پاکستان کا Current Account Deficit دوگنا، Trade Gap نئی حدوں کو چھونے لگا
Surging Imports and Slowing Exports Deepen External Pressures
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر فیصلوں کے بھنور میں کھڑی ہے. جہاں مسلسل بڑھتی ہوئی درآمدات، گرتی ہوئی برآمدات اور دباؤ کا شکار بیرونی کھاتہ مالیاتی کہانی کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں Current Account Deficit کے سامنے آنے نے نہ صرف سرمایہ کاروں کو چونکا دیا. بلکہ پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی۔
اس بار درآمدات کی تیز رفتار واپسی اور برآمدات میں سست روی نے معاشی استحکام کی پوری کشتی کو ہلا کر رکھ دیا ہے. جب کہ صرف Workers Remittances وہ واحد سہارا ثابت ہوئے. جو ڈوبتی سانسوں کو وقتی سہولت دے رہے ہیں۔
خلاصہ.
-
اکتوبر 2025 کا نتیجہ: پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ نے اکتوبر 2025 میں 112 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا. جو ستمبر کے سرپلس سے واپس خسارے کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتا ہے۔
-
بنیادی وجہ: یہ Current Account Deficit بنیادی طور پر درآمدات میں 13% سے زیادہ کے سالانہ اضافے اور برآمدات میں تقریباً 4% کی کمی کی وجہ سے تجارتی خسارے (Trade Deficit) میں اضافے کا نتیجہ ہے۔
-
ترسیلات زر کا کردار: ترسیلات زر (Workers’ Remittances) اکتوبر 2025 میں 12% کے سالانہ اضافے کے ساتھ $3.42 بلین تک پہنچ گئیں. جو تجارتی عدم توازن (Trade Imbalance) کو متوازن رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
-
4MFY26 کا مجموعی رجحان: مالی سال 2026 کے پہلے چار مہینوں (4MFY26) میں مجموعی Current Account Deficit بھی 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے. جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 256% کا نمایاں اضافہ ہے۔
-
بیرونی بفرز: اس کے باوجود، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) میں سالانہ بنیادوں پر 29% کا اضافہ ہوا ہے. جو بیرونی دباؤ کے خلاف کچھ حد تک استحکام (Stability) فراہم کرتا ہے۔
Current Account Deficit کیوں بڑھ رہا ہے.
Current Account Deficit اس وقت ہوتا ہے جب کسی ملک کی بیرونی آمدنی (External Earnings) اس کے بیرونی اخراجات (External Payments) سے کم ہوتی ہے۔ اکتوبر 2025 کے 112 ملین ڈالر کے خسارے کا مطلب ہے. کہ ملکی اخراجات، خاص طور پر اشیاء اور خدمات کی درآمدات، ملک کی کمائی، خاص طور پر برآمدات اور ترسیلات زر، سے زیادہ تھیں۔
1. بڑھتی ہوئی درآمدات اور کمزور برآمدات
Current Account Deficit کی خراب کارکردگی میں سب سے بڑا عنصر تجارتی خسارہ ہے:
| پیمانہ (Metric) | اکتوبر 2025 (USD) | اکتوبر 2024 (USD) | سالانہ تبدیلی |
| کل درآمدات (Total Imports) | $6.32 بلین | $5.58 بلین | ↑ 13% سے زیادہ |
| کل برآمدات (Total Exports) | $3.57 بلین | $3.71 بلین | ↓ 4% کے قریب |
وجوہات کا تجزیہ:
-
درآمدات میں اضافہ: درآمدی بل میں 13% سے زیادہ کا اضافہ ملکی طلب (Domestic Demand) میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں. خام مال (Raw Material) ، مشینری (Machinery)، اور تیار شدہ مصنوعات (Finished Goods) کی ضرورت بڑھ جاتی ہے. جس سے درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے۔
-
برآمدات میں کمی: برآمدات میں 4% کی کمی عالمی طلب (Global Demand) میں سست روی یا پاکستانی مصنوعات کی مسابقت (Competitiveness) میں کمی کا اشارہ دے سکتی ہے۔ ایک فعال حکمت عملی ساز کے طور پر، ہم جانتے ہیں. کہ عالمی اقتصادی ماحول (Global Economic Climate) میں ذرا سی بھی تبدیلی پاکستان جیسی برآمد پر منحصر معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
میرے تجربے میں، جب بھی حکومت شرح سود (Interest Rate) میں کمی یا مالیاتی محرک (Fiscal Stimulus) کے ذریعے ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کرتی ہے. تو اس کے فوراً بعد درآمدی بل میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
2018-2019 میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھا گیا تھا. جہاں مستحکم کرنسی کے دور میں درآمدات اتنی بڑھ گئیں. کہ فوراً زرمبادلہ کے بحران (Forex Crisis) کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے. کہ ملکی طلب میں بحالی کا دباؤ درآمدات پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پڑتا ہے۔
2. ترسیلات زر کا مستحکم سہارا
خوش قسمتی سے، ترسیلات زر (Remittances) کا مضبوط بہاؤ تجارتی خسارے کے بوجھ کو جزوی طور پر متوازن کر رہا ہے۔
-
اکتوبر 2025 میں ترسیلات زر: $3.42 بلین۔
-
سالانہ اضافہ: 12%۔
جیسا کہ JS Global کے ریسرچ ہیڈ نے بھی نشاندہی کی ہے. ترسیلات زر کا کردار پاکستانی معیشت کے بیرونی استحکام (External Stability) کے لیے پیووٹل رہا ہے۔ یہ زرمبادلہ کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے. جو کرنٹ اکاؤنٹ کو مکمل تباہی سے بچاتا ہے۔
4MFY26 کا مجموعی تناظر: طویل مدتی رجحان کی اہمیت
اقتصادی اشاریوں (Economic Indicators) کا تجزیہ صرف ایک مہینے کی بجائے وسیع مدت میں کرنا زیادہ اہم ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے چار مہینوں (جولائی سے اکتوبر) میں مجموعی صورتحال درج ذیل ہے:
-
4MFY26 میں مجموعی خسارہ: $733 ملین۔
-
گزشتہ سال کے اسی عرصے (4MFY25) کا خسارہ: $206 ملین۔
-
اضافہ: 256%۔
4MFY26 کا $733 ملین کا خسارہ ایک اہم تشویش ہے کیونکہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی ساختی مسائل (Structural Issues) برقرار ہیں. جہاں ترقی کی کوئی بھی کوشش درآمدی بل کو تیزی سے بڑھاتی ہے. جو ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کے لیے خطرہ ہے۔
اس خسارے کا مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
1. شرح مبادلہ پر دباؤ (Pressure on Exchange Rate): جب Current Account Deficit بڑھ جاتا ہے. تو ملک کو ڈالرز میں فرق کو پورا کرنے کے لیے مزید ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ طلب (Demand) اور رسد (Supply) کے اس عدم توازن کی وجہ سے پاکستانی روپیہ (Pakistani Rupee) دباؤ میں آ سکتا ہے. جس سے درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں اور مہنگائی (Inflation) میں اضافہ ہوتا ہے۔
2. پالیسی ریٹ کی توقعات (Policy Rate Expectations): کرنٹ اکاؤنٹ کا دباؤ عام طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو شرح سود (Policy Rate) کو بلند رکھنے پر مجبور کرتا ہے. تاکہ درآمدات کو سست کیا جا سکے. اور سرمائے کے انخلاء (Capital Outflow) کو روکا جا سکے۔ مارکیٹ شرکاء (Market Participants) کو مستقبل میں سختی (Tightening) کی پالیسی کی توقع رکھنی چاہیے۔
3. غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام (Foreign Exchange Reserves Stability): خوش آئند بات یہ ہے. کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر $14.50 بلین تک پہنچ گئے ہیں (CRR/SCRR کو چھوڑ کر). جو سالانہ بنیاد پر 29% کا نمایاں اضافہ ہے۔ مضبوط ذخائر خسارے کے باوجود مارکیٹ کے اعتماد (Market Confidence) کو سہارا دیتے ہیں. اور فوری ادائیگیوں (Immediate Payments) کے لیے ایک حفاظتی بفر (Safety Buffer) فراہم کرتے ہیں۔ یہ ذخائر ملکی کرنسی کو قلیل مدتی (Short-Term) اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے اہم ہیں۔
طویل المدتی وژن کی ضرورت
اکتوبر 2025 کا Current Account Deficit ایک یاد دہانی ہے. کہ پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ترسیلات زر اور مضبوط ذخائر کی شکل میں استحکام کے بفرز موجود ہیں. لیکن $733 ملین کا 4MFY26 کا مجموعی خسارہ طویل المدتی پالیسی سازوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ صرف موجودہ بحرانوں کو ٹالنے کی بجائے، پائیدار برآمدی نمو (Sustainable Export Growth) اور درآمدی متبادل (Import Substitution) کی طرف توجہ دیں۔
فنانشل مارکیٹس میں، ہم جانتے ہیں کہ بار بار سرپلس اور Current Account Deficit کی طرف جھولنا سرمایہ کاروں کے اعتماد (Investor Confidence) کو متاثر کرتا ہے۔ حقیقی استحکام تب ہی آئے گا جب یہ عدم توازن ساختی طور پر حل ہو جائے گا۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



