بٹ کوائن 95,000 ڈالر سے متجاوز: کرپٹو مارکیٹ میں اچانک تیزی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

Easing Inflation, Federal Reserve Uncertainty and Massive Liquidations Ignite Crypto Markets

Crypto Market میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے. اور اس بار اس کی قیادت Bitcoin کر رہا ہے. جس نے 95,000 ڈالر کی نفسیاتی حد (psychological barrier) کو عبور کر لیا ہے۔ یہ صرف BTC تک محدود نہیں ہے. بلکہ ایتھیریم (Ether)، سولانا (Solana)، اور کارڈانو (Cardano) جیسے بڑے کوائنز میں بھی 8 سے 9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس تیزی نے سرمایہ کاروں میں ایک نئی امید (Optimism) پیدا کر دی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تیزی برقرار رہے گی. یا یہ صرف ایک عارضی ابال ہے؟

اہم نکات (Key Points)

  • Bitcoin نے 95,000 ڈالر کی سطح کو عبور کیا. جبکہ ایتھیریم اور دیگر آلٹ کوائنز میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

  • امریکہ میں افراط زر (Inflation) کے کم اعداد و شمار نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (liquidity) کی صورتحال کو بہتر بنایا۔

  • فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے گرد سیاسی تنازعات نے غیر سرکاری اثاثوں (non-sovereign assets) کی طلب بڑھا دی۔

  • فیوچرز مارکیٹ (Futures Market) میں شارٹ پوزیشن رکھنے والے تاجروں کو 600 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان (Liquidation) اٹھانا پڑا۔

  • روایتی مارکیٹس جیسے چاندی (Silver) اور اسٹاکس میں بھی تیزی کا رجحان دیکھا گیا. جو "رسک آن” (Risk-On) موڈ کی عکاسی کرتا ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت 95,000 ڈالر سے اوپر کیوں گئی؟ 

Bitcoin کی قیمت میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکہ میں افراطِ زر یا مہنگائی (Inflation) کی شرح میں توقع سے زیادہ کمی ہے۔ جب مہنگائی کم ہوتی ہے تو مرکزی بینک (Central Bank) کے لیے شرح سود (Interest Rates) کو کم کرنا آسان ہو جاتا ہے. جس سے مارکیٹ میں پیسہ یا لیکویڈیٹی (liquidity) بڑھ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو پر سیاسی دباؤ اور عدالتی کارروائیوں کی خبروں نے سرمایہ کاروں کو مجبور کیا. کہ وہ ڈالر کے بجائے Bitcoin جیسے اثاثوں میں پناہ لیں۔

افراط زر میں کمی اور Bond Yields کا کردار

فنانشل مارکیٹس میں جب بھی افراطِ زر (Inflation) کے اعداد و شمار کم آتے ہیں. تو بانڈ ییلڈز (Bond Yields) پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے. کہ سرمایہ کاروں کو سرکاری بانڈز میں کم منافع ملنے کی توقع ہوتی ہے. جس کی وجہ سے وہ زیادہ منافع کے لیے کرپٹو اور اسٹاکس جیسے "رسک اثاثوں” (risk assets) کی طرف رخ کرتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر لیکویڈیٹی (liquidity) کے حالات بہتر ہوئے ہیں. کرپٹو مارکیٹ نے سب سے پہلے ردعمل دیا ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ ‘فیوچر ڈسکاؤنٹنگ’ پر چلتی ہے.۔ جب افراطِ زر کے اعداد و شمار آتے ہیں. تو مارکیٹ صرف اس وقت کی قیمت کو نہیں دیکھتی بلکہ یہ اندازہ لگاتی ہے. کہ اگلے 6 ماہ میں فیڈرل ریزرو کیا کرے گا۔ یہ حالیہ ریلی اسی پیشگی اندازے کا نتیجہ ہے۔

Altcoins میں تیزی: ایتھیریم اور سولانا کیوں بڑھ رہے ہیں؟

Bitcoin کے ساتھ ساتھ آلٹ کوائنز (Altcoins) میں بھی غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ایتھیریم (ETH) نے 7 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 3,330 ڈالر کی سطح کو چھو لیا. جبکہ سولانا (SOL) اور کارڈانو (ADA) میں 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Altcoins ریلی کی وجوہات

  1. بٹ کوائن ڈومیننس (Bitcoin Dominance): جب Bitcoin ایک مستحکم حد (Range) میں آ جاتا ہے. تو سرمایہ کار اپنا منافع نکال کر آلٹ کوائنز میں لگاتے ہیں۔

  2. ایکو سسٹم کی ترقی: سولانا اور ایتھیریم پر ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کی سرگرمیوں میں اضافہ ان کی قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔

  3. سرمایہ کاروں کا اعتماد: جب بٹ کوائن نئی بلندیوں کو چھوتا ہے. تو ریٹیل سرمایہ کار (Retail Investors) سستے آلٹ کوائنز کی تلاش شروع کر دیتے ہیں تاکہ زیادہ فیصد منافع کما سکیں۔

فیڈرل ریزرو اور سیاسی بے یقینی کا اثر

مارکیٹ میں اس تیزی کو جس چیز نے مہمیز دی. وہ امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی جانب سے فیڈرل ریزرو کو بھیجے گئے سب پوناز (subpoenas) کی خبریں تھیں۔ جب کسی ملک کے مرکزی بینک پر سیاسی یا قانونی دباؤ بڑھتا ہے، تو اس ملک کی کرنسی (جیسے ڈالر) پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔

ایسی صورتحال میں سرمایہ کار "غیر سرکاری اثاثوں” (Non-Sovereign Assets) کی طرف بھاگتے ہیں۔ Bitcoin کو اکثر "ڈیجیٹل گولڈ” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی حکومت یا مرکزی بینک کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ڈالر کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے. بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

شارٹ سیلرز کی تباہی: 600 ملین ڈالر کی لیکویڈیشن

Crypto Market کی اس حالیہ موو میں ایک اہم تکنیکی پہلو "شارٹ اسکوئیز” (Short Squeeze) کا ہے۔ بہت سے تاجر (traders) یہ توقع کر رہے تھے. کہ قیمت 95,000 ڈالر سے نیچے گرے گی. اس لیے انہوں نے "شارٹ پوزیشنز” (Short Positions) لی ہوئی تھیں۔

تفصیل (Description) اعداد و شمار (Statistics)
کل لیکویڈیشن (Total Liquidations) $688 Million
شارٹ پوزیشنز کا نقصان (Shorts Wiped Out) $603 Million
متاثرہ تاجروں کی تعداد (Affected Traders) 122,000
سب سے بڑی واحد لیکویڈیشن (Largest Single Order) $12.9 Million (ETH/USDT)

جب قیمت اچانک اوپر گئی. تو ان شارٹ سیلرز کے اسٹاپ لاس (Stop Loss) ہٹ ہوئے. جس نے مارکیٹ میں مزید خریداری کا دباؤ پیدا کیا اور قیمت کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔ اسے ہم ٹریڈنگ کی زبان میں "کیسکیڈنگ ایفیکٹ” (cascading effect) کہتے ہیں۔

کیا روایتی مارکیٹس بھی اس تیزی میں شامل ہیں؟

جی ہاں، یہ صرف کرپٹو تک محدود نہیں ہے۔ عالمی منڈیوں میں ایک وسیع تر "رسک آن” (risk-on) رجحان دیکھا جا رہا ہے.

  • ایشیائی اسٹاکس: ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئے۔

  • چاندی (Silver): پہلی بار 90 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔

  • سونا (Gold): اپنی ہمہ وقتی بلندی (All-Time High) کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

یہ تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں. کہ عالمی سرمایہ کار اب نقد رقم (Cash) رکھنے کے بجائے ایسی جگہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں. جو کرنسی کی بے قدری (Devaluation) سے محفوظ رہ سکے۔

مستقبل کی حکمتِ عملی: کیا اب خریدنے کا صحیح وقت ہے؟

ایک ماہر کے طور پر، میں یہ کہوں گا. کہ جہاں یہ تیزی خوش آئند ہے، وہاں احتیاط بھی لازم ہے۔ ڈیریویٹوز ڈیٹا (Derivatives Data) سے پتہ چلتا ہے. کہ مارکیٹ میں لیوریج (Leverage) دوبارہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب مارکیٹ "اوور لیوریجڈ” (Over-Leveraged) ہو جاتی ہے. تو تھوڑی سی منفی خبر بھی بڑی گراوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ (Actionable Insights)

  1. فومو (FOMO) سے بچیں: قیمت پہلے ہی کافی بڑھ چکی ہے. اس لیے تمام سرمایہ ایک ساتھ نہ لگائیں۔

  2. ڈالر کاسٹ ایوریجنگ (DCA): قیمت میں چھوٹی گراوٹ (dips) پر تھوڑا تھوڑا کر کے خریدیں۔

  3. اسٹاپ لاس کا استعمال: اگر آپ فیوچرز ٹریڈنگ کر رہے ہیں. تو سخت اسٹاپ لاس (Strict Stop Loss) لازمی لگائیں کیونکہ اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھنے والا ہے۔

میں نے 2017 اور 2021 کی بل رن (Bull Run) میں دیکھا ہے. کہ جب بھی بٹ کوائن کسی بڑی نفسیاتی حد کو عبور کرتا ہے. تو وہ ایک بار دوبارہ اس سطح کو ٹیسٹ کرنے نیچے ضرور آتا ہے۔ 95,000 ڈالر اب ایک مضبوط سپورٹ (Support) بن سکتی ہے. لیکن براہ راست 100,000 ڈالر کی توقع رکھنے کے بجائے ری ٹیسٹ کا انتظار کرنا دانشمندی ہے۔

بٹ کوائن کا 95,000 ڈالر سے اوپر جانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ عالمی معاشی تبدیلیوں، افراطِ زر میں کمی، اور مرکزی بینکوں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ مارکیٹ اس وقت ایک انتہائی پر امید مرحلے میں ہے، لیکن ایک تجربہ کار ٹریڈر ہمیشہ جوش کے ساتھ ہوش سے کام لیتا ہے۔

آنے والے دن بہت اہم ہیں، خاص طور پر یہ دیکھنا کہ کیا بٹ کوائن 95,000 ڈالر کی سطح کو برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ سطح برقرار رہتی ہے، تو 100,000 ڈالر کا ہدف اب زیادہ دور نہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin اسی ہفتے 100,000 ڈالر کا سنگ میل عبور کر لے گا. یا ہمیں ایک بڑی کریکشن (correction) دیکھنے کو ملے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں!

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button