Bank Of Japan کا Interest Rate برقرار، BoJ گورنر کا محتاط مگر پُراعتماد معاشی پیغام

BoJ Governor Kazuo Ueda’s Outlook Reveals a Cautious but Confident Path for Japan’s Econom

حال ہی میں بینک آف جاپان BOJ کے گورنر کازوؤ یوئڈا نے مانیٹری پالیسی میٹنگ کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس کی. جس میں انہوں نے شرح سود کو 0.75% پر برقرار رکھنے (Interest Rate Hold) کے فیصلے کی وضاحت کی۔

اس فیصلے کا عالمی فاریکس مارکیٹ اور خاص طور پر جاپانی ین (JPY) پر گہرا اثر پڑنے کی توقع ہے۔ ایک ماہر مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر، ہم اس آرٹیکل میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا جاپان دہائیوں پر محیط سستی مانیٹری پالیسی کو ختم کرنے کے قریب ہے اور ٹریڈرز کے لیے اس میں کیا مواقع چھپے ہیں۔

خلاصہ.

  • شرح سود میں استحکام: BOJ  نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق اپنی کلیدی شرح سود کو 0.75% پر برقرار رکھا ہے۔

  • معاشی بحالی: گورنر یوئڈا کے مطابق جاپانی معیشت اعتدال کے ساتھ بحالی (Moderate Recovery) کی راہ پر گامزن ہے. جس میں حکومتی معاشی پیکج کا بڑا ہاتھ ہے۔

  • مستقبل کا لائحہ عمل: اگر معاشی اعداد و شمار توقعات کے مطابق رہے. تو بینک آف جاپان مستقبل میں شرح سود میں مزید اضافے (Rate Hikes) کے لیے تیار ہے۔

  • ین (Yen) اور بانڈز: گورنر نے کرنسی کی قدر پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا. لیکن بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کا اشارہ دیا ہے۔

بینک آف جاپان نے شرح سود کیوں نہیں بدلی؟ 

بینک آف جاپان کا شرح سود کو 0.75% پر برقرار رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ مرکزی بینک ابھی "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and Watch) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ گورنر یوئڈا نے واضح کیا کہ اگرچہ افراطِ زر (Inflation) میں اضافے کے آثار موجود ہیں. لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں. کہ یہ اضافہ مستحکم اور پائیدار ہو۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ بینک آف جاپان دنیا کے تمام مرکزی بینکوں میں سب سے زیادہ محتاط رہا ہے۔ جب 2008 کے بحران کے بعد باقی دنیا شرح سود بڑھا رہی تھی. جاپان تب بھی منفی یا صفر شرح سود پر قائم تھا۔ آج 0.75% پر رکنا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ وہ ین کی کمزوری اور افراط زر کے درمیان ایک بہت باریک لکیر پر چل رہے ہیں۔

Governor BOJ کازوؤ یوئڈا کے خطاب کے کلیدی نکات

گورنر یوئڈا کی پریس کانفرنس محض ایک بیان نہیں بلکہ مستقبل کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کا روڈ میپ ہے۔ ذیل میں ان کے خطاب کے اہم پہلوؤں کا تجزیہ پیش ہے:

1. معیشت کی اعتدال پسند ترقی (Moderate Economic Growth)

Governor BOJ کا ماننا ہے کہ جاپانی معیشت سکڑ نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ حکومتی معاشی پیکجز نے صارفین کی قوتِ خرید کو سہارا دیا ہے۔ ٹریڈرز کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہے. کیونکہ ایک مضبوط معیشت ہی شرح سود میں اضافے کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔

2. افراطِ زر کا ہدف (Inflation Target)

BOJ کا بنیادی مقصد افراطِ زر کو 2% کے ہدف کے قریب مستحکم رکھنا ہے۔ یوئڈا نے کہا کہ "انڈر لائینگ انفلیشن” (Underlying Inflation) یعنی بنیادی مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے. کہ مستقبل میں جاپان اپنی "اکوموڈیٹو پالیسی” (Accommodative Policy) کو ختم کر سکتا ہے۔

3. بانڈ مارکیٹ میں مداخلت (Bond Market Operations)

جاپانی بانڈز کی پیداوار (Bond Yields) میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گورنر نے خبردار کیا کہ اگر یہ اضافہ بہت غیر مستحکم ہوا. تو بینک آف جاپان بانڈز کی خریداری (Bond Operations) کے ذریعے مداخلت کرے گا۔ یہ مارکیٹ میں استحکام لانے کی ایک کوشش ہے۔

مارکیٹ پر اثرات: فاریکس اور اسٹاک مارکیٹ (Market Implications)

جب بھی Governor BOJ بولتا ہے، فاریکس مارکیٹ میں USDJPY اور JPY کے دیگر جوڑوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔

عنصر (Factor) اثر (Impact) وجہ (Reason)
جاپانی ین (JPY) اتار چڑھاؤ (Volatility) شرح سود میں اضافے کے اشارے ین کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
نکئی 225 (Nikkei 225) دباؤ (Pressure) شرح سود بڑھنے کی توقع اسٹاک مارکیٹ کے لیے منفی ہو سکتی ہے۔
لینڈنگ ریٹس اضافہ (Rising) بینکوں کے قرض دینے کی شرح پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

کیا اب جاپانی ین خریدنے کا وقت ہے؟ 

بہت سے پاکستانی ٹریڈرز یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ین اپنی کم ترین سطح سے واپس آئے گا؟ گورنر یوئڈا نے واضح طور پر کہا. کہ اگر معاشی حالات بہتر رہے. تو وہ ریٹ ہائیک (Rate Hike) کریں گے۔

فاریکس ٹریڈنگ میں ایک مشہور مقولہ ہے "Buy the rumor, sell the fact”۔ مارکیٹ پہلے ہی یہ مان چکی ہے. کہ جاپان ریٹ بڑھائے گا۔ اگر آپ JPY میں لانگ پوزیشن لینے کا سوچ رہے ہیں. تو یاد رکھیں کہ جب تک امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) اپنی شرح سود کم کرنا شروع نہیں کرتا، USDJPY میں بڑی گراوٹ مشکل ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ BoJ کے بیانات کے بعد ین عارضی طور پر مضبوط ہوتا ہے. لیکن پھر واپس اپنی اصلی سمت میں آ جاتا ہے۔

حرف آخر. 

Governor BOJ کازوؤ یوئڈا کا خطاب محتاط مگر پرامید تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے. کہ جاپان اب اپنی دہائیوں پرانی سستی کرنسی کی پالیسی سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ یہ کام انتہائی احتیاط سے کریں گے۔ ٹریڈرز کے لیے پیغام صاف ہے. جاپان کی معیشت اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے. جہاں صفر شرح سود اب تاریخ کا حصہ بننے والی ہے۔

آنے والے مہینوں میں جاپان کے افراطِ زر کے اعداد و شمار (CPI Data) اور تنخواہوں میں اضافے کی رپورٹس یہ طے کریں گی. کہ اگلا ریٹ ہائیک کب ہوگا۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ین دوبارہ 130.00 کی سطح تک واپس آئے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button