Significance) |
| مزاحمت (Resistance) | 0.6629 | اکتوبر کا بلند ترین نقطہ (October High) |
| اگلی مزاحمت | 0.6707 | 2025 کی بالائی حد (2025 Ceiling) |
| اہم سپورٹ (Support) | 0.6440 | اکتوبر کا نچلا ترین نقطہ (October Floor) اور 200-day SMA |
| اگلی سپورٹ | 0.6414 | اگست کی بنیاد (August Base) |

AUDUSD کے لیے مستقبل کی سمت.
AUDUSD کی قسمت تین بڑے عوامل پر منحصر رہے گی.
-
امریکہ-چین تجارتی نتیجہ: ٹرمپ-شی ملاقات کا کوئی بھی مثبت نتیجہ AUD کو 0.6700 کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
-
RBA کا نومبر کا فیصلہ: شرح برقرار رہنے کی صورت میں AUD کو حمایت ملے گی. لیکن اگر RBA کا لہجہ (Tone) غیر متوقع طور پر کٹوتی کا اشارہ (Dovish) ہوا تو AUD پر دباؤ بڑھے گا۔
-
امریکی ڈالر اور فیڈ کی پالیسی: اگر فیڈ (Fed) کی جانب سے مستقبل میں مزید کٹوتیوں کے امکانات میں کمی آئی. (جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہو رہا ہے). تو امریکی ڈالر (USD) مضبوط ہوگا اور AUDUSD پر نیچے کی طرف دباؤ پڑے گا۔
تجربہ بتاتا ہے کہ کرنسی کا جوڑا ایک بڑی خبر یا پالیسی کی تبدیلی سے پہلے حد (Range) میں رہ کر طاقت جمع (Consolidation) کرتا ہے۔ 0.6400 سے 0.6700 کی حد میں ٹریڈنگ اس بات کی علامت ہے. کہ مارکیٹ بڑے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ٹریڈرز کو اس حد کے اطراف (Edges) پر حکمت عملی بنانی چاہیے. اور کسی بھی بریک آؤٹ کو مستند محرک (Genuine Catalyst) سے منسلک ہونے کے بعد ہی فالو کرنا چاہیے۔
آپ کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی-چین تجارت میں نرمی AUD کو RBA کے فیصلے سے زیادہ متاثر کرے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



