پاکستان کا Banking Sector، ADR میں واپسی، سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی نے مالی منظرنامہ بدل دیا
Deposit Growth, Rising Investments, and Government Instruments Redefine Banking Dynamics
پاکستان کا مالیاتی منظرنامہ (financial landscape) ایک دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے۔ دسمبر 2025 کے حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں. کہ Banking Sector کے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (ADR) میں ایک نمایاں بہتری آئی ہے. جو تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے. جب مارکیٹ کے شرکاء بینکوں کی قرض دینے کی حکمت عملی اور حکومتی سیکیورٹیز میں حد سے زیادہ سرمایہ کاری پر بحث کر رہے تھے۔
اس بلاگ میں ہم نہ صرف ان اعداد و شمار کا جائزہ لیں گے. بلکہ یہ بھی سمجھیں گے کہ ایک عام سرمایہ کار اور تاجر کے لیے ان تبدیلیوں کے کیا معنی ہیں۔
کلیدی نکات (Key Takeaways)
-
ADR میں بہتری: دسمبر 2025 میں Banking Sector کا ADR بڑھ کر 39.8% ہو گیا ہے. جو نومبر کے مقابلے میں 182 بنیادی پوائنٹس (bps) کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
-
ڈپازٹس میں اضافہ: Banking Sector کے کل ڈپازٹس (Deposits) میں سالانہ 23.6% کا زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے. جو 37.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
-
سرمایہ کاری کا غلبہ: انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (IDR) اب بھی 100% سے اوپر (101.3%) ہے. جس کا مطلب ہے کہ بینک اب بھی نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
-
قرضوں (Advances) کی صورتحال: ماہانہ بنیادوں پر قرضوں میں 10.9% کا اضافہ ہوا ہے. لیکن سالانہ بنیادوں پر یہ اب بھی 7.1% کم ہیں۔
Banking Sector کا ADR کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (Advance-to-Deposit Ratio – ADR) ایک ایسا پیمانہ ہے. جو یہ بتاتا ہے کہ بینک کے پاس موجود کل جمع شدہ رقم (Deposits) میں سے کتنا حصہ اس نے قرض (Loans) کے طور پر مارکیٹ میں دیا ہوا ہے۔
اگر ADR زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ بینک معیشت کے پہیے کو چلانے کے لیے نجی شعبے کو زیادہ قرض دے رہا ہے۔ دسمبر 2025 میں 39.8% کا لیول اس بات کی علامت ہے. کہ بینکوں نے دوبارہ سے قرضے دینے کی طرف مائل ہونا شروع کر دیا ہے. حالانکہ دسمبر 2024 (52.9%) کے مقابلے میں یہ اب بھی کافی کم ہے۔
کیا 40% کا ADR بینکوں کی صحت کے لیے کافی ہے؟
اگرچہ یہ گزشتہ ماہ سے بہتر ہے، لیکن مثالی طور پر ایک ترقی پذیر معیشت میں ADR کا 50% سے اوپر ہونا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ 40% کی سطح یہ ظاہر کرتی ہے. کہ بینک اب بھی محتاط (Cautious) ہیں. اور اپنے پیسے کا بڑا حصہ محفوظ حکومتی پیپرز میں رکھنا پسند کر رہے ہیں۔
IDR میں کمی اور حکومتی قرضوں کا بوجھ
دسمبر 2025 میں انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (Investment-to-Deposit Ratio – IDR) 101.3% ریکارڈ کیا گیا۔ یہ نومبر کے 103.8% سے تھوڑا کم ہے. لیکن سالانہ بنیادوں پر اس میں 509 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں. Banking Sector کے پاس جتنا پیسہ ڈپازٹس کی صورت میں آتا ہے. وہ اس سے بھی زیادہ رقم (بشمول دیگر ذرائع) حکومتی بانڈز اور ٹریژری بلز (T-Bills) میں لگا رہے ہیں۔
یہاں ایک سینئر مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی شرح سود (Interest Rates) بلند سطح پر ہوتی ہے، بینک ‘رسک فری’ منافع کو ترجیح دیتے ہیں۔
2023-24 کے سائیکل میں ہم نے دیکھا کہ بینکوں نے نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے حکومتی قرضوں پر اکتفا کیا. کیونکہ وہاں ڈیفالٹ کا خطرہ صفر تھا اور منافع بہت زیادہ۔ اب ADR میں معمولی بہتری اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے. کہ Banking Sector کو شاید یہ لگ رہا ہے کہ مستقبل میں شرح سود کم ہوگی. اس لیے وہ دوبارہ پرائیویٹ لینڈنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ڈپازٹس اور انویسٹمنٹ کی شرح نمو (Growth Analysis)
پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں رقم جمع کروانے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
| کیٹیگری | دسمبر 2025 (رقم) | سالانہ اضافہ (YoY) | ماہانہ اضافہ (MoM) |
| ڈپازٹس (Deposits) | Rs 37.4 Trillion | 23.6% | 5.8% |
| انویسٹمنٹ (Investments) | Rs 37.9 Trillion | 30.1% | – |
| قرضے (Advances) | Rs 14.9 Trillion | -7.1% | 10.9% |
یہ جدول واضح کرتا ہے کہ سرمایہ کاری (investments) کی رفتار ڈپازٹس سے بھی زیادہ تیز رہی ہے۔ 30.1% کا سالانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے. کہ Banking Sector کا پورا زور صرف Portfolio Management پر ہے نہ کہ بینکنگ کے بنیادی کام یعنی قرضہ دینے پر۔
اسٹاک مارکیٹ اور Banking Sector پر اثرات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے لیے یہ اعداد و شمار ملے جلے ہیں۔ ایک طرف بینکوں کے پاس ریکارڈ ڈپازٹس ہیں جو ان کے منافع کو سہارا دیتے ہیں، دوسری طرف ADR میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بینک اب اپنے اثاثوں کی تقسیم (Asset Allocation) کو بہتر بنا رہے ہیں۔
اگر ADR اسی طرح بڑھتا رہا تو بینکوں کی آمدنی کے ذرائع متنوع (Diversify) ہوں گے. جو طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اچھا سگنل ہے۔
اختتامیہ.
دسمبر 2025 میں ADR کا 39.8% تک پہنچنا ایک مثبت "ریباؤنڈ” ہے. لیکن اسے مکمل بحالی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ بینکوں کا انحصار ابھی بھی بہت حد تک حکومتی قرضوں پر ہے۔ تاہم، ماہانہ بنیادوں پر ایڈوانسز میں 10% سے زیادہ کا اضافہ یہ بتاتا ہے کہ برف پگھل رہی ہے۔
ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو صرف ایک مہینے کی کارکردگی کے طور پر نہ دیکھیں. بلکہ اسے آنے والے ‘کریڈٹ سائیکل’ کے آغاز کے طور پر لیں۔ اگر ڈپازٹس کی ترقی کا یہی تسلسل رہا. تو پاکستان کا مالیاتی نظام 2026 میں زیادہ متوازن ہو سکتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بینکوں کو صرف حکومت کو قرض دینا چاہیے. یا انہیں عام آدمی اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضے آسان بنانے چاہئیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



