KSE100 میں شدید اتار چڑھاؤ، PSX دباؤ کا شکار، SBP کے فیصلے نے مارکیٹ کی سمت بدل دی

Unchanged Policy Rate Triggers Profit-Taking While Global Markets Turn to Gold and Silver

پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX کے سرمایہ کاروں کے لیے رواں ہفتہ کافی ہنگامہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جنوری 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ (Policy Rate) کو 10.5% پر برقرار رکھنے کے فیصلے نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد قیمتوں میں استحکام (Price Stability) لانا ہے۔ ممکنہ طور پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت رکھا گیا ہے۔

اس فیصلے کے اگلے ہی دن KSE100 Index میں تقریباً 400 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی۔ SBP Interest Rate Decision Impact on PSX 2026 کو سمجھنا ان تمام لوگوں کے لیے ضروری ہے. جو اس وقت مارکیٹ میں اپنی پوزیشنز بنائے ہوئے ہیں۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ کی توقعات کے برعکس شرح سود کو 10.5% پر مستحکم رکھا. جبکہ سرمایہ کاروں کو شرح میں کمی کی امید تھی۔

  • KSE100 انڈیکس 384 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 188,202 پر بند ہوا. جبکہ بینکنگ سیکٹر میں عارضی تیزی کے بعد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

  • عالمی سطح پر امریکی ٹیرف (Tariffs) اور صدارتی فیصلوں کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

  • سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ موجودہ اتار چڑھاؤ (Volatility) میں محتاط رہیں اور سپورٹ لیولز کا انتظار کریں۔

مانیٹری پالیسی کا فیصلہ مارکیٹ کے لیے حیران کن کیوں تھا؟

عام طور پر جب افراط زر (Inflation) کے اعداد و شمار میں بہتری آتی ہے. تو سرمایہ کار یہ توقع کرتے ہیں کہ مرکزی بینک شرح سود میں کمی کرے گا۔ تاہم، اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ (Policy Rate) کو 10.5% پر برقرار رکھ کر "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and Watch) کی پالیسی اپنائی ہے۔

تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں کہ مارکیٹ ہمیشہ ‘فیوچر ڈسکاؤنٹنگ’ پر چلتی ہے۔ جب مانیٹری پالیسی سے پہلے مارکیٹ مسلسل ریکارڈ سطح چھو رہی ہو. تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ شرح سود میں کمی کی خبر پہلے ہی قیمتوں میں شامل ہو چکی تھی۔ جیسے ہی توقع پوری نہیں ہوئی، ‘نیوز پر فروخت’ (Sell on News) کا رجحان غالب آ گیا۔

کیا شرح سود میں کمی نہ ہونا معیشت کے لیے برا ہے؟

یہ قلیل مدتی (Short-Term) بنیادوں پر مارکیٹ کے لیے منفی ہے. کیونکہ قرض لینے کی لاگت (Cost of Borrowing) کم نہیں ہوئی، جس سے کارپوریٹ منافع متاثر ہو سکتا ہے۔

PSX کا اتار چڑھاؤ: 189,000 کی سطح سے واپسی.

منگل کے روز مارکیٹ کا آغاز مثبت ہوا اور KSE100 نے 189,521 کی بلند ترین سطح کو چھوا۔ لیکن یہ تیزی دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔

ٹریڈنگ سیشن کا تجزیہ (Market Session Analysis)

مارکیٹ پوزیشن انڈیکس پوائنٹس
انٹرا ڈے ہائی (Intra-day High) 189,521.32
انٹرا ڈے لو (Intra-day Low) 187,538.23
کلوزنگ (Closing) 188,202.85
کل کمی (Total Drop) 384.81 (0.20%)

Sovereign Risk and Institutional Play: مارکیٹ میں بینکنگ سیکٹر نے شروع میں سہارا دیا. کیونکہ بلند شرح سود بینکوں کے مارجن (Spreads) کے لیے اچھی ہوتی ہے. لیکن مجموعی طور پر KSE100 انڈیکس پر منافع کی وصولی (Profit-Taking) کا دباؤ زیادہ رہا۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات: ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اور محفوظ سرمایہ کاری

پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹس میں بھی بے یقینی کی کیفیت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر ٹیرف (Tariffs) لگانے کے بیانات نے ایشیائی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

جب اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہو، تو سرمایہ کار محفوظ اثاثوں (Safe-Haven Assets) کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

  • سونا (Gold): 1% اضافے کے ساتھ 5,066 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا. جو کہ ریکارڈ سطح کے انتہائی قریب ہے۔

  • چاندی (Silver): 6.4% کے بڑے جمپ کے ساتھ 110.60 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار اس وقت بڑے خطرات (Macro Risks) کو بھانپ رہے ہیں. جس کا اثر پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں (Emerging Markets) پر بھی پڑتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے عملی حکمت عملی: اب کیا کیا جائے؟

اگر آپ ایک ریٹیل انویسٹر ہیں، تو موجودہ صورتحال میں جذباتی فیصلے کرنے سے بچیں۔ SBP Interest Rate Decision Impact on PSX 2026 محض ایک دن کا واقعہ نہیں. بلکہ یہ آنے والے چند ہفتوں کے رجحان (Trend) کا تعین کرے گا۔

  1. منافع کی وصولی (Profit Taking): اگر آپ پہلے سے اچھے منافع میں ہیں. تو تھوڑی کیش پوزیشن (Cash Position) بنانا برا خیال نہیں ہے۔

  2. سپورٹ لیولز (Support Levels): انڈیکس کے لیے 187,500 ایک اہم نفسیاتی سپورٹ ہے۔ اگر PSX اس سے نیچے جاتی ہے. تو مزید مندی آ سکتی ہے۔

  3. سیکٹر سلیکشن (Sector Selection): بلند شرح سود کے ماحول میں بینکنگ اور انرجی سیکٹر پر نظر رکھیں. جبکہ سیمنٹ اور آٹو سیکٹر (جو قرضوں پر انحصار کرتے ہیں) سے فی الحال دوری بہتر ہو سکتی ہے۔

اختتامیہ.

Pakistan Stock Exchange میں 400 پوائنٹس کی یہ حالیہ کمی دراصل سرمایہ کاروں کے "اوور ری ایکشن” اور منافع کی وصولی کا مجموعہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کا 10.5% پر ریٹ برقرار رکھنا ظاہر کرتا ہے. کہ معیشت ابھی مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ مندی خریداری کا ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتی ہے. بشرطیکہ وہ بنیادی طور پر مضبوط کمپنیوں (Fundamentally Strong Companies) کا انتخاب کریں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اسٹیٹ بینک کو اس بار شرح سود میں کمی کرنی چاہیے تھی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button