امریکی سینٹ میں کرپٹو بل کی تاخیر: مارکیٹ میں مندی کی اصل وجوہات اور آئندہ کا لائحہ عمل
Coinbase Withdrawal Triggers Bitcoin Slide and Altcoin Liquidations
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب سیاست اور ریگولیشنز (Regulations) کا تڑکا لگے تو مارکیٹ کی سمت یکسر بدل جاتی ہے۔ جمعرات کے روز Crypto Market میں اچانک مندی دیکھی گئی. جس کی سب سے بڑی وجہ امریکی سینٹ کی بینکنگ کمیٹی (Senate Banking Committee) کی جانب سے ڈیجیٹل ایسٹ مارکیٹ اسٹرکچر بل (Digital asset Market Structure Bill) پر بحث کا ملتوی ہونا ہے۔
اس فیصلے نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے. جس کے نتیجے میں بٹ کوائن (Bitcoin) سمیت تمام بڑی آلٹ کوائنز (Altcoins) کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے۔
یہ پوری کہانی اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ Crypto Market اب بھی ریگولیٹری فیصلوں کی ایک خبر پر لرز اٹھتی ہے۔ جب تک US Senate واضح اور متوازن قانون سازی نہیں کرتا. تب تک Bitcoin اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے اسی طرح غیر یقینی کے بادلوں میں گھِرے رہیں گے. اور سرمایہ کار ہر خبر کو ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھتے رہیں گے۔
اس آرٹیکل میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ آخر Coinbase نے اس بل سے اپنی حمایت کیوں واپس لی اور اس کے مارکیٹ پر طویل مدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
اہم نکات (Key Points)
-
امریکی سینٹ نے کرپٹو ریگولیٹری بل پر بحث ملتوی کر دی ہے. کیونکہ کوئن بیس نے موجودہ ڈرافٹ کی مخالفت کی ہے۔
-
Bitcoin کی قیمت 1% جبکہ ایتھیریم (ETH) اور سولانا (SOL) جیسی کوائنز 2% سے 4% تک گر گئی ہیں۔
-
مارکیٹ میں تقریباً 66 ملین ڈالر کی لانگ پوزیشنز (Bullish Positions) لیکویڈیٹ ہو چکی ہیں۔
-
ماہرین کے مطابق، اگر بٹ کوائن 92,089 ڈالر کی سطح برقرار نہیں رکھتا. تو مزید مندی آ سکتی ہے۔
US Senate نے Crypto Market Structure Bill پر بحث کیوں ملتوی کی؟
US Senate کی بینکنگ کمیٹی نے کرپٹو بل کی بحث اس لیے ملتوی کی. کیونکہ انڈسٹری کے بڑے کھلاڑی، بالخصوص کوئن بیس (Coinbase)، نے بل کے موجودہ مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ سینیٹر ٹم اسکاٹ کے مطابق، اب اس بل پر مزید دو طرفہ (Bipartisan) مذاکرات کی ضرورت ہے. تاکہ سرمایہ کاروں اور اختراع کاروں (Innovators) کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ تاخیر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن میں کرپٹو قانون سازی اب بھی ایک پیچیدہ مرحلہ ہے۔ مارکیٹ کو امید تھی. کہ اس بل سے قانونی وضاحت (Regulatory Clarity) ملے گی، لیکن کوئن بیس کے سی ای او برائن آرمسٹرانگ کے سخت موقف نے صورتحال بدل دی۔ ان کا کہنا ہے کہ "برا بل ہونے سے بہتر ہے کہ کوئی بل نہ ہو۔”

Coinbase کی مخالفت کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
Coinbase کا اس بل سے پیچھے ہٹنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ برائن آرمسٹرانگ نے چند اہم نکات کی نشاندہی کی ہے جو کرپٹو انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے.
-
اسٹیبل کوائن ریوارڈز پر پابندی (Stablecoin Rewards): بل کا موجودہ مسودہ اسٹیبل کوائنز پر ملنے والے منافع یا ریوارڈز کو ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے، جو کہ یوزرز کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
-
سی ایف ٹی سی (CFTC) کے اختیارات میں کمی: انڈسٹری چاہتی ہے. کہ کرپٹو کو کموڈٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) ریگولیٹ کرے. لیکن یہ بل ان کے اختیارات کو محدود کر رہا تھا۔
-
ڈی فائی (DeFi) پر پابندیاں: ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) میں پرائیویسی کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے والی شقیں شامل کی گئی تھیں۔
-
ٹوکنائزڈ ایکویٹیز (Tokenized Equities): بل میں ٹوکنائزڈ شیئرز پر عملی طور پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی ہے. جو کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے مستقبل کے خلاف ہے۔
ایک سینئر اسٹریٹجسٹ کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ریگولیٹری اداروں اور بڑی کارپوریشنز کے درمیان ‘ڈیڈ لاک’ (deadlock) پیدا ہوتا ہے. تو مارکیٹ ہمیشہ ‘پہلے سیل کرو، سوال بعد میں پوچھو’ (Sell first, ask Questions later) کی پالیسی اپناتی ہے۔ 2017 اور 2021 میں بھی جب چین یا امریکہ سے ریگولیشن کی خبریں آتی تھیں. تو مارکیٹ اسی طرح ری ایکٹ کرتی تھی۔ یہ محض قیمت کا گرنا نہیں ہے. بلکہ یہ ریگولیٹری غیر یقینی (Uncertainty) کا خوف ہے۔
مارکیٹ لیکویڈیشن: 66 ملین ڈالر کا نقصان کیسے ہوا؟
جب سینٹ کی خبر Crypto Market میں آئی. تو ان ٹریڈرز کو سب سے زیادہ نقصان ہوا جنہوں نے مارکیٹ کے اوپر جانے (Bullish) پر جوا کھیلا ہوا تھا۔
| تفصیل | مقدار (تخمینہ) |
| مجموعی لیکویڈیشن (Total Liquidation) | $66.50 Million |
| لانگ پوزیشنز (Long Positions) | $66 Million+ |
| شارٹ پوزیشنز (Short Positions) | $1 Million سے کم |
یہ ڈیٹا (CoinGlass) واضح کرتا ہے. کہ مارکیٹ میں "بُلش بیاس” (bullish bias) بہت زیادہ تھا، اور اچانک آنے والی خبر نے ٹریڈرز کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ جب قیمت گرتی ہے. تو ایکسچینجز زبردستی ان پوزیشنز کو بند کر دیتے ہیں. جس سے قیمت مزید تیزی سے نیچے گرتی ہے۔ اسے ہم "لیکویڈیشن کیسکیڈ” (Liquidation Cascade) کہتے ہیں۔
بٹ کوائن (BTC) کا ٹیکنیکل تجزیہ: کیا یہ خریدنے کا بہترین وقت ہے؟
بٹ کوائن کے لیے فی الوقت سب سے اہم سپورٹ لیول 50-دن کا ایکسپونینشل موونگ ایوریج (50-day EMA) ہے. جو 92,089 ڈالر پر موجود ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر رہتی ہے. تو تیزی کا رجحان برقرار رہے گا. لیکن اس سے نیچے جانے کی صورت میں مارکیٹ 88,000 ڈالر تک گر سکتی ہے۔
ٹیکنیکل انڈیکیٹرز (Technical Indicators) ہمیں دو طرح کے اشارے دے رہے ہیں:
-
RSI (Relative Strength Index): یہ فی الحال 65 پر ہے. جو اوور باؤٹ (Overbought) زون سے نیچے آ رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ تھوڑی "ٹھنڈی” ہو رہی ہے. جو کہ صحت مند اصلاح (Healthy Correction) کے لیے ضروری ہے۔
-
MACD (Moving Average Convergence Divergence): یہ اب بھی اوپر کی طرف اشارہ کر رہا ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ خریداروں کا زور مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
اگر بٹ کوائن آج 96,000 ڈالر سے اوپر کلوزنگ دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے. تو ہم بہت جلد 100,000 ڈالر کی نفسیاتی حد (Psychological Milestone) کو چھو سکتے ہیں۔

Altcoins پر اثرات: ایتھیریم، سولانا اور ایکس آر پی (XRP)
بٹ کوائن کے مقابلے میں آلٹ کوائنز زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عام طور پر جب بٹ کوائن 1% گرتا ہے. تو آلٹ کوائنز 2 سے 3 گنا زیادہ گرتے ہیں۔
-
ایٹھیریم (ETH): قیمت میں 2% سے زائد کمی آئی ہے. کیونکہ ڈی فائی ریگولیشنز کا براہ راست اثر ایتھیریم ایکو سسٹم پر پڑتا ہے۔
-
سولانا (SOL): تیز رفتار نیٹ ورک ہونے کے باوجود، سولانا بھی مارکیٹ کے مجموعی دباؤ سے نہ بچ سکا. اور 3% تک نیچے آ گیا۔
-
ریپل (XRP): ریپل کے لیے ریگولیٹری خبریں ہمیشہ سے حساس رہی ہیں. اس لیے یہاں بھی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
مستقبل کی حکمت عملی: سرمایہ کاروں کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک تجربہ کار فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ ایسی صورتحال میں گھبرانا (Panic Selling) سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ مارکیٹ اسٹرکچر بل کا ملتوی ہونا ایک "عارضی رکاوٹ” ہے، "خاتمہ” نہیں۔
-
خبروں پر نظر رکھیں: سینٹ کی اگلی میٹنگ کی تاریخ بہت اہم ہوگی۔
-
ڈی سی اے (DCA – Dollar Cost Averaging) اپنائیں: اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کار ہیں. تو ان گراوٹوں (dips) کو خریداری کے موقع کے طور پر استعمال کریں۔
-
سٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال کریں: شارٹ ٹرم ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشنز کو محفوظ بنانے کے لیے سخت سٹاپ لاس کا استعمال کریں کیونکہ ریگولیٹری خبریں کسی بھی وقت مارکیٹ کو گھما سکتی ہیں۔
اختتامیہ.
امریکی سینٹ کی جانب سے بل کا التوا اور کوئن بیس کے تحفظات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ Crypto Market اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ وہ غلط قانون سازی کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔ اگرچہ مختصر مدت (short-term) میں قیمتیں نیچے آئی ہیں، لیکن طویل مدتی (long-term) بنیادوں پر ایک "بہتر بل” کا آنا کرپٹو کے مستقبل کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔
US Senate Banking Committee کی جانب سے مارکیٹ اسٹرکچر بل کی مارک اپ میٹنگ مؤخر کرنا بظاہر ایک انتظامی فیصلہ تھا. مگر درحقیقت یہ Crypto انڈسٹری کے لیے ایک وارننگ ثابت ہوا۔ چیئرمین ٹِم اسکاٹ کے مطابق بل پر دو طرفہ مذاکرات جاری ہیں. مگر مارکیٹ کے لیے یہ بیان کافی نہ تھا کیونکہ سرمایہ کار فوری وضاحت چاہتے تھے. نہ کہ سیاسی بیانات۔
بٹ کوائن کا 96,000 ڈالر کی سطح سے نیچے آنا ایک اصلاحی عمل (correction phase) ہو سکتا ہے، لیکن جب تک بنیادی ڈھانچہ (fundamentals) مضبوط ہے، مارکیٹ میں واپسی کے امکانات روشن ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کوئن بیس کا بل کی مخالفت کرنا درست فیصلہ تھا؟ یا اس سے ریگولیشن میں مزید تاخیر Crypto Market کو نقصان پہنچائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



