World Bank کا پاکستان پر دباؤ، Private Investment کے بغیر معاشی بحالی ناممکن کیوں؟

Structural Reforms, Export Potential, and Capital Markets at the Core of Pakistan’s Next Economic Chapter

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے. جہاں اسے محض بقا (Survival) کے بجائے پائیدار ترقی (Sustainable Growth) کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں World Bank نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے. کہ وہ ملکی معیشت میں نجی سرمایہ کاری (Private Investment in Pakistan Economic Reform) کی رفتار کو تیز کرے۔

World Bank کے مطابق، اگر پاکستان اپنے "کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک” (CPF 2026-35) کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے. تو اسے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر جرات مندانہ اصلاحات کرنا ہوں گی۔ یہ تحریر ورلڈ بینک کی حالیہ سفارشات، نجی شعبے کی رکاوٹوں اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے نقشہ راہ کا تفصیلی جائزہ پیش کرے گی.

اہم نکات (Key Takeaways)

  • نجی سرمایہ کاری کا ہدف: پاکستان میں نجی سرمایہ کاری جی ڈی پی (GDP) کا محض 10 فیصد ہے. جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ 20 سے 25 فیصد ہے۔

  • ساختی اصلاحات: ورلڈ بینک نے سرکاری اداروں (SOEs) کے غلبے، سبسڈیز اور پیچیدہ ٹیکس نظام کو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

  • برآمدات کی صلاحیت: برآمدی شعبے میں سالانہ 60 ارب ڈالر کا اضافی پوٹینشل موجود ہے. جسے درست پالیسیوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • مستقبل کا لائحہ عمل: World Bank نے نتائج پر مبنی نقطہ نظر (Results-Based Approach) اور پالیسی ضمانتوں (Policy-based Guarantees) کی پیشکش کی ہے۔

World Bank نے پاکستان کو نجی سرمایہ کاری تیز کرنے کا مشورہ کیوں دیا؟

World Bank کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر (Bolormaa Amgaabazar) اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا. کہ پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی شرح طے شدہ اہداف سے کافی کم ہے۔

World Bank کا ماننا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی استحکام (Macroeconomic Stability) کو مستقل ترقی میں بدلنے کا واحد راستہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہے۔

جب تک نجی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 20 فیصد تک نہیں پہنچتی. پاکستان ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور قرضوں کے بوجھ سے نکلنے میں ناکام رہے گا۔ اسی لیے بینک نے "پالیسی م سنگ میل” (Policy Milestones) اور تکنیکی مدد (Technical Assistance) کے ذریعے عملدرآمد کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟

پاکستان میں نجی شعبہ (Private Sector) کئی دہائیوں سے ایسے مسائل کا شکار ہے. جنہوں نے اس کی پیداواری صلاحیت (Productivity) کو مفلوج کر دیا ہے۔

1. سرکاری اداروں (SOEs) کا غلبہ

پاکستان میں بجلی، گیس اور دیگر کئی شعبوں میں سرکاری اداروں کا اجارہ دارانہ کردار ہے۔ یہ ادارے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ ہیں. بلکہ نجی کمپنیوں کے لیے "لیول پلینگ فیلڈ” (Level Playing Field) بھی ختم کر دیتے ہیں۔

2. ضرورت سے زیادہ ریگولیٹری کنٹرول

ایک عام سرمایہ کار کو کاروبار شروع کرنے کے لیے درجنوں این او سیز (NOCs) اور پیچیدہ ٹیکس قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیوروکریٹک رکاوٹیں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کرتی ہیں۔

3. سبسڈیز اور تحفظاتی تجارت (Trade Protection)

پاکستان میں مخصوص صنعتوں کو دی جانے والی سبسڈیز اور درآمدی ڈیوٹیز نے مسابقت (Competition) کو ختم کر دیا ہے۔ جب کمپنیوں کو بغیر کسی محنت کے تحفظ ملتا ہے. تو وہ عالمی معیار کی مصنوعات بنانے اور برآمدات بڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتیں۔

یہاں میں اپنے دس سالہ تجربے کی روشنی میں یہ مشاہدہ شیئر کرنا چاہوں گا. کہ جب بھی مارکیٹ میں ریگولیٹری سختی بڑھتی ہے. تو کیپیٹل فلائٹ (capital flight) شروع ہو جاتی ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ سرمایہ کار ہمیشہ ان ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں "Ease of Doing Business” محض کاغذوں پر نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آتی ہے۔ پاکستان میں اکثر پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی برآمدات میں 60 ارب ڈالر کا اضافہ کیسے ممکن ہے؟

ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان کی برآمدات (Exports) جو 1990 کی دہائی میں جی ڈی پی کا 16 فیصد تھیں. اب گر کر 10 فیصد رہ گئی ہیں۔ تاہم، اگر ساختی رکاوٹیں دور کی جائیں. تو پاکستان سالانہ 60 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔

توجہ کے طلب شعبے (Focus Sectors):

  • ڈیجیٹل سروسز (Digital Services): آئی ٹی برآمدات میں اضافہ۔

  • زراعت اور ایگری بزنس (Agriculture & Agribusiness): جدید فارمنگ اور ویلیو ایڈیشن۔

  • معدنیات (Minerals & Mining): خام مال کے بجائے تیار شدہ مصنوعات کی برآمد۔

  • مینوفیکچرنگ (Manufacturing): عالمی سپلائی چین کا حصہ بننا۔

انسانی وسائل کی ترقی اور روزگار کے مواقع

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا. کہ صرف فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کافی نہیں، بلکہ "انسانی سرمائے” (Human Capital) میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر انہیں مارکیٹ کی طلب کے مطابق فنی تربیت (vocational training) دی جائے، تو وہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی لیبر مارکیٹ (جیسے ہیلتھ کیئر، نرسنگ اور آئی ٹی) میں بھی اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک اس سلسلے میں "ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ پلیٹ فارمز” کی تیاری میں تعاون کر رہا ہے۔

مستقبل کا مالیاتی فریم ورک اور پالیسی گارنٹی

ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ ورلڈ بینک نے "پالیسی بیسڈ گارنٹی” (Policy-based Guarantees) کی پیشکش کی ہے۔

اس کا فائدہ کیا ہوگا؟

  1. قرضوں کی مینجمنٹ: مہنگے قرضوں کو سستے قرضوں میں بدلنا (Refinancing of High-cost Debt)۔

  2. انوویٹیو فنانسنگ: کلائمیٹ فنانس (Climate Finance) اور سبز سرمایہ کاری (Green Investment) کے نئے راستے کھولنا۔

  3. اعتماد کی بحالی: عالمی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانا کہ پاکستان کی اصلاحات مستقل ہیں۔

اختتامیہ. 

ایک ماہر مالیاتی اسٹریٹجسٹ کے طور پر میرا ماننا ہے کہ ورلڈ بینک کا یہ دباؤ پاکستان کے لیے ایک "Wake-up Call” ہے۔ میکرو اکنامک استحکام (جیسے کہ افراطِ زر میں کمی یا کرنسی کا استحکام) صرف پہلا قدم ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا حکومت ٹیرف ریشنلائزیشن (Tariff Rationalization) اور سرکاری اداروں کی نجکاری جیسے کڑوے فیصلے کر پائے گی؟

پاکستان کا مقابلہ اب صرف اپنے ماضی سے نہیں. بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے علاقائی کھلاڑیوں سے ہے. جنہوں نے اپنے سرمایہ کاری کے ماحول کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال لیا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

کیا آپ کو لگتا ہے کہ حکومتِ پاکستان نجی شعبے کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ یا بیوروکریٹک رکاوٹیں اب بھی سب سے بڑی دیوار ثابت ہوں گی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button