Bitcoin کی قیمت میں اچانک جھٹکا، Liquidity کی کمی نے کرپٹو مارکیٹ کو بے نقاب کر دیا
Thin Liquidity, Leveraged Trades and China Data Shape Bitcoin’s Short-Term Direction
Bitcoin کی حالیہ قیمت کی نقل و حرکت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے. کہ جب مارکیٹ میں "لیکویڈیٹی” (Liquidity) یعنی نقد رقم کا بہاؤ کم ہوتا ہے. تو قیمتیں کس طرح تیزی سے گر اور سنبھل سکتی ہیں۔
حال ہی میں بٹ کوائن $74,000 کی سطح تک گرا، جس کی بڑی وجہ مارکیٹ میں خریداروں اور فروخت کنندگان کی کمی یعنی "تھن مارکیٹ ڈیپتھ” (Thin Market Depth) تھی۔ یہ تحریر آپ کو سمجھائے گی کہ Bitcoin Liquidity and Market Depth Analysis کیوں ضروری ہے. اور یہ آپ کی ٹریڈنگ کو کیسے متاثر کرتی ہے۔
$76,000 سے اوپر واپسی اس بات کا عندیہ دیتی ہے. کہ حالیہ گراوٹ ایک لیوریج ری سیٹ تھی، نہ کہ طویل مدتی ری پرائسنگ۔ تاہم جب تک مارکیٹ میں گہری Liquidity واپس نہیں آتی. یا ڈالر کی طاقت اور حقیقی شرحِ سود جیسے عوامل واضح رخ اختیار نہیں کرتے، Bitcoin کی قیمت ایسے ہی اچانک جھٹکوں اور تیز ریلیوں کی کہانی سناتی رہے گی۔
اہم نکات
-
Bitcoin کی قیمت $74,000 تک گرنے کی اصل وجہ کم لیکویڈیٹی (Low Liquidity) تھی. جس نے چھوٹے سیلنگ پریشر کو بڑا بنا دیا۔
-
فیوچرز مارکیٹ میں $510 ملین کی لیکویڈیشن (Liquidations) نے قیمت کو تیزی سے نیچے دھکیلا۔
-
چین کا مینوفیکچرنگ ڈیٹا مارکیٹ کے لیے ایک پس منظر کے طور پر کام کر رہا ہے. لیکن یہ فوری تیزی (Catalyst) کا سبب نہیں ہے۔
-
ہفتہ وار تعطیلات (Weekends) کے دوران بڑے اداروں (Institutions) کی غیر موجودگی مارکیٹ کو مزید غیر مستحکم بناتی ہے۔
مارکیٹ ڈیپتھ (Market Depth) کیا ہے اور Bitcoin پر اس کا کیا اثر ہوا؟
مارکیٹ ڈیپتھ سے مراد آرڈر بک (Order Book) میں موجود خرید و فروخت کے آرڈرز کی تعداد اور حجم ہے۔ جب مارکیٹ ڈیپتھ کم ہوتی ہے. تو ایک چھوٹی سی فروخت بھی قیمت میں بڑی گراوٹ لا سکتی ہے. کیونکہ اسے جذب کرنے کے لیے خریدار موجود نہیں ہوتے۔ Bitcoin کی حالیہ $74,000 تک کی گراوٹ اسی "تھن لیکویڈیٹی” (Thin Liquidity) کا نتیجہ تھی. جہاں آرڈر بک خالی ہونے کی وجہ سے قیمت تیزی سے نیچے پھسل گئی۔

مارکیٹ کے ماہرین جانتے ہیں کہ قیمت کا صرف ایک سطح پر ہونا کافی نہیں ہوتا. بلکہ اس سطح پر "حجم” (Volume) کا ہونا ضروری ہے۔ جب قیمت $75,000 کی سپورٹ (Support) سے نیچے گئی. تو وہاں خریداروں کی کمی تھی. جس کی وجہ سے ایک "وی شیپ” (V-shaped) ریکوری دیکھنے کو ملی۔
میں نے پچھلے 10 سالوں میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب ویک اینڈ پر والیم کم ہوتا ہے. تو وہیلز (Whales) مارکیٹ کو آسانی سے مینیپولیٹ کرتی ہیں۔ 2021 کے کریش میں بھی بالکل ایسا ہی ہوا تھا. جہاں کم ڈیپتھ کی وجہ سے سٹاپ لاسز ہٹ ہوئے اور قیمت منٹوں میں ہزاروں ڈالر نیچے گر گئی۔
جب Bitcoin $75,000 کی سطح سے نیچے آیا تو یہ واضح ہو گیا. کہ مارکیٹ میں گہرائی کی کمی ہے۔ آرڈر بکس اتنے پتلے تھے کہ نسبتاً کم سیلنگ پریشر نے بھی سپورٹ لیول توڑ دیا۔ مگر یہی کمزوری اس وقت طاقت بن گئی. جب ڈِپ بائرز اور شارٹ کورنگ نے قیمت کو اتنی ہی تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔ یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے. کہ موجودہ ریلی بنیادی عوامل سے زیادہ مارکیٹ مکینکس پر کھڑی ہے۔
لیوریج فلش (Leverage Flush) اور $510 ملین کی تباہی
جب ٹریڈرز ادھار رقم یا "لیوریج” (Leverage) پر ٹریڈ کرتے ہیں، تو قیمت میں معمولی کمی ان کے اکاؤنٹ کو زیرو کر سکتی ہے. جسے لیکویڈیشن کہتے ہیں۔ حالیہ 12 گھنٹوں میں $510 ملین مالیت کی پوزیشنز ختم ہوئیں. جن میں سے $391 ملین "لانگ پوزیشنز” (Longs) تھیں۔ یہ ایک زنجیر کی طرح کام کرتا ہے. ایک پوزیشن بند ہوتی ہے. تو مارکیٹ پر مزید پریشر آتا ہے. جو اگلی پوزیشن کو بند کرنے کا سبب بنتا ہے۔
یہ صورتحال درج ذیل ٹیبل سے سمجھی جا سکتی ہے:
| پوزیشن کی قسم | نقصان کی مالیت (Millions) | مارکیٹ پر اثر |
| لانگ پوزیشنز (Longs) | $391.6 | شدید فروخت کا دباؤ |
| شارٹ پوزیشنز (Shorts) | $118.6 | شارٹ کورنگ (قیمت میں معمولی اضافہ) |
| مجموعی نقصان | $510.2 | مارکیٹ میں افراتفری |
چین کا معاشی ڈیٹا: ایک خاموش سہارا یا محض دھوکہ؟
چین کی فیکٹری سرگرمی (Manufacturing Data) کے اعداد و شمار ملے جلے رہے۔ جہاں نجی سروے میں بہتری نظر آئی. وہیں سرکاری ڈیٹا نے سستی کا اشارہ دیا۔ تاہم، Bitcoin کے لیے چین اب براہ راست اثر انداز ہونے والا ملک نہیں رہا. بلکہ یہ عالمی ڈالر کی لیکویڈیٹی (Global Dollar Liquidity) کے ذریعے اثر ڈالتا ہے۔
بیجنگ کی یوآن (Yuan) پر سخت گرفت کا مطلب ہے کہ چین سے براہ راست پیسہ کرپٹو میں نہیں آ رہا. بلکہ یہ ڈیٹا صرف عالمی سطح پر کساد بازاری (Recession) کے خوف کو کم کرتا ہے۔ جب تک چین کوئی بڑا معاشی پیکیج (Stimulus) متعارف نہیں کرواتا. Bitcoin Price کے لیے یہ صرف ایک پس منظر کی خبر (Background noise) ہی رہے گی۔
ویک اینڈ ٹریڈنگ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی عدم موجودگی
کرپٹو مارکیٹ 24/7 کھلی رہتی ہے، لیکن روایتی بینک اور بڑے مالیاتی ادارے (Institutions) ہفتہ اور اتوار کو بند ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آرڈر بکس مزید پتلی (Thin) ہو جاتی ہیں۔
-
کم سرمایہ، بڑی حرکت: ویک اینڈ پر قیمت کو $1,000 اوپر یا نیچے لے جانے کے لیے عام دنوں کے مقابلے میں بہت کم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔
-
پوزیشننگ بمقابلہ فنڈامنٹلز: ان دنوں میں قیمت معاشی خبروں کے بجائے صرف ٹریڈرز کی پوزیشننگ اور سٹاپ لاس (Stop Loss) ہنٹنگ پر چلتی ہے۔
-
ایلٹ کوائنز (Altcoins) کا حال: جب بٹ کوائن گرتا ہے، تو ایتھریم (ETH) اور سولانا (SOL) جیسے کوائنز میں زیادہ تیزی سے گراوٹ آتی ہے. کیونکہ ان کی لیکویڈیٹی Bitcoin سے بھی کم ہوتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟
موجودہ مارکیٹ کی حالت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب تک مارکیٹ میں گہری لیکویڈیٹی (Deep Liquidity) واپس نہیں آتی. بٹ کوائن اسی طرح کے جھٹکے دیتا رہے گا۔ قیمت کا دوبارہ $76,000 سے اوپر آنا ایک مثبت اشارہ ہے. لیکن یہ ایک "ٹیکنیکل ری سیٹ” (Technical Reset) زیادہ لگتا ہے. نہ کہ کسی بڑی تیزی کا آغاز۔
آپ کے لیے اہم مشورے:
-
ہائی لیوریج سے بچیں: کم لیکویڈیٹی والی مارکیٹ میں 10x سے زیادہ لیوریج خودکشی کے مترادف ہے۔
-
ویک اینڈ پر محتاط رہیں: ہفتہ وار تعطیلات کے دوران بڑے بریک آؤٹ اکثر "فیک آؤٹ” (Fake-out) ثابت ہوتے ہیں.
-
مارکیٹ ڈیپتھ پر نظر رکھیں: صرف چارٹ نہ دیکھیں، بلکہ ایکسچینجز پر آرڈر بک کی گہرائی کا بھی جائزہ لیں۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ‘Liquidity is King’۔ اگر آپ کو نظر آ رہا ہے. کہ بڈ (Bid) اور آسک (Ask) کے درمیان فرق (Spread) بڑھ رہا ہے. تو سمجھ جائیں کہ مارکیٹ کسی بھی طرف بڑا جھٹکا دے سکتی ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
Bitcoin کا $74,000 کا ٹیسٹ اس بات کی یاد دہانی ہے. کہ مارکیٹ ابھی بھی "پلمبنگ” (Market Plumbing) اور پوزیشننگ کے زیر اثر ہے۔ ڈالر کی مضبوطی اور عالمی سود کی شرح (Interest Rates) جب تک واضح رخ اختیار نہیں کرتیں، بٹ کوائن کی قیمت اسی طرح رینج میں رہے گی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بٹ کوائن جلد ہی $80,000 کی سطح کو چھو لے گا. یا ابھی مزید لیکویڈیشن باقی ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



