AUDUSD دباؤ میں، RBA Interest Rate Hike کے باوجود US Dollar کی واپسی نے آسٹریلوی کرنسی کی رفتار توڑ دی
RBA Rate Hike Fails to Sustain Aussie Strength Amid Fed Speculation
آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت عالمی مالیاتی منڈیوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ منگل کے روز ریزرو بینک آف آسٹریلیا RBA نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق اپنی بنیادی شرح سود (Interest Rate) میں 25 بیسس پوائنٹس (bps) کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 3.85% تک پہنچا دیا ہے۔ تاہم، ابتدائی طور پر قیمتوں میں اضافے کے بعد، AUDUSD کی جوڑی 0.7035 سے واپس 0.7000 کی نفسیاتی سطح کی طرف گر رہی ہے۔
اس تحریر میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ RBA کی گورنر مشیل بلک (Michele Bullock) کے بیانات اور امریکی ڈالر کی مضبوطی نے اس کرنسی جوڑی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
شرح سود میں اضافہ: RBA نے سود کی شرح 3.85% کر دی ہے. جو کہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے۔
-
گورنر بلک کا بیان: گورنر کی پریس کانفرنس کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ آیا۔
-
امریکی ڈالر کی طاقت: ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش (Kevin Warsh) کی بطور فیڈ چیئر نامزدگی نے امریکی ڈالر (USD) کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
-
تکنیکی صورتحال: 0.7100 کی سطح ایک مضبوط رکاوٹ (Resistance) ثابت ہوئی ہے. جبکہ 0.7000 کا لیول اب ایک اہم سپورٹ بن چکا ہے۔
کیا RBA کا حالیہ فیصلہ آسٹریلوی ڈالر کے لیے کافی ہے؟
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے توقع کے مطابق شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر مہنگائی (Inflation) کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جب بھی کوئی مرکزی بینک شرح سود بڑھاتا ہے. تو عام طور پر اس کی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن AUDUSD کے معاملے میں، قیمت 0.7035 تک جانے کے بعد تیزی سے نیچے آئی۔
اس کی بڑی وجہ گورنر مشیل بلک کی پریس کانفرنس تھی۔ اگرچہ انہوں نے مزید سختی (Tightening) کا اشارہ دیا. لیکن مارکیٹ نے اسے "ہاکش” (Hawkish – سخت گیر) کے بجائے "بیلنسڈ” (Balanced) انداز میں لیا۔ ٹریڈرز کو خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کی معیشت اب سست روی (Cooling) کا شکار ہو رہی ہے. جس کی وجہ سے مستقبل میں مزید اضافے کی گنجائش کم ہو سکتی ہے۔
آسٹریلوی معیشت: ٹھنڈی لیکن مستحکم
آسٹریلیا کے حالیہ معاشی اعداد و شمار (Economic Data) ایک دلچسپ کہانی سناتے ہیں۔ اگرچہ معیشت سست ہو رہی ہے. لیکن یہ کسی بڑے بحران کا شکار نہیں ہے۔ اسے ہم معاشی زبان میں "سافٹ لینڈنگ” (Soft Landing) کہتے ہیں۔
اہم معاشی اعشاریے (Key Economic Indicators)
| انڈیکیٹر | موجودہ صورتحال | اثر (Impact) |
| PMI ڈیٹا | مینوفیکچرنگ 52.4، سروسز 56.0 | مثبت (Expansion) |
| روزگار (Employment) | 65.2K نئی ملازمتیں | بہت مثبت |
| بے روزگاری کی شرح | 4.1% (توقع سے کم) | مستحکم |
| مہنگائی (CPI) | 3.8% (توقع سے زیادہ) | تشویشناک |
جنوری کے پی ایم آئی (PMI) سروے ظاہر کرتے ہیں. کہ مینوفیکچرنگ اور سروسز دونوں سیکٹرز میں بہتری آئی ہے۔ سب سے حیران کن پہلو لیبر مارکیٹ (Labour Market) ہے، جہاں دسمبر میں 65,200 نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا. جس نے بے روزگاری کی شرح کو 4.3% سے کم کر کے 4.1% کر دیا۔
افراط زر کا چیلنج اور RBA کا سخت موقف
دسمبر کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعداد و شمار نے سب کو حیران کر دیا۔ افراط زر کی شرح 3.4% سے بڑھ کر 3.8% ہو گئی ہے۔ RBA جس "ٹرمڈ مین انفلیشن” (Trimmed Mean Inflation) پر نظر رکھتا ہے. وہ بھی 3.3% تک پہنچ گئی ہے، جو بینک کے اپنے تخمینے سے زیادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ RBA کو فروری کی میٹنگ میں شرح سود بڑھانی پڑی۔ جب تک مہنگائی ان کے ہدف (Target) کے اندر نہیں آتی. شرح سود میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

امریکی ڈالر (USD) کی واپسی اور کیون وارش کا اثر
آسٹریلوی ڈالر کی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ صرف مقامی حالات نہیں. بلکہ امریکی ڈالر کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ بھی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش (Kevin Warsh) کو فیڈرل ریزرو (Fed) کا اگلا چیئرمین نامزد کرنے کی خبروں نے مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی ہے۔
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کیون وارش کے دور میں امریکی فیڈرل ریزرو زیادہ سخت پالیسی اپنا سکتا ہے. جس سے ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس "گرین بیک” (Greenback) کی مضبوطی نے AUDUSD کو 0.7100 کی سطح عبور کرنے سے روک دیا ہے۔
جب بھی امریکہ میں سیاسی تقرریاں یا فیڈ چیئرمین کی تبدیلی کی بات ہوتی ہے. مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں ٹیکنیکل لیولز سے زیادہ جذباتی تجزیہ (Sentiment Analysis) کام آتا ہے۔
اختتامیہ.
آسٹریلوی ڈالر اس وقت دو طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے: ایک طرف RBA کی بڑھتی ہوئی شرح سود ہے. جو اسے سہارا دے رہی ہے. اور دوسری طرف امریکی ڈالر کی عالمی برتری ہے جو اسے نیچے کھینچ رہی ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے (Fundamentals) مضبوط ہیں. لیکن مہنگائی کا جن ابھی تک قابو میں نہیں آیا۔
میرے تجربے کے مطابق، آنے والے چند ہفتے AUDUSD کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر آسٹریلیا کا اگلا سی پی آئی ڈیٹا مہنگائی میں کمی ظاہر کرتا ہے. تو RBA اپنے سخت موقف میں نرمی لا سکتا ہے. جو آسٹریلوی ڈالر کے لیے منفی ثابت ہوگا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آسٹریلوی ڈالر 0.7000 کی سطح بچا پائے گا یا مزید گراوٹ دیکھے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



