PSX میں تیزی کا طوفان، KSE100 انٹرا ڈے ٹریڈنگ میں 188,000 کی تاریخی سطح عبور کر گیا
Monetary Easing Expectations and Sector-Wise Buying Fuel Historic Momentum
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX اس وقت اپنی تاریخ کے سنہری دور سے گزر رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ اور میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری نے مارکیٹ کو ایک ایسی بلندی پر پہنچا دیا ہے. جس کا تصور چند ماہ پہلے ناممکن نظر آتا تھا۔ منگل کے روز ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک KSE100 انڈیکس نے 188,000 کی نفسیاتی حد عبور کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ اس تیزی کے پیچھے کونسے عوامل کارفرما ہیں. اور عالمی حالات پاکستانی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
مختصر جائزہ.
-
ریکارڈ بلندی: KSE100 انڈیکس 188,000 سے تجاوز کر گیا ہے. جس کی بنیادی وجہ شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات ہیں۔
-
سیکٹر پرفارمنس: بینکنگ، فرٹیلائزر، اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز میں بڑے پیمانے پر خریداری (Buying) دیکھی جا رہی ہے۔
-
عالمی اثرات: امریکہ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے عالمی مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں. جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے۔
-
آئی ایم ایف (IMF) کی رپورٹ: آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) گروتھ کا تخمینہ کم کر دیا ہے. جو طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
کیا پاکستان اسٹاک مارکیٹ (PSX) کی حالیہ تیزی پائیدار ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی محض اتفاق نہیں بلکہ یہ معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) میں نرمی کے اشاروں کا نتیجہ ہے۔ جب انڈیکس 188,711 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا. تو اس وقت PSX میں 949 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے. کہ سرمایہ کار اب طویل مدتی منصوبوں میں پیسہ لگا رہے ہیں۔
ایک دہائی سے زیادہ مارکیٹ کو قریب سے دیکھنے کے بعد، میں نے محسوس کیا ہے. کہ جب بھی انڈیکس اپنی تاریخی بلند ترین سطح (All-time High) کے قریب ہوتا ہے. تو ریٹیل سرمایہ کار ڈر کے مارے نکلنے لگتے ہیں. جبکہ بڑے انسٹی ٹیوشنز (Institutions) اسی وقت جارحانہ خریداری کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں والیوم (Volume) کا ساتھ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ریلی ابھی تھمی نہیں ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس اور شرح سود میں کمی کی توقعات
سرمایہ کاروں کی تمام تر نظریں 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر جمی ہوئی ہیں۔ مارکیٹ میں یہ بازگشت عام ہے. کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود (Policy Rate) میں مزید کمی کرے گا۔
شرح سود کم ہونے سے اسٹاک مارکیٹ کیوں بڑھتی ہے؟
جب شرح سود کم ہوتی ہے، تو کمپنیوں کے لیے قرض لینا سستا ہو جاتا ہے. جس سے ان کے اخراجات کم اور منافع (Corporate Earnings) بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فکسڈ انکم سیونگ اکاؤنٹس میں منافع کم ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ اسٹاک مارکیٹ کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ حالیہ ٹریژری بلز (T-Bills) اور پی آئی بی (PIB) کی نیلامی میں ریٹس میں کمی نے اس توقع کو مزید تقویت دی ہے۔
وہ سیکٹرز جنہوں نے مارکیٹ کو چار چاند لگا دیے
منگل کی ٹریڈنگ میں مخصوص سیکٹرز میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ ان میں شامل ہیں:
-
کمرشل بینک (Commercial Banks): MCB, NBP اور UBL جیسے بینکوں میں زبردست خریداری ہوئی۔
-
توانائی کا شعبہ (Energy Sector): OGDC, PPL اور POL جیسے بڑے شیئرز "گرین” زون میں رہے۔
-
ریفائنری اور فرٹیلائزر: ARL اور دیگر کھاد ساز کمپنیوں نے انڈیکس کو سہارا دیا۔
اہم اسٹاکس کی کارکردگی
| کمپنی کا نام | سیکٹر | اثر (Impact) |
| MCB Bank | بینکنگ | مثبت (Positive) |
| OGDC | آئل اینڈ گیس | تیزی (Bullish) |
| Lucky Cement | سیمنٹ | مستحکم (Stable) |
آئی ایم ایف (IMF) کی جی ڈی پی (GDP) پیش گوئی اور معاشی حقیقت
ایک طرف اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بنا رہی ہے. تو دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (IMF) نے پاکستان کی معاشی ترقی (Economic Growth) کے تخمینے کو 3.6% سے کم کر کے 3.2% کر دیا ہے۔
کیا آئی ایم ایف کی رپورٹ مارکیٹ کو گرا سکتی ہے؟
عام طور پر جی ڈی پی گروتھ میں کمی منفی خبر سمجھی جاتی ہے. لیکن اسٹاک مارکیٹ "فیوچر ڈسکاؤنٹنگ مشین” ہے۔ مارکیٹ اس وقت صرف شرح سود میں کمی اور کارپوریٹ منافع کو دیکھ رہی ہے۔ تاہم، طویل مدتی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے. کیونکہ کم جی ڈی پی کا مطلب مستقبل میں کم کھپت (Consumption) ہو سکتا ہے۔
عالمی حالات: ٹرمپ کی پالیسیاں اور "Sell America” ٹریڈ
پاکستانی مارکیٹ ایک خلا میں کام نہیں کرتی۔ عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس میں مندی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف (Tariffs) کی دھمکیوں نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
عالمی مندی کا پاکستان پر اثر
جب عالمی سطح پر بے یقینی بڑھتی ہے. تو سرمایہ کار "سیف ہیون” (Safe Haven) جیسے کہ سونا (Gold) اور سوئس فرانک کی طرف بھاگتے ہیں۔ اگر امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی جنگ (Trade War) شدت اختیار کرتی ہے. تو عالمی سپلائی چین متاثر ہوگی، جس کا اثر پاکستان کی برآمدات (Exports) پر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل مانیٹری پالیسی کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک نے 150 سے 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی. تو ہم انڈیکس کو جنوری کے آخر تک 195,000 کی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر شرح سود میں کمی توقع سے کم ہوئی. تو مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) آ سکتا ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے. کہ KSE100 انڈیکس اس سال 200,000 کی حد عبور کر لے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



