IT Exports میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ

A powerful financial narrative of Pakistan’s rising IT export momentum driven by GCC clients and SBP reforms

پاکستان IT Exports ریکارڈ بن چکا ہے! اکتوبر 2025 میں، پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) سیکٹر نے ایک تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب ماہانہ برآمدات (Exports) 386 ملین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

یہ محض ایک عدد نہیں؛ یہ ہماری ٹیکنالوجی (Technology) انڈسٹری (Industry) میں پختگی اور دنیا میں ہمارے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ مالیاتی مارکیٹ کے ماہرین کی حیثیت سے، ہمیں اس سنگ میل کے پیچھے کی گہرائیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

خلاصہ.

 

  • ریکارڈ توڑ کارکردگی: اکتوبر 2025 میں آئی ٹی برآمدات IT Exports پہلی مرتبہ 386 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں. جو سال بہ سال 17 فیصد اور ماہ بہ ماہ 5 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے. جب سال بہ سال نمو (growth) برقرار ہے۔

  • ترقی کے محرکات (Growth Drivers): مقامی آئی ٹی فرموں (IT firms) کی جانب سے کلائنٹ پورٹ فولیو (Client Portfolios) میں وسعت، خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے خطے میں مضبوط اضافہ، اور سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے حالیہ امدادی اقدامات۔

  • ایس بی پی (SBP) کا کردار: برآمد کنندگان (Exporters) کو اپنے خصوصی غیر ملکی کرنسی کھاتوں (Specialized Foreign Currency Accounts) میں زرمبادلہ (Foreign Exchange) برقرار رکھنے کی حد 50 فیصد تک بڑھانا ایک کلیدی اقدام ہے جس نے ترسیلات (Remittances) کو بڑھایا ہے۔

  • مالی سال (FY26) کے اہداف: حکومت کا ہدف 5 بلین امریکی ڈالر ہے، جبکہ موجودہ رجحانات (Current Trends) 4.5 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 18-20% نمو) کی طرف اشارہ کر رہے ہیں. جو کہ گزشتہ سال کے 3.8 بلین امریکی ڈالر سے ایک مضبوط پیش رفت ہے۔

  • طویل مدتی وژن: "اُڑان پاکستان” کے قومی معاشی منصوبے کے تحت، 2029 کے مالی سال تک 10 بلین امریکی ڈالر کے آئی ٹی برآمدی ہدف کی طرف پیش رفت جاری ہے۔

IT Exports میں یہ تیزی کیوں آئی؟

یہ غیر معمولی کامیابی اتفاقیہ نہیں ہے۔ مالیاتی مارکیٹ میں ہر بڑی حرکت کی طرح، اس کے پیچھے ٹھوس میکرو اکنامک (Macroeconomic) اور پالیسی (Policy) عوامل کارفرما ہیں۔

IT Exports میں تیزی کی سب سے بڑی وجوہات میں مقامی فرموں کا خلیجی ممالک (GCC Region) میں مارکیٹ کی توسیع (Market Expansion) ، اور سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے ایکسپورٹرز کو زرمبادلہ (Foreign Exchange) کے لین دین (Transactions) میں دی گئی آسانیاں شامل ہیں۔ ایکسچینج ریٹ (Exchange Rate) میں نسبتاً استحکام نے بھی برآمد کنندگان کو پاکستان میں اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ لانے کی ترغیب دی ہے۔

کلائنٹ پورٹ فولیو کی وسعت: مشرق وسطیٰ کی طاقت

مقامی آئی ٹی کمپنیوں نے مؤثر طریقے سے اپنے کلائنٹ بیس (Client Base) کو بڑھایا ہے. جس میں GCC خطہ ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ توانائی (Energy) سے لے کر انفراسٹرکچر (Infrastructure) تک، خلیجی ممالک ٹیکنالوجی میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں. اور پاکستانی کمپنیاں ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک لاگت-مؤثر (Cost-Effective) اور باصلاحیت حل فراہم کر رہی ہیں۔

  • GCC کی توجہ: متحدہ عرب امارات (UAE) اور سعودی عرب جیسے ممالک کی "ویژن 2030” جیسی ڈیجیٹل (Digital) تبدیلی کی کوششوں نے پاکستانی آئی ٹی خدمات کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

  • معیاری خدمات: پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کا معیاری کام اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے. جس سے بڑے پراجیکٹس (Projects) حاصل کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔

طویل مدتی وژن: 2029 تک 10 بلین امریکی ڈالر

پاکستان نے "اُڑان پاکستان” قومی اقتصادی منصوبے کے تحت 2029 کے مالی سال تک 10 بلین امریکی ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا ایک زیادہ بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔

ٹارگٹڈ فنانشل میٹرک تفصیل نمو کی شرح (CAGR)
مالی سال 26 کا ہدف 5.0 بلین امریکی ڈالر (تخمینہ: 4.5 بلین امریکی ڈالر) تقریباً 18-20%
مالی سال 29 کا ہدف 10.0 بلین امریکی ڈالر 27% (پچھلے چار سالوں پر)

27 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (Compound Annual Growth Rate – CAGR) ایک بہت ہی جرات مندانہ لیکن قابل حصول ہدف ہے. بشرطیکہ:

  1. پالیسی کا تسلسل: SBP کے اصلاحاتی اقدامات کو برقرار رکھا جائے. اور مزید آسانیاں فراہم کی جائیں۔

  2. ہنر کی فراہمی (Talent Pipeline): آئی ٹی انڈسٹری کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اہل اور تربیت یافتہ افرادی قوت (Manpower) کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

  3. مارکیٹ رسائی: GCC کے علاوہ، شمالی امریکہ (North America) اور یورپی یونین (EU) کی مارکیٹوں میں مؤثر طریقے سے وسعت حاصل کی جائے۔

سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکتہ.

آئی ٹی سیکٹر کی یہ مضبوط کارکردگی نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) کے لیے ایک مثبت خبر ہے. بلکہ یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ٹیکنالوجی سے متعلقہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع (Investment Opportunities) کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

  • عمل کا مشورہ (Actionable Advice): وہ کمپنیاں جو GCC خطے میں مضبوط موجودگی رکھتی ہیں. یا جن کے کاروبار کا بڑا حصہ برآمدات (Exports) پر مشتمل ہے. اور جو SBP کے ریٹینشن (Retention) قوانین سے براہ راست فائدہ اٹھا رہی ہیں، ان کا بنیادی تجزیہ (Fundamental Analysis) کرنا چاہیے۔ مضبوط آمدنی (Strong Revenue) میں اضافے کا مطلب مستقبل میں بہتر منافع (Better Profits) اور ایکویٹی (Equity) ویلیو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

استحکام اور اعتماد کا دور.

پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کا 386 ملین امریکی ڈالر کا ریکارڈ توڑنا ملک کے لیے ایک اہم کامیابی ہے. جو واضح طور پر بتاتا ہے. کہ درست پالیسی (policy) مداخلتیں اور جغرافیائی مارکیٹ (Geographic Market) حکمت عملی (Strategy) کس قدر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک ایسے دور کا اشارہ دے رہے ہیں. جہاں استحکام (Stability) اور اعتماد (Confidence) کا معیشت پر مثبت اثر پڑ رہا ہے۔ ایک دہائی کے تجربے سے میں یہ جانتا ہوں. کہ فنانشل مارکیٹس میں، ٹیکنالوجی ہمیشہ آگے کی طرف لے جانے والا انجن رہی ہے۔

پاکستان کے لیے، آئی ٹی ایک عارضی رجحان نہیں. بلکہ طویل مدتی معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے اور 10 بلین امریکی ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے، مسلسل پالیسی سپورٹ (Policy Support) اور عالمی معیار کے ہنر پر سرمایہ کاری (investment) کرنا ناگزیر ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے.؟ کیا پاکستان اپنی موجودہ حکمت عملیوں کے ساتھ 5 بلین امریکی ڈالر کے ہدف کو پورا کر پائے گا.؟ نیچے تبصرہ (comment) کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button