IMF کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کے اہداف میں کمی
GDP Growth Forecast Cut Signals Fiscal Pressure and Policy Challenges
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF نے اپنی تازہ ترین رپورٹ "ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2026 اپ ڈیٹ” (World Economic Outlook 2026 update) میں پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) ترقی کی شرح کے تخمینے کو 3.6 فیصد سے کم کر کے 3.2 فیصد کر دیا ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوگی. بلکہ اسٹاک مارکیٹ (Stock Market) اور عام شہری کی قوت خرید پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے. پاکستان کو اندرونی مالیاتی چیلنجز اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات (Structural Reforms) کے دباؤ کا سامنا ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
نمو میں کمی: آئی ایم ایف نے مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی ترقی کا ہدف 3.6% سے گھٹا کر 3.2% کر دیا ہے۔
-
عالمی موازنہ: عالمی معیشت کی شرح نمو 3.3% رہنے کی توقع ہے. جبکہ پاکستان کی رفتار اس سے قدرے کم رہے گی۔
-
مہنگائی کا رجحان: عالمی سطح پر مہنگائی (Inflation) میں کمی متوقع ہے، جو پاکستان کے لیے درآمدی لاگت (Import Cost) کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
-
خطرہ اور موقع: مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری عالمی نمو بڑھا سکتی ہے. لیکن مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
-
اصلاحات کی ضرورت: پائیدار ترقی کے لیے ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
IMF نے پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) گروتھ کا تخمینہ کیوں کم کیا؟
پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کی سب سے بڑی وجہ سخت مالیاتی پالیسی (Tight Monetary Policy) اور بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں۔ جب آئی ایم ایف جیسا ادارہ گروتھ ریٹ (Growth Rate) کم کرتا ہے. تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے. کہ ملک میں کھپت (Consumption) اور سرمایہ کاری (Investment) کی رفتار توقع سے سست ہے۔
مالیاتی مارکیٹ میں دس سال گزارنے کے بعد میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی IMF Growth Outlook کو کم کرتا ہے. تو غیر ملکی سرمایہ کار (Foreign Investors) محتاط ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک نمبر نہیں ہے. بلکہ یہ ملک کی "ادائیگیوں کی صلاحیت” (Solvency) پر ایک تبصرہ ہوتا ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی کے حالیہ اعداد و شمار کیا ہیں؟
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (NAC) کے مطابق مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کی شرح 3.09 فیصد رہی۔ اگرچہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (Q1) میں 3.71 فیصد کی بہتری دیکھی گئی. لیکن IMF کا ماننا ہے. کہ سال کے اختتام تک یہ اوسط 3.2 فیصد تک ہی رہے گی۔ ورلڈ بینک (World Bank) نے بھی ملتے جلتے اعداد و شمار پیش کیے ہیں. جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں. کہ معیشت کو ابھی مکمل بحالی کے لیے طویل راستہ طے کرنا ہے۔
عالمی معیشت اور پاکستان: ایک موازنہ
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت (Global Economy) 2026 میں 3.3 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے. جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔
عالمی افراط زر (Global Inflation) میں کمی کے اثرات
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہیڈ لائن انفلیشن (Headline Inflation) 2025 میں 4.1 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 3.8 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہے. کیونکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہونے سے ہماری درآمدات (Imports) سستی ہوں گی. جس سے مقامی سطح پر افراط زر کے دباؤ میں کمی آئے گی۔
پاکستان کو کن بڑے معاشی خطرات کا سامنا ہے؟
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ معاشی منظر نامے میں اب بھی خطرات (Risks) موجود ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے تین بڑے عوامل ہیں.
-
مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit): بڑے خسارے اور عوامی قرضے (Public Debt) طویل مدتی شرح سود (Interest Rates) پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
-
جیو پولیٹیکل تناؤ (Geopolitical Tensions): خطے میں عدم استحکام سپلائی چین (Supply Chain) کو متاثر کر سکتا ہے۔
-
تجارتی پالیسیاں (Trade Policies): عالمی سطح پر تجارتی تناؤ پاکستان کی برآمدات (Exports) کو متاثر کر سکتا ہے.
ٹریڈنگ کے تجربے سے میں نے سیکھا ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ ‘غیر یقینی صورتحال’ (Uncertainty) کو ناپسند کرتی ہے۔ جب IMF اصلاحات پر زور دیتا ہے. تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹیکسوں میں اضافہ یا سبسڈیز میں کمی ہو سکتی ہے. جو شارٹ ٹرم میں اسٹاک مارکیٹ کے لیے منفی ثابت ہو سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور مستقبل کی معیشت
IMF کی رپورٹ میں ایک اہم نکتہ مصنوعی ذہانت (AI) کا معیشت پر اثر ہے۔ اگر پاکستان اپنی افرادی قوت کو آئی ٹی (IT) اور اے آئی (AI) کی مہارتیں سکھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے. تو ہم اپنی پیداواری صلاحیت (Productivity) کو بڑھا کر آئی ایم ایف کے ان سست تخمینوں کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری مستقبل کی معاشی خودمختاری کی چابی ہے۔
IMF کی رپورٹ کا پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر کیا اثر ہوگا؟
IMF کی جانب سے گروتھ ریٹ میں کمی عام طور پر مارکیٹ میں مندی (Bearish Sentiment) کا باعث بنتی ہے. کیونکہ یہ کارپوریٹ منافع میں سست روی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم، اگر افراط زر میں کمی کی توقع پوری ہوتی ہے تو شرح سود (Interest Rates) میں کمی سے مارکیٹ دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔
جب جی ڈی پی کی شرح نمو آبادی میں اضافے کی شرح کے قریب ہو (جیسا کہ پاکستان میں ہے). تو فی کس آمدنی (Per Capita Income) میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ روزگار کے نئے مواقع کم پیدا ہوں گے. اور غربت میں کمی کی رفتار سست رہے گی۔
حکمت عملی: سرمایہ کاروں کو اب کیا کرنا چاہیے؟
موجودہ حالات میں، جب آئی ایم ایف کے اہداف سخت ہیں، سرمایہ کاروں کو (Defensive Sectors) جیسے کہ ٹیکنالوجی، برآمدات سے وابستہ صنعتیں، اور بینکنگ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے۔
-
بچت اور سرمایہ کاری: روایتی بچت کے بجائے ایسے اثاثوں (Assets) میں سرمایہ کاری کریں. جو افراط زر کے خلاف ڈھال (Hedge) ثابت ہوں۔
-
اصلاحات پر نظر: حکومت کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات (Structural Reforms) کے عمل کو مانیٹر کریں. کیونکہ یہ طویل مدتی استحکام کی بنیاد ہیں۔
حرف آخر.
IMF کی جانب سے پاکستان کی ترقی کے تخمینے میں کمی ایک خطرے کی گھنٹی بھی ہے. اور اصلاحات کا موقع بھی۔ اگرچہ 3.2 فیصد کی شرح نمو متاثر کن نہیں ہے. لیکن عالمی افراط زر میں کمی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحانات پاکستان کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔ اصل چیلنج سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل میں ہے. تاکہ 2027 تک 4.1 فیصد کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درست سمت میں جا رہا ہے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



