پاکستانی معیشت کی نئی اڑان، SBP کا روشن مستقبل، GDP Growth میں تیز رفتار اضافہ اور FX Reserves تاریخی سطح کے قریب

SBP Upgrades GDP Outlook as Monetary Easing, Exports, and Remittances Reshape the Financial Landscape

گزشتہ چند برسوں کی معاشی بے یقینی کے بعد، اب پاکستان کی معیشت سے متعلق ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں. جو سرمایہ کاروں اور عام عوام کے لیے امید کی کرن ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے گورنر جمیل احمد نے حال ہی میں Pakistan Economic Outlook FY26 and FX Reserves Forecast پر روشنی ڈالتے ہوئے ملکی ترقی کے اہداف میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسی پالیسی کا نتیجہ ہیں. جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے خاموشی کے ساتھ نافذ کی جا رہی تھی۔

معاشی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) کو کسی بڑے قرض کے بغیر، مارکیٹ سے ڈالر خرید کر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اس بلاگ میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے. کہ وہ کون سے عوامل ہیں. جو پاکستان کو 30 سالہ بلند ترین اوسط ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں.. اور ایک عام تاجر یا سرمایہ کار کے لیے اس کے کیا معنی ہیں۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • جی ڈی پی نمو (GDP Growth): مالی سال 2026 کے لیے ترقی کا ہدف بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

  • زرمبادلہ کے ذخائر: دسمبر 2026 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 20.2 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔

  • شرح سود میں کمی (Monetary Easing): جون 2024 سے شروع ہونے والی مانیٹری ایزنگ کے مثبت اثرات معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

  • صنعتی اور زرعی ترقی: اکتوبر اور نومبر میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں بالترتیب 8% اور 10.4% کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  • بیرونی قرضے: پاکستان کی قرضوں کی واپسی کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے. اور بیرونی قرضہ جون 2022 کی سطح پر برقرار ہے۔

کیا پاکستان کی جی ڈی پی نمو (GDP Growth) واقعی 30 سالہ ریکارڈ توڑنے والی ہے؟

SBP نے مالی سال 2026 (FY26) کے لیے GDP Growth کا ہدف 3.25-4.25 فیصد سے بڑھا کر 3.75-4.75 فیصد کر دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پہلی سہ ماہی میں 3.7 فیصد کی غیر متوقع ترقی اور صنعتی و زرعی شعبوں میں ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز (High Frequency Indicators) کی مثبت کارکردگی ہے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے. تو یہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی سب سے مستحکم معاشی نمو ہوگی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، معیشت میں یہ بہتری "مانیٹری ایزنگ” (Monetary Easing) یعنی شرح سود میں بتدریج کمی کی وجہ سے آ رہی ہے۔ مالیاتی ماہرین جانتے ہیں. کہ شرح سود میں تبدیلی کے اثرات حقیقی معیشت (Real Economy) تک پہنچنے میں عموماً 6 سے 8 سہ ماہیاں لگتی ہیں۔ اب وہ وقت آ گیا ہے. کہ سستی سرمایہ کاری کے ثمرات فیکٹریوں کی پیداوار اور فصلوں کی کاشت میں نظر آئیں۔

ایک طویل عرصے تک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے بعد، میں نے محسوس کیا ہے. کہ جب SBP اپنی Growth Forecast میں 0.5% کا بھی اضافہ کرتا ہے. تو یہ بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (Institutional Investors) کے لیے ‘بائے سگنل’ ہوتا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں. بلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہوتا ہے۔

صنعتی شعبے کی کارکردگی: LSM میں تیزی

لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) معیشت کا انجن کہلاتی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق:

  • اکتوبر 2025 میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔

  • نومبر 2025 میں 10.4 فیصد اضافہ ہوا۔

  • جولائی سے نومبر تک مجموعی ترقی 6 فیصد رہی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیمنٹ کی کھپت، گاڑیوں کی فروخت (Auto Sales) ، اور مشینری کی درآمد میں اضافہ ہو رہا ہے. جو کہ براہ راست معاشی پہیہ چلنے کی نشانی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر (FX Reserves): 20.2 ارب ڈالر کا تاریخی ہدف

پاکستان کے Foreign Exchange Reserves سے متعلق ایک اہم تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب یہ ذخائر قرضوں کے بجائے مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری (Interbank Purchases) کے ذریعے بنائے جا رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین سالوں میں مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر خریدے ہیں. جبکہ اس سے پہلے بینک ڈالر بیچ کر روپے کو سہارا دیتا تھا۔ اب ہدف یہ ہے. کہ دسمبر 2026 تک ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں. جو کہ پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔

فاریکس مارکیٹ میں اصلاحات کے اثرات

گورنر SBP جمیل احمد نے واضح کیا کہ روپے کی قدر اب مارکیٹ کی طلب اور رسد (Market Determined Exchange Rate) پر منحصر ہے اور اسٹیٹ بینک اسے کنٹرول نہیں کر رہا۔ درآمدات پر تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں. جس کی وجہ سے ماہانہ امپورٹ بل 3.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے. لیکن اس کے باوجود ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں.

  • ورکرز ریمیٹنس (Remittances): سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافہ۔

  • آئی سی ٹی برآمدات (ICT Exports): آئی ٹی کے شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ۔

  • کرنٹ اکاؤنٹ مینجمنٹ: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے. جو کہ ایک صحت مند معیشت کی علامت ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ کے دوران ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے. جب 100 ملین ڈالر کی ادائیگی پر روپیہ 2 سے 3 فیصد ٹوٹ جاتا تھا۔ لیکن موجودہ صورتحال میں، 5.5 ارب ڈالر کی ماہانہ امپورٹ کے باوجود کرنسی کا استحکام یہ بتاتا ہے. کہ مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی (Liquidity) اب پہلے سے کہیں بہتر اور شفاف ہے۔

اشاریہ (Indicator) موجودہ صورتحال (Jan 2026) ہدف (Dec 2026)
اسٹیٹ بینک ذخائر 16.1 ارب ڈالر 20.2 ارب ڈالر
مجموعی ملکی ذخائر ~21 ارب ڈالر 25.0 ارب ڈالر
فارورڈ واجبات 2.0 ارب ڈالر (کم ترین) مزید کمی کی توقع

بیرونی قرضوں کی واپسی اور ادائیگی کی صلاحیت (Repayment Capacity)

ایک بڑا سوال جو ہر سرمایہ کار کے ذہن میں ہوتا ہے. وہ یہ ہے کہ: کیا پاکستان اپنے قرضے بروقت ادا کر سکے گا؟

گورنر اسٹیٹ بینک نے اس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کے لیے مجموعی طور پر 25.7 ارب ڈالر کی ادائیگیاں واجب الادا تھیں۔ ان میں سے:

  • 12.5 ارب ڈالر کو رول اوور (Rollover) کیا جانا تھا. جس میں سے 7 ارب ڈالر (بشمول چین کے 2.2 ارب ڈالر) پہلے ہی رول اوور ہو چکے ہیں۔

  • باقی ماندہ 11 ارب ڈالر میں سے 5.7 ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں. جبکہ 5.3 ارب ڈالر جون 2026 تک ادا کر دیے جائیں گے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ جون 2022 کی سطح پر رکا ہوا ہے. یعنی ہم نے نئے نیٹ قرضے نہیں لیے بلکہ صرف پرانے قرضوں کا انتظام کیا ہے۔ یہ مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) کسی بھی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مانیٹری پالیسی کا مستقبل اور افراط زر میں کمی

اسٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ جون 2024 سے جو شرح سود میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا. اس کے نتائج اب معیشت کے ہر شعبے میں پھیل رہے ہیں۔ کم شرح سود کا مطلب ہے.

  1. کاروباری لاگت میں کمی: کمپنیاں سستے قرضے لے کر اپنی پیداوار بڑھا سکتی ہیں۔

  2. صارفین کی قوت خرید میں اضافہ: لیزنگ اور فنانسنگ (مثلاً کار لون، ہاؤس فنانسنگ) دوبارہ فعال ہو رہی ہے۔

  3. روزگار کے مواقع: جب صنعتی ترقی (LSM) بڑھتی ہے، تو لیبر مارکیٹ میں طلب پیدا ہوتی ہے۔

تاہم، گورنر نے عالمی خطرات (Global Risks) سے بھی آگاہ کیا۔ عالمی تجارت میں گروہ بندی (Trade Fragmentation) اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال (Geopolitical Uncertainty) ایسے عوامل ہیں. جو عالمی سطح پر کموڈٹی کی قیمتوں کو متاثر کر کے پاکستان کے افراط زر اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

کیا اب گولڈ (Gold) میں سرمایہ کاری کا وقت ہے؟

ایک دلچسپ سوال کے جواب میں گورنر نے کہا. کہ SBP کے پاس فی الحال اتنے اضافی ذخائر نہیں ہیں. کہ انہیں سونے (Gold) میں ڈائیورسیفائی (Diversify) کیا جا سکے۔ ان کا فوکس فی الحال ڈالر کے ذخائر کو تین ماہ کی درآمدی کور (3-Month Import Cover) تک لے جانا ہے۔

بطور ماہر، میں سمجھتا ہوں کہ جب سینٹرل بینک سونے کی خریداری سے گریز کرتا ہے. تو اس کا مطلب ہے کہ اسے فوری نقد رقم (Liquid Cash) کی ضرورت ہے. تاکہ ادائیگیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ اشارہ ہے. کہ فی الحال ڈالر اور روپیہ مارکیٹ میں استحکام رہے گا. لیکن طویل مدتی اثاثوں کے لیے سونا ہمیشہ ایک محفوظ پناہ گاہ رہتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی (Expert Conclusion)

SBP کا حالیہ آؤٹ لک Pakistan Economic Outlook FY26 and FX Reserves Forecast یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان "بحران کے انتظام” (Crisis Management) سے نکل کر اب "ترقی کے انتظام” (Growth Management) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جی ڈی پی گروتھ کا 4.75% تک پہنچنا اور فارورڈ واجبات کا کم ترین سطح پر آنا ملکی تاریخ کا ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک تجربہ کار فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو اب اپنی حکمت عملی میں "گروتھ اسٹاکس” اور صنعتی شعبے کو اہمیت دینی چاہیے۔ جب مشینری کی درآمد بڑھتی ہے. اور شرح سود کم ہوتی ہے. تو مینوفیکچرنگ کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تاہم، عالمی حالات اور سیاسی استحکام پر نظر رکھنا ہمیشہ ضروری ہے. کیونکہ معیشت کبھی بھی خلا میں کام نہیں کرتی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان دسمبر 2026 تک 20 ارب ڈالر کے ذخائر کا ہدف پورا کر لے گا؟ کیا آپ کی کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں!

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button