عالمی تجارتی تناؤ اور مارکیٹ کی صورتحال: ٹیک انڈیکس، کرپٹو اور بانڈز پر اثرات

Tariff fears, falling Bitcoin and rising bond yields rewrite the global risk narrative

عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے. جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی (Trade Tensions) ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، گرین لینڈ (Greenland) کے معاملے پر پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ نے ایک نئی اقتصادی جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے. جس کے اثرات ٹیک انڈیکس فیوچرز (Tech Index Futures) اور Crypto Market پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

سرمایہ کار اس وقت رسک اثاثوں (Risk Assets) سے نکل کر محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) جیسے کہ سونا (Gold) کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے. کہ کس طرح ان سیاسی واقعات نے عالمی معیشت اور آپ کی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔

مختصر خلاصہ.

  • تجارتی جنگ کا خطرہ: امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان Green Land کے معاملے پر تناؤ کی وجہ سے باہمی ٹیرف (Tariffs) لگنے کا خدشہ ہے. جس سے  مارکیٹ میں مندی آئی ہے۔

  • ٹیک اور Crypto Market میں گراوٹ: Nasdaq 100 اور بٹ کوائن (Bitcoin) میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے. جبکہ مائیکرو اسٹریٹیجی اور کوائن بیس جیسے اسٹاکس بھی گرے ہیں۔

  • محفوظ اثاثوں کی طلب: غیر یقینی صورتحال میں سونا (Gold) اور چاندی (Silver) کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

  • بانڈ مارکیٹ کا دباؤ: عالمی سطح پر بانڈ ییلڈز (Bond Yields) میں اضافہ ہو رہا ہے. جو کہ مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی تناؤ کیوں پیدا ہوا؟

 اس تناؤ کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈینش علاقے ‘Green Land‘ کو حاصل کرنے کی کوششیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفارتی تلخی ہے۔ جب ڈنمارک نے اس تجویز کو مسترد کیا. تو امریکہ نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک پر 10 فیصد نئے ٹیرف (Tariffs) لگانے کا اشارہ دیا. جس کے جواب میں یورپ نے بھی جوابی ٹیکس لگانے کی تیاری کر لی ہے۔

یہ صورتحال مارکیٹ کے لیے ایک ‘بلیک سوان’ (Black Swan) ایونٹ ثابت ہو سکتی ہے. کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع نہیں تھی کہ جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) مسائل اتنی جلدی تجارتی پابندیوں میں بدل جائیں گے۔

یہاں مجھے 2018 کی امریکہ چین تجارتی جنگ یاد آتی ہے۔ اس وقت بھی مارکیٹ نے شروع میں ٹیرف کی دھمکیوں کو سنجیدہ نہیں لیا تھا. لیکن جیسے ہی عملی اقدامات ہوئے، عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی اور Nasdaq میں بڑی کریکشن دیکھی گئی۔ موجودہ صورتحال میں ‘Green Land‘ محض ایک بہانہ ہو سکتا ہے. اصل مسئلہ یورپ کے ساتھ تجارتی توازن کو دوبارہ ترتیب دینا ہے.

ٹیک انڈیکس اور QQQ پر اثرات

ٹیکنالوجی کے شعبے پر مشتمل Nasdaq 100 انڈیکس کو ٹریک کرنے والا QQQ ETF پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 2 فیصد تک گر گیا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے. کہ اگر تجارتی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں. تو ملٹی نیشنل ٹیک کمپنیوں کی لاگت (Costs) بڑھ جائے گی. اور ان کے منافع کے مارجن کم ہو جائیں گے۔

میگنفیشنٹ سیون (Magnificent Seven) کی کارکردگی

دنیا کی سات بڑی ٹیک کمپنیاں، جنہیں میگنفیشنٹ سیون کہا جاتا ہے. ان کے شیئرز میں 1 سے 3 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جب عالمی سطح پر رسک بڑھتا ہے. تو بڑے ادارے سب سے پہلے ان کمپنیوں سے اپنا سرمایہ نکالتے ہیں تاکہ لیکویڈیٹی (Liquidity) برقرار رکھ سکیں۔

بٹ کوائن اور Crypto Market میں مندی کی وجوہات

بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں کو ‘ہائی رسک’ (High Risk) اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب عالمی تجارتی تناؤ بڑھتا ہے اور بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوتا ہے، تو سرمایہ کار کرپٹو جیسے غیر مستحکم اثاثوں سے پیسہ نکال کر ڈالر یا سونے میں منتقل کرتے ہیں۔ اس ‘رسک آف’ (risk-off) ماحول کی وجہ سے بٹ کوائن اپنی حالیہ بلندیوں سے 8 فیصد گر چکا ہے۔

Crypto Market سے وابستہ کمپنیوں کا حال

کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں کمی نے براہ راست ان کمپنیوں کو متاثر کیا ہے. جن کے پاس بڑے پیمانے پر بٹ کوائن محفوظ ہیں. یا جو کرپٹو ایکسچینج چلاتی ہیں:

  1. MicroStrategy (MSTR): 6 فیصد کی کمی۔

  2. Galaxy Digital (GLXY): 8 فیصد کی کمی۔

  3. Coinbase (COIN): 5 فیصد کی گراوٹ۔

میں نے اپنے کیریئر میں دیکھا ہے کہ Crypto Market اکثر ایک ‘لیڈ انڈیکیٹر’ (lead indicator) کے طور پر کام کرتی ہے۔ جب بڑے مالیاتی بحران کا خدشہ ہو. تو کرپٹو میں سب سے پہلے سیلنگ آتی ہے. کیونکہ یہاں سے سرمایہ نکالنا اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان ہوتا ہے۔

سونا اور چاندی: محفوظ پناہ گاہیں (Safe Havens)

جہاں ایک طرف اسٹاکس اور کرپٹو گر رہے ہیں، وہیں سونا (Gold) اور چاندی (Silver) اپنی چمک دکھا رہے ہیں۔ سونے کی قیمت 4,700 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ اس سال 9 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اثاثہ (Asset) سالانہ اضافہ (YTD) موجودہ صورتحال
سونا (Gold) 9% اوپر (Bullish)
چاندی (Silver) 32% تیزی (Surging)
بٹ کوائن (BTC) -8% (حالیہ کمی) مندی (Correction)

چاندی کی 32 فیصد کی غیر معمولی تیزی یہ بتاتی ہے کہ سرمایہ کار اب صرف افراط زر (Inflation) سے بچنے کے لیے نہیں. بلکہ صنعتی سپلائی چین میں ممکنہ تعطل کے پیش نظر بھی قیمتی دھاتوں کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

Gold Price as on 20th January 2026
Gold Price as on 20th January 2026

بانڈ مارکیٹ اور ڈالر انڈیکس (DXY) کا تجزیہ

جب بانڈ کی قیمتیں گرتی ہیں، تو ییلڈز (Yields) اوپر جاتی ہیں۔ جاپان کے 30 سالہ بانڈز کی ییلڈ 4 فیصد کے قریب پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار عالمی مالیاتی نظام میں بڑے بگاڑ کی توقع کر رہے ہیں۔ یہ ‘بانڈ مارکیٹ اسٹریس’ (Bond Market Stress) کہلاتا ہے، جو کہ قرض لینے کی لاگت کو مہنگا کر دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Dollar Index (DXY) میں 0.5 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ عام طور پر بحران میں ڈالر مضبوط ہوتا ہے، لیکن ٹیرف کی دھمکیوں سے امریکی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کی وجہ سے ڈالر پر بھی دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

US Dollar Index is facing volatility amid US-Europe tensions on Green Land issue
US Dollar Index is facing volatility amid US-Europe tensions on Green Land issue

مستقبل کی پیش گوئی اور حکمت عملی (Expert Insight)

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کو درج ذیل نکات پر غور کرنا چاہیے:

  1. لیکویڈیٹی کا خیال رکھیں: ایسی مارکیٹ میں ‘کیش’ (Cash) سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ جب قیمتیں تیزی سے گر رہی ہوں، تو زبردستی ٹریڈ کرنے کے بجائے انتظار کرنا بہتر ہے۔

  2. ٹیرف کی خبروں پر نظر: پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) جیسے کہ ‘پولی مارکیٹ’ (Polymarket) صرف 20 فیصد چانس دے رہے ہیں. کہ گرین لینڈ کا سودا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے. کہ سیاسی محاذ آرائی طویل ہو سکتی ہے۔

  3. ہیجنگ (Hedging): اپنے پورٹ فولیو کو بچانے کے لیے سونے یا دفاعی شعبوں (Defensive Sectors) میں سرمایہ کاری پر غور کریں۔

حرف آخر.

امریکہ اور یورپ کے درمیان کے Green Land معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی محض ایک سفارتی بیان بازی نہیں. بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے۔ Tech Stocks اور Crypto Market میں حالیہ مندی اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ ‘انتظار کرو اور دیکھو’ (wait and see) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بانڈ ییلڈز میں اضافہ اور سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ تیزی خطرے کی گھنٹی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ جغرافیائی سیاست کو کبھی بھی معاشی تجزیے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ ٹیرف کی دھمکیاں محض ایک مذاکراتی حربہ (Negotiation Tactic) ہیں. یا ہم ایک نئی عالمی کساد بازاری (recession) کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

Source: Reuters News Agency Reuters | Breaking International News & Views

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button