FOMC Member Kashkari Speaks

فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے رکن نیل کاشکری کا خطاب عالمی مالیاتی منڈیوں میں خصوصی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ نیل کاشکری کو فیڈ کے نسبتاً سخت (Hawkish) مؤقف رکھنے والے پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان کے بیانات اکثر شرحِ سود، افراطِ زر اور امریکی معیشت کے مستقبل سے متعلق مارکیٹ کی توقعات کو متاثر کرتے ہیں۔
خطاب کی اہمیت
نیل کاشکری کے خطابات سرمایہ کاروں، فاریکس ٹریڈرز اور پالیسی تجزیہ کاروں کے لیے اس لیے اہم ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ افراطِ زر کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کے حامی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ کہ جب تک مہنگائی واضح طور پر فیڈ کے 2 فیصد ہدف کی جانب واپس نہیں آتی، شرحِ سود میں نرمی قبل از وقت ہوگی۔
افراطِ زر پر کاشکری کا مؤقف
کاشکری اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ افراطِ زر میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن بنیادی مہنگائی (Core Inflation) اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق قبل از وقت شرحِ سود میں کمی سے مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ جو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
شرحِ سود اور مانیٹری پالیسی
اپنے خطابات میں نیل کاشکری عام طور پر اس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ کہ شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند سطح پر رکھا جائے۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں۔ کہ فیڈ کے فیصلے مکمل طور پر معاشی ڈیٹا پر منحصر ہیں، نہ کہ مارکیٹ کے دباؤ یا سیاسی عوامل پر۔
امریکی معیشت سے متعلق خیالات
کاشکری کے مطابق امریکی معیشت اب بھی مضبوط ہے۔ خاص طور پر لیبر مارکیٹ میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، وہ خبردار کرتے ہیں۔ کہ سخت مالیاتی پالیسی کے اثرات وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
مالیاتی منڈیوں پر اثرات
نیل کاشکری کے سخت بیانات اکثر امریکی ڈالر کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹس اور سونے کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ فاریکس مارکیٹ میں ان کے بیانات خاص طور پر EUR/USD، GBP/USD اور USD/JPY جیسے جوڑوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں۔
نتیجہ
FOMC ممبر نیل کاشکری کا خطاب فیڈ کی مستقبل کی پالیسی سمت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے خیالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیڈ افراطِ زر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے شرحِ سود میں نرمی کے حق میں نہیں ہے، جو عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



