EURUSD کی محدود رینج میں بحالی ، US CPI ڈیٹا کے بعد US Dollar اتار چڑھاؤ کا شکار.
US CPI Data Meets Expectations, Weakening USD and Shaping Forex Market Direction
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (BLS) کی جانب سے دسمبر کے کنزیومر پرائس انڈیکس US CPI Report کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں ہلچل دیکھی گئی۔ خاص طور پر یورو اور امریکی ڈالر (EURUSD) کی جوڑی میں معمولی تیزی آئی. لیکن یہ تیزی 1.1700 کی اہم نفسیاتی سطح (Psychological Level) سے نیچے ہی محدود رہی۔ اس تحریر میں ہم ان اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیں گے. اور یہ سمجھیں گے کہ ایک تجربہ کار ٹریڈر ان حالات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
اہم نکات.
-
امریکی افراط زر (US Inflation): دسمبر میں سالانہ افراط زر 2.7% رہی. جو کہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھی۔
-
کور سی پی آئی (Core CPI): خوراک اور توانائی کی قیمتوں کے بغیر افراط زر کی شرح 2.6% ریکارڈ کی گئی. جو گزشتہ ماہ سے معمولی کم ہے۔
-
مارکیٹ ردعمل (Market Reaction): ڈالر انڈیکس (DXY) میں کمی دیکھی گئی. اور یہ 99.00 کی سطح سے نیچے آگیا، جس سے یورو کو سہارا ملا۔
-
مستقبل کا رخ: اگرچہ EURUSD کسی حد تک اوپر گیا ہے. لیکن 1.1700 کا لیول عبور کرنا اس کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
امریکی سی پی آئی (US CPI) کیا ہے اور یہ فاریکس مارکیٹ کے لیے کیوں اہم ہے؟
US CPI Report وہ پیمانہ ہے. جو صارفین کی جانب سے اشیاء اور خدمات کے لیے ادا کی جانے والی قیمتوں میں تبدیلی کو ناپتا ہے۔ یہ افراط زر (Inflation) کو جانچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب افراط زر بڑھتی ہے. تو مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) شرح سود (Interest Rates) بڑھانے پر مجبور ہوتا ہے. جس سے ڈالر مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ڈیٹا توقعات کے مطابق یا کم آئے، تو ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
دسمبر کے اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ افراط زر 2.7% رہی۔ یہ وہی شرح ہے جو نومبر میں ریکارڈ کی گئی تھی. جس کا مطلب ہے کہ مہنگائی اب ایک جگہ ٹھہر (Stabilize) گئی ہے۔ ٹریڈرز کے لیے یہ "برابر” (In-line) ڈیٹا اکثر بے یقینی پیدا کرتا ہے. کیونکہ یہ واضح نہیں کرتا کہ Federal Reserve اپنا اگلا قدم کیا اٹھائے گا۔
دسمبر کے US CPI ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ
دسمبر کے مہینے میں افراط زر کے اعداد و شمار میں چند اہم نکات سامنے آئے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
-
سالانہ سی پی آئی (Annual CPI): 2.7% (توقعات کے مطابق)۔
-
کور سی پی آئی (Core CPI): 2.6% (گزشتہ ماہ 2.7% تھی)۔
-
ماہانہ اضافہ (Monthly Increase): کل سی پی آئی میں 0.3% اور کور سی پی آئی میں 0.2% کا اضافہ ہوا۔
رہائش اور خوراک کی قیمتوں کا اثر
US CPI Report کے مطابق، رہائش (Shelter) کی قیمتوں میں 0.4% کا اضافہ ہوا. جو کہ ماہانہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ خوراک (Food) کی قیمتوں میں 0.7% کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ توانائی (Energy) کی قیمتیں بھی 0.3% بڑھیں۔
یہاں ایک دلچسپ مشاہدہ یہ ہے کہ جب بھی ‘شیلٹر انڈیکس’ (Shelter Index) بڑھتا ہے. تو یہ مارکیٹ میں طویل مدتی مہنگائی کا اشارہ ہوتا ہے کیونکہ کرائے اور گھروں کی قیمتیں روز روز تبدیل نہیں ہوتیں۔
میں نے اپنے 10 سالہ دور میں دیکھا ہے کہ ریٹیل ٹریڈرز اکثر ہیڈ لائن سی پی آئی (Headline CPI) کو دیکھ کر جذباتی ہوجاتے ہیں. جبکہ بڑے انسٹیٹیوشنل پلیئرز کور سی پی آئی (Core CPI) اور شیلٹر ڈیٹا پر توجہ دیتے ہیں. تاکہ وہ حقیقی معاشی رجحان کو سمجھ سکیں۔
EURUSD پر اثرات اور ٹیکنیکل آؤٹ لک (Technical Outlook)
US CPI Report کے بعد یورو/ڈالر (EURUSD) کی قیمتوں میں کچھ بہتری آئی۔ اس کی بڑی وجہ ڈالر انڈیکس (DXY) کی کمزوری تھی۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کا 99.00 سے نیچے گرنا
جیسے ہی ڈیٹا ریلیز ہوا، امریکی ٹریژری ییلڈز (US Yields) میں کمی آئی. جس نے ڈالر کو نیچے دھکیل دیا۔ DXY کا 99.00 کی اہم سطح کو توڑنا اس بات کی علامت ہے. کہ فی الحال سرمایہ کار ڈالر میں مزید تیزی کی توقع نہیں کر رہے۔
کیا یورو 1.1700 کی سطح عبور کر سکے گا؟
ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) کے مطابق، EURUSD فی الحال 1.1700 کے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ ایک مضبوط ریزسٹنس (Resistance) ایریا ہے۔ جب تک قیمت اس لیول کے اوپر کلوزنگ نہیں دیتی. تب تک اس تیزی کو "عارضی اصلاح” (Corrective Bounce) ہی سمجھا جائے گا۔
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| سپورٹ (Support) | 1.1620 | اگر قیمت یہاں سے گری تو مزید مندی آسکتی ہے |
| موجودہ صورتحال | 1.1680 | ڈیٹا کے بعد کی پوزیشن |
| ریزسٹنس (Resistance) | 1.1700 | اس کو توڑنا بریک آؤٹ (Breakout) کہلائے گا |

مارکیٹ کے شرکاء کا ردعمل: ریٹیل بمقابلہ انسٹیٹیوشنز
US CPI Report کے آنے پر مارکیٹ میں دو طرح کے ردعمل دیکھے جاتے ہیں۔
موجودہ حالات میں جب افراط زر 2.7% پر مستحکم ہے. بڑے بینک اور ہیج فنڈز (Hedge Funds) فوری طور پر ڈالر نہیں بیچتے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ ڈیٹا فیڈرل ریزرو کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا؟ چونکہ ڈیٹا توقعات کے عین مطابق آیا ہے. اس لیے مارکیٹ میں کوئی بڑا ٹرینڈ ریورسل (Trend Reversal) دیکھنے کو نہیں ملا. بلکہ صرف قلیل مدتی (Short-term) اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ اس طرح کے ‘توقعات کے مطابق’ آنے والے ڈیٹا کے دوران ‘وِپ سا’ (Whipsaw) موومنٹ ہوتی ہے. یعنی قیمت پہلے ایک طرف تیزی سے جاتی ہے. اور پھر واپس مڑ جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سمارٹ منی (Smart Money) ہمیشہ ریٹیل ٹریڈرز کے اسٹاپ لاس (Stop Loss) ہنٹ ہونے کا انتظار کرتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ EURUSD میں ٹریڈ کر رہے ہیں. تو درج ذیل نکات پر غور کریں:
-
بریک آؤٹ کا انتظار کریں (Wait for Breakout): 1.1700 کی سطح پر نظر رکھیں۔ اگر کینڈل اسٹک اس کے اوپر بند ہوتی ہے. تو اگلا ہدف 1.1750 ہو سکتا ہے۔
-
ڈالر انڈیکس پر نظر (Monitor DXY): اگر ڈالر انڈیکس دوبارہ 99.00 کے اوپر چلا گیا. تو یورو میں آنے والی تیزی ختم ہو جائے گی۔
-
رسک مینجمنٹ (Risk Management): ایسی نیوز ریلیز کے وقت اسپریڈ (Spread) بڑھ سکتا ہے. اس لیے چھوٹے لاٹ سائز کا استعمال کریں۔
اختتامیہ.
دسمبر کی US CPI Report معیشت میں استحکام کی عکاسی کرتی ہے. لیکن یہ ڈالر کے لیے کوئی واضح سمت متعین نہیں کر سکا۔ یورو (EURUSD) میں آنے والی حالیہ تیزی بنیادی طور پر ڈالر کی عارضی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ ایک منجھے ہوئے ٹریڈر کے طور پر، ہمیں صرف ایک ڈیٹا پوائنٹ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے. بلکہ مجموعی معاشی تصویر (Macro Picture) کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
آنے والے دنوں میں فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات یہ واضح کریں گے کہ کیا 2.7% کی مہنگائی ان کے لیے اطمینان بخش ہے. یا وہ مزید سخت اقدامات کریں گے۔ تب تک، 1.1700 کی سطح EURUSD کے لیے ایک کڑی آزمائش بنی رہے گی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یورو 1.1700 کی رکاوٹ توڑ پائے گا یا ڈالر دوبارہ اپنی گرفت مضبوط کر لے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



