ٹک ٹاک کا نیا امریکی معاہدہ: سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
Majority American Ownership Ends Ban Threat and Redefines Data Security Economics
TikTok اور امریکی حکومت کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی بالآخر ایک تاریخی موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ بائٹ ڈانس (ByteDance) نے باضابطہ طور پر TikTok USDS Joint Venture LLC کے قیام کا اعلان کر دیا ہے. جس کا مقصد امریکی صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانا اور ملک میں ایپ پر ممکنہ پابندی کے خطرات کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا بلکہ عالمی مارکیٹس کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس تحریر میں ہم اس ڈیل کے تمام پہلوؤں، اس میں شامل بڑے کھلاڑیوں اور مستقبل کے مارکیٹ رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیں گے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
TikTok کا نیا ڈھانچہ: بائٹ ڈانس اب امریکہ میں براہ راست کنٹرول کے بجائے 19.9% شیئرز کے ساتھ جونیئر پارٹنر ہوگا. جبکہ 80.1% ملکیت امریکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے پاس ہوگی۔
-
بڑے سرمایہ کار: اوریکل (Oracle)، سلور لیک (Silver Lake) ، اور MGX اس نئے وینچر میں 15-15 فیصد کے بڑے حصے دار ہیں۔
-
ڈیٹا کی حفاظت: امریکی صارفین کا ڈیٹا اور الگورتھم (algorithm) اب اوریکل کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں محفوظ ہوں گے. جس کی نگرانی امریکی حکام کریں گے۔
-
سیاسی منظوری: صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ دونوں نے اس ڈیل کی توثیق کر دی ہے. جس سے جیو پولیٹیکل رسک (Geopolitical Risk) کم ہوا ہے۔
TikTok USDS جوائنٹ وینچر کیا ہے؟
TikTok USDS Joint Venture ایک نئی امریکی کمپنی ہے جو خاص طور پر ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز، ڈیٹا مینجمنٹ اور مواد کی سفارش کرنے والے نظام (Content Recommendation Algorithm) کو سنبھالنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
یہ قدم اپریل 2024 کے اس قانون کے جواب میں اٹھایا گیا ہے. جس میں بائٹ ڈانس کو اپنے امریکی اثاثے فروخت کرنے یا پابندی کا سامنا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس نئے ڈھانچے کے تحت، ایپ کی ملکیت کا بڑا حصہ اب "امریکی محب وطن اور سرمایہ کاروں” کے پاس چلا گیا ہے. جیسا کہ صدر ٹرمپ نے بیان کیا۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی کوئی بڑی کمپنی ریگولیٹری دباؤ کے تحت اپنا ڈھانچہ تبدیل کرتی ہے. تو ابتدائی طور پر غیر یقینی صورتحال (uncertainty) پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس ڈیل کی خاص بات یہ ہے. کہ اس میں اوریکل جیسے بڑے نام شامل ہیں. جو سرمایہ کاروں کے اعتماد (investor confidence) کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس ڈیل کے پیچھے بڑے مالیاتی محرکات کیا ہیں؟ (Market Drivers)
TikTok پر پابندی نہ لگنا صرف ایک سوشل میڈیا ایپ کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ اربوں ڈالرز کی مارکیٹ ویلیو (market value) کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
ملکیت کی تقسیم (Ownership Structure)
اس معاہدے کی سب سے دلچسپ بات حصص کی تقسیم ہے۔ بائٹ ڈانس نے اپنا حصہ کم کر کے صرف 19.9% کر دیا ہے. جبکہ بقیہ 80.1% حصہ مندرجہ ذیل بڑے ناموں میں تقسیم کیا گیا ہے.
-
اوریکل (Oracle): 15% حصہ اور کلاؤڈ ہوسٹنگ کے حقوق۔
-
سلور لیک (Silver Lake): 15% حصہ، جو کہ پرائیویٹ ایکویٹی (private equity) کا ایک بڑا نام ہے۔
-
MGX (ابو ظہبی): 15% حصہ، جو کہ عالمی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
-
دیگر: ڈیل فیملی آفس (Dell Family Office) اور الفا ویو پارٹنرز (Alpha Wave Partners) جیسے نامور ادارے بھی اس کا حصہ ہیں۔
الگورتھم اور ڈیٹا کنٹرول
مارکیٹ کے نقطہ نظر سے، TikTok کی اصل قیمت اس کا الگورتھم ہے۔ اس معاہدے کے تحت، یہ الگورتھم اوریکل کے امریکی کلاؤڈ میں رکھا جائے گا. اور اسے امریکی ڈیٹا پر دوبارہ تربیت (Retrain) دی جائے گی۔ اس سے ڈیٹا پرائیویسی (Data Privacy) کے خدشات ختم ہوں گے. اور اشتہار دہندگان (Advertisers) کا اعتماد بڑھے گا۔
کیا اس ڈیل سے مارکیٹ میں استحکام آئے گا؟
TikTok اور بائٹ ڈانس کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسی مثال ہے جہاں ٹیکنالوجی، سیاست اور فنانس کا سنگم ہوتا ہے۔ ایک ماہر کے طور پر، ہم دیکھ سکتے ہیں. کہ اس ڈیل نے "ڈی لسٹنگ” (Delisting) یا مکمل پابندی کے خوف کو ختم کر دیا ہے۔
TikTok USDS Joint Venture Deal Impact کا براہ راست اثر اوریکل کے حصص (Stock Price) پر بھی پڑے گا. کیونکہ اسے اب دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک کا ڈیٹا ہینڈل کرنے کا منافع بخش معاہدہ مل گیا ہے۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جب حکومتیں اور کارپوریٹ ادارے مل کر کسی درمیانی راستے پر راضی ہوتے ہیں، تو وہ سیکٹر مجموعی طور پر تیزی (Bullish Trend) دکھاتا ہے۔ ٹک ٹاک کا معاملہ دیگر چینی ایپس کے لیے بھی ایک ‘بلیو پرنٹ’ ثابت ہو سکتا ہے۔
اشتہارات اور ای کامرس کا مستقبل کیا ہوگا؟
اگرچہ ڈیٹا اور الگورتھم جوائنٹ وینچر کے پاس ہیں. لیکن بائٹ ڈانس کی ایک الگ شاخ ای کامرس (TikTok Shop) اور اشتہارات (Advertising) سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کنٹرول کرے گی۔
-
ریونیو ماڈل: جوائنٹ وینچر کو اپنی تکنیکی خدمات کے عوض ریونیو کا ایک حصہ ملے گا۔
-
تجارتی اثرات: ٹک ٹاک شاپ کی بدولت چھوٹے کاروباروں کو جو فروغ ملا ہے. وہ اب بغیر کسی خوف کے جاری رہ سکے گا۔ امریکہ میں 200 ملین سے زائد صارفین کی موجودگی اس پلیٹ فارم کو اشتہار بازی کے لیے ایک ناگزیر قوت بناتی ہے۔
اختتامیہ.
TikTok اور امریکی حکومت کے درمیان یہ معاہدہ ایک طویل جنگ کا پرامن اختتام ہے۔ TikTok USDS Joint Venture Deal Impact نے نہ صرف لاکھوں مواد تخلیق کرنے والوں (Content Creators) کا مستقبل محفوظ کیا ہے. بلکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ بائٹ ڈانس کا کنٹرول کم ہونا اور امریکی اداروں کا شامل ہونا اس بات کی ضمانت ہے. کہ TikTok اب امریکی معیشت کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ نیا ڈھانچہ TikTok کی مقبولیت میں اضافہ کرے گا یا الگورتھم کی تبدیلی سے اس کا جادو کم ہو جائے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔ ایسے ہی مزید آرٹیکلز پرکھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ Forex News in Urdu, Crypto, Stocks, Commodity Market Analysis وزٹ کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



