USDJPY کی اڑان، Federal Reserve اور BoJ کی پالیسی جنگ سے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی.
Stronger US jobs data, rising BoJ rate-hike expectations and JGB yield spikes intensify volatility in USDJPY
بدھ کی ایشیائی مارکیٹ میں USDJPY نے ایک مرتبہ پھر تیزی دکھاتے ہوئے دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب داخلہ لیا، جہاں مضبوط امریکی ملازمتوں کے اعدادوشمار نے US Dollar کو نئی جان بخشی۔ دوسری طرف مارکیٹیں منجمد، نظریں جمی ہوئی ہیں. کیونکہ آج رات Federal Reserve کا فیصلہ عالمی کرنسیوں کی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔
ادھر جاپان میں بڑھتی ہوئی BoJ ریٹ ہائیک توقعات اور ریکارڈ سطحوں پر پہنچتی ہوئی JGB Yields نے Japanese Yen کی حرکات میں غیر یقینی کو دوگنا کر دیا ہے۔ اس پورے منظرنامے نے USDJPY کو ایک ایسی فنانشل اسٹوری میں تبدیل کر دیا ہے. جہاں ہر ڈیٹا پوائنٹ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اہم نکات
-
امریکی ڈالر کی طاقت: مضبوط امریکی ملازمتوں کے اعداد و شمار نے امریکی ڈالر (USD) کو جاپانی ین (JPY) کے مقابلے میں تقویت دی. جس سے USDJPY دو ہفتے کی بلند ترین سطح $157.00 کے قریب پہنچ گیا۔
-
فیڈ کا فیصلہ محور: فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے شرح سود کے فیصلے کا انتظار ہے. اگر فیڈ کی پالیسی میں نرمی (dovish) کا اشارہ ملتا ہے. تو USD پر دباؤ بڑھے گا. جبکہ سود کی شرح میں کٹوتی (Rate Cut) کا تقریباً 90% امکان پہلے ہی مارکیٹ میں قیمتوں میں شامل (Priced In) ہے۔
-
جاپانی ین کی مزاحمت: بینک آف جاپان (BoJ) کی شرح سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات اور بلند جاپانی حکومتی بانڈ (JGB) کی پیداوار (Yields) جاپانی ین کو نچلی سطح پر مستحکم رکھ رہی ہیں۔
-
اقتصادی تضادات: جاپان کی نامیاتی اجرتوں (Nominal Wages) میں اضافہ ہوا. لیکن افراط زر (Inflation) کی وجہ سے حقیقی اجرتیں (Real Wages) مسلسل 10ویں مہینے سکڑ گئیں؛ Q3 جی ڈی پی (GDP) میں پہلی رپورٹ سے زیادہ تیزی سے کمی ہوئی۔
USDJPY: امریکی ملازمتوں کا ڈیٹا اور فیڈ کے فیصلے کے سائے میں مارکیٹ کی اونچائی
USDJPY کا جوڑا حالیہ دنوں میں ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے. جس نے مضبوط امریکی ملازمتوں کے اعداد و شمار (Jobs Data) کی وجہ سے دو ہفتے کی بلند ترین سطح $157.00 کے قریب پہنچ کر ایک غیر متوقع طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
تاہم، مالیاتی دنیا کی نظریں اب امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے آنے والے شرح سود (interest rate) کے فیصلے پر مرکوز ہیں. جو اس جوڑے کی مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔ تجربہ کار ٹریڈرز (Traders) اس وقت کسی بھی جارحانہ پوزیشن (Aggressive Position) لینے سے گریزاں ہیں. جو کہ بڑے اقتصادی اعلانات سے پہلے مارکیٹ کی عام احتیاط کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی ڈالر کے پیچھے محرکات: فیڈ اور ملازمتوں کی رپورٹ
مضبوط امریکی روزگار کے اعداد و شمار کا اثر
حال ہی میں جاری کیے گئے امریکی روزگار کے اعداد و شمار، جو توقع سے کہیں زیادہ مضبوط تھے. نے امریکی معیشت کی پائیداری (Resilience) کا اشارہ دیا ہے. یہ مضبوطی عام طور پر ڈالر کے لیے مثبت ہوتی ہے. کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ معیشت بلند شرح سود کے بوجھ کو برداشت کر رہی ہے. اور فیڈ کو شرحوں میں تیزی سے کمی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ USDJPY میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
امریکی ملازمتوں کے مضبوط اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے. کہ امریکی معیشت پائیدار ہے. جو فیڈ کو شرح سود میں کمی کرنے کی جلدی سے روک سکتا ہے۔ اس نے عارضی طور پر امریکی ڈالر کو تقویت دی اور USDJPY کو دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر دھکیل دیا۔ تاہم، مارکیٹ کا اصل ردعمل فیڈ کے آئندہ مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کے بیان پر منحصر ہوگا۔
میرا دس سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی امریکی ملازمتوں کا ڈیٹا (خاص طور پر نان فارم پے رولز) توقعات سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے. تو یہ ایک ابتدائی مارکیٹ جھٹکا (Initial Market Shock) پیدا کرتا ہے۔ تاہم، یہ جھٹکا اکثر پائیدار نہیں ہوتا. جب تک کہ فیڈ کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) اس کی توثیق نہ کرے۔
ٹریڈرز کے لیے، یہ ایک سیکنڈری سگنل ہے. پرائمری سگنل ہمیشہ فیڈ کا "ڈاٹ پلاٹ” (Dot Plot) اور چیئرمین پاول کے بیانات ہوتے ہیں۔ اصل کھیل ان دونوں معلومات کے درمیان مطابقت (Coherence) کو سمجھنے میں ہے۔
فیڈ کا آئندہ فیصلہ: کیا سود کی شرح میں کٹوتی (Rate Cut) ہوگی؟
CME گروپ کے فیڈ واچ ٹول (FedWatch Tool) کے مطابق، ٹریڈرز فیڈ کی جانب سے شرح سود میں کمی کے تقریباً 90% امکان کی قیمت پہلے ہی لگا چکے ہیں۔ یہ توقع امریکی ڈالر پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہے. اور اسے اکتوبر کے آخر سے اپنی کم ترین سطح پر رکھتی ہے۔
فیڈ کے فیصلے پر قریبی نظر رکھی جائے گی، خاص طور پر اپڈیٹ شدہ اقتصادی پیش گوئیوں، نام نہاد ڈاٹ پلاٹ (Dot Plot) جو مستقبل کی شرحوں کی پیش گوئی کرتا ہے. اور چیئرمین جیروم پاول (Jerome Powell) کی پریس کانفرنس پر۔ مارکیٹ صرف موجودہ فیصلے میں دلچسپی نہیں رکھتی. بلکہ فیڈ کے آئندہ شرح سود میں کمی کے راستے (Rate-Cut Path) کے بارے میں مزید اشارے تلاش کر رہی ہے۔
جاپانی ین (JPY) کے پیچھے کی طاقت: BoJ کی بڑھتی ہوئی توقعات
کیا BoJ شرحوں میں اضافہ کرے گا؟
جاپانی ین (JPY) کو اس وقت بینک آف جاپان (BoJ) کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں سے کچھ مدد مل رہی ہے۔
-
اجرتوں میں اضافہ: جاپان کی نامیاتی اجرتوں میں سالانہ بنیادوں پر 2.6% کا اضافہ ہوا. جو توقعات (2.2%) سے زیادہ تھا اور تین ماہ میں سب سے مضبوط اضافہ تھا۔
-
حقیقی اجرتوں میں کمی: اس کے باوجود، صارفین کی قیمتوں میں 3.4% کے اضافے کے تناظر میں. افراط زر کے مطابق ایڈجسٹ کی گئی حقیقی اجرتیں (Inflation-Adjusted Real Wages) مسلسل 10ویں مہینے 0.7% کم ہو گئیں۔
اگرچہ حقیقی اجرتوں میں کمی ہوئی ہے، سرمایہ کار اس بات پر قائل نظر آتے ہیں. کہ اجرتوں میں مجموعی اضافہ گھریلو قوت خرید (Household Purchasing Power) اور اخراجات کو بڑھائے گا. جو بالآخر مانگ سے چلنے والی افراط زر (Demand-Driven Inflation) کو ہوا دے گا. اور معیشت کو سہارا دے گا۔
گورنر کازو اویدا (Kazuo Ueda) کے اس بیان نے بھی مارکیٹ میں ایک لہر دوڑا دی. کہ اقتصادی اور قیمتوں کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ اس طرح کے بیانات، جو مانیٹری پالیسی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں. عام طور پر BoJ کی جانب سے آئندہ مہینوں میں پالیسی کو معمول پر لانے (policy normalization) کی تیاری کا اشارہ دیتے ہیں۔
بانڈ ییلڈز اور شرح فرق کا کردار
جاپانی حکومتی بانڈ (JGB) کی پیداوار (yields) کئی سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
-
10 سالہ JGB ییلڈ: گزشتہ ہفتے اپنی 2007ء کے بعد کی مضبوط ترین سطح پر پہنچ گئی۔
-
20 سالہ اور 30 سالہ JGB ییلڈز: یہ پیداوار بھی 1999ء کے بعد کی بلند ترین سطح پر دیکھی گئیں۔
شرح فرق (Rate Differential): جب جاپان میں بانڈ کی پیداوار بڑھتی ہے. اور دیگر بڑی معیشتوں، جیسے امریکہ، میں شرحیں کم ہوتی ہیں یا کم ہونے کی توقع ہوتی ہے. تو دونوں ملکوں کے درمیان شرح کا فرق تنگ (Narrowing) ہو جاتا ہے۔ یہ تنگ ہوتا فرق کم پیداوار والے جاپانی ین کے لیے ایک مضبوط معاونت فراہم کرتا ہے. کیونکہ جاپان میں پیسہ رکھنے کا ‘نقصان’ کم ہو جاتا ہے۔
USDJPY کی تکنیکی جھلک (Technical Overview)
موجودہ تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) مارکیٹ میں ہچکچاہٹ کی نشاندہی کرتا ہے:
-
منفی رجحان (Bearish Bias): USDJPY 100-گھنٹہ کی سادہ حرکت پذیر اوسط (Simple Moving Average – SMA) سے اوپر جانے میں مسلسل ناکام رہا ہے. اور گھنٹہ وار چارٹ پر تکنیکی اشارے (Technical Indicators) منفی زون میں ہیں۔ یہ ایک اضافی گراوٹ کا اشارہ دیتے ہیں۔
-
کلیدی سپورٹ (Key Support): کسی بھی مزید اندرونی دن کی گراوٹ کو $154.35 (جمعہ کے نچلے جھول – Friday’s swing low) کے قریب حمایت مل سکتی ہے. جس کے نیچے $154.00 کی گول سطح (Round Figure) تک گرنے کا امکان ہے۔
-
مزاحمتی سطح (Resistance Level): کوئی بھی بامعنی بحالی کی کوشش $155.35 کے قریب، یا 100-گھنٹہ SMA، پر سخت مزاحمت کا سامنا کرے گی۔ اگر جوڑا $155.00 کی سطح سے اوپر جاتا ہے. تو شارٹ کورنگ (Short-Covering) کی ایک لہر $156.00 کی طرف جا سکتی ہے. جس کا حتمی ہدف $157.00 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل (Conclusion and Way Forward)
USDJPY مارکیٹ اس وقت امریکی معیشت کی مضبوطی اور جاپانی پالیسی میں تبدیلی کی توقعات کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ فیڈ کا فیصلہ ہی اس گتھی کو سلجھائے گا۔ اگر فیڈ شرحوں میں کمی کی طرف ایک واضح، نرم (Dovish) راستہ دکھاتا ہے. تو ڈالر دباؤ میں آئے گا اور $154.35 کی سپورٹ ٹوٹ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر فیڈ اپنے ڈاٹ پلاٹ میں شرحوں میں کمی کے راستے کو توقع سے کم ظاہر کرتا ہے. تو ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے. اور $157.00 کی سطح دوبارہ زیر غور آئے گی۔
حتمی بصیرت: تجربہ کار ٹریڈرز کے لیے، یہ ایک ایسا وقت ہے. جہاں ‘انتظار کرنا اور دیکھنا’ (Wait-and-See) ہی سب سے بہترین حکمت عملی ہے۔ اہم اعلانات سے پہلے پوزیشنز لینا خطرناک جواری کے مترادف ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں. مارکیٹیں خبروں پر نہیں. بلکہ خبروں پر کیے گئے ردعمل پر حرکت کرتی ہیں۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا Federal Reserve کا فیصلہ امریکی ڈالر کو مزید کمزور کرے گا. یا جاپانی ین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو امریکی شرحوں میں کٹوتی کی توقعات کے باوجود بھی برقرار رکھے گا؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



