Crypto Market Regulation کا پیچیدہ منظر: امریکی سینیٹ میں بل پھنسا کیوں ہے؟
Democrats and Republicans clash over stability, ethics, and oversight as the Senate races against the legislative clock
کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی صنعت کو طویل عرصے سے درکار ریگولیٹری وضاحت کے لیے امریکی سینیٹ میں ہونے والی کوششیں آخری لمحات میں الجھن کا شکار ہو گئی ہیں۔ Crypto Market Structure Bill بل جو کرپٹو اثاثوں (Crypto Assets) کے لیے واضح مارکیٹ ڈھانچہ (Market Structure) قائم کرنے کی طرف اہم قدم ہو سکتا تھا،
اب 2025 کے اختتام سے پہلے سینیٹ کیلنڈر (Senate calendar) کی وجہ سے وقت کے دباؤ میں ہے۔ طویل مذاکرات کے بعد، ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کیے گئے نئے مطالبات نے ریپبلکنز کے ساتھ بنیادی اختلافات کی گہرائی کو ظاہر کیا ہے. جس سے قانون سازی کا عمل مشکل ہو گیا ہے۔ مارکیٹیں اس تعطل کو کیسے دیکھ رہی ہیں. اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟ یہ گہرائی سے تجزیہ، دس سال کے مالیاتی مارکیٹ کے تجربے پر مبنی، پیش خدمت ہے۔
اہم نکات
-
وقت کا دباؤ: US Senate کے پاس سال 2025 کے اختتام سے پہلے Crypto Market Structure Bill پر مارک اپ (Markup) سماعت کرنے کے لیے بہت کم دن باقی ہیں۔
-
ڈیموکریٹس کے نئے مطالبات: ڈیموکریٹس نے آخری لمحات میں نئے مطالبات پیش کیے ہیں. جن میں مالیاتی استحکام (Financial Stability) ، مارکیٹ کی سالمیت (Market Integrity) ، اور عوامی عہدیداروں کے کرپٹو تجارت سے منافع کمانے پر سخت اخلاقی پابندیاں شامل ہیں۔
-
ریگولیٹری تقسیم: Commodity Futures Trading Commission (CFTC) اور Securities and Exchange Commission (SEC) کے درمیان طویل مدتی نگرانی کی تقسیم کا بنیادی ڈھانچہ ابھی تک طے نہیں ہو سکا. جس سے بل کا مرکزی ریگولیٹری نقشہ نامکمل ہے۔
-
وائٹ ہاؤس کی مداخلت: ریپبلکن مذاکرات کاروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس (White House) نے اخلاقیات کے کچھ دفعات اور ڈیموکریٹک کمشنروں کی تقرریوں کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
-
جنوری کا خطرہ: اگر Crypto Market Structure Bill جنوری 2026 تک ملتوی ہوتا ہے. تو مڈٹرم انتخابات (Midterm Elections) اور حکومتی فنڈنگ (Government Funding) کی میعاد ختم ہونے (Continuing Resolution) کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس کی پیش رفت مزید رک سکتی ہے۔
ڈیموکریٹس کے مرکزی اختلافات اور مطالبات کیا ہیں؟
ڈیموکریٹس نے بظاہر ریپبلکنز کے مجوزہ فریم ورک کا بڑا حصہ قبول کر لیا ہے. لیکن وہ اہم ساختی تبدیلیاں چاہتے ہیں. جو ان کے پچھلے ستمبر کے فریم ورک کے خدشات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر، میں دیکھتا ہوں. کہ یہ مطالبات صرف ریگولیشن نہیں. بلکہ سیاسی اخلاقیات اور مالیاتی نظم و ضبط کے گہرے خدشات کا اظہار ہیں۔
ڈیموکریٹس کی پوزیشن مالیاتی استحکام (Financial Stability) ، مارکیٹ کی سالمیت (Market Integrity) ، قومی سلامتی (national security) کے نفاذ، اور سیاسی عہدیداروں کے کرپٹو تجارت سے منافع کمانے پر سخت کنٹرول پر مرکوز ہے۔
وہ زیادہ مضبوط افشاء (disclosure) اور ثانوی مارکیٹ تحفظات (Secondary-Market Protections) کا مطالبہ کر رہے ہیں. اور ساتھ ہی حکومتی کمیشنوں میں دو طرفہ (Bipartisan) کمشنروں کی تقرری چاہتے ہیں۔ یہ مطالبات بنیادی طور پر ریپبلکنز کے نرم ریگولیٹری نقطہ نظر کے خلاف سخت حفاظتی جال (Safeguards) بنانا چاہتے ہیں۔
ان کے اہم ترین مطالبات میں شامل ہیں:
-
مضبوط مارکیٹ تحفظات: ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے زیادہ بہتر افشاء اور ثانوی مارکیٹ میں صارفین کا تحفظ۔
-
غیر قانونی مالیات (Illicit Finance) کا سدِ باب: غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی شناخت اور روک تھام کے لیے جدید آلات۔
-
Decentralization کا بہانہ: پلیٹ فارمز کو Decentralization کا دعویٰ کرکے ریگولیٹری تعمیل (Compliance Obligations) سے بچنے سے روکنے کے لیے واضح اصول۔
-
سٹیبل کوائن ییلڈ (Stablecoin Yield) پر حد: کمیونٹی بینکوں سے ذخائر کے انخلاء (Deposit Flight) کے خدشات کی وجہ سے سٹیبل کوائنز (Stablecoins) سے حاصل ہونے والے منافع پر سخت حدود۔
کرپٹو ریگولیشن میں سب سے بڑا اختلاف: SEC بمقابلہ CFTC کا اختیار.
US Senate کی کرپٹو قانون سازی کا بنیادی ڈھانچہ ابھی تک غیر یقینی ہے. کیونکہ قانون سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے. کہ طویل مدتی نگرانی کو Commodity Futures Trading Commission (CFTC) اور Securities and Exchange Commission (SEC) کے درمیان کیسے تقسیم کیا جائے۔
-
CFTC کے حامی: عام طور پر زیادہ نرم ریگولیٹری ماحول کے حامی ہوتے ہیں. اور کرپٹو کو ایک کموڈٹی (Commodity) کے طور پر دیکھتے ہیں. جس سے مارکیٹ میں جدت کو فروغ ملتا ہے۔
-
SEC کے حامی: عام طور پر سخت ریگولیٹری فریم ورک، سرمایہ کاروں کے تحفظ (Investor Protection) کو ترجیح دیتے ہیں. اور بہت سے کرپٹو اثاثوں کو سیکیورٹیز (Securities) کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اس تقسیم نے بل کی اصل روح کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ ایک واضح تقسیم کے بغیر، مارکیٹیں غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتی ہیں. جو نئے اداروں اور روایتی فنانس (Traditional Finance) سے کرپٹو میں داخل ہونے والے اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ریگولیٹری سفر کی منزل اور حکمت عملی
Crypto Market Structure Bill پر US Senate تعطل ایک بار پھر ثابت کرتا ہے. کہ سیاست اور فنانس کے درمیان کی لکیر کتنی دھندلی ہے۔ ایک تجربہ کار سرمایہ کار کے طور پر، میں یہ مشورہ دوں گا. کہ اس وقت ریگولیٹری پیش رفت کے بجائے، بنیادی کرپٹو منصوبوں کی مضبوطی اور ان کی طویل مدتی صلاحیت پر توجہ دی جائے۔ قانون سازی ہمیشہ پیچیدہ ہوتی ہے. لیکن کرپٹو کی بنیادی ٹیکنالوجی کی قدر (Intrinsic Value) اس سیاسی شور سے زیادہ اہم ہے۔
ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال خطرہ پیدا کرتی ہے. لیکن یہ موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ جن کمپنیوں میں پہلے ہی ریگولیٹری تعمیل کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں. وہ بالآخر فائدہ اٹھائیں گی۔ اپنے پورٹ فولیو (Portfolio) کی منصوبہ بندی کرتے وقت، ہمیشہ یاد رکھیں. کہ مارکیٹ سائیکلز (Market Cycles) سیاسی ڈرامے سے زیادہ لمبی ہوتی ہیں۔
آپ کی کیا حکمت عملی ہے؟ کیا آپ اس سیاسی غیر یقینی صورتحال کے دوران کرپٹو میں اپنی سرمایہ کاری بڑھائیں گے. یا آپ ریگولیٹری وضاحت کا انتظار کریں گے؟ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں شیئر کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



