Oracle کے شیئرز کی قدر میں کمی، اربوں ڈالر کے AI Funding Plan نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا

Investors Weigh Debt Risks as Oracle Plans Multi-Billion AI Funding Plan

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) کی دوڑ اپنے عروج پر ہے۔ اسی تناظر میں، مشہور سافٹ ویئر کمپنی اوریکل Oracle نے اپنے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے 45 سے 50 ارب ڈالر جمع کرنے کا ایک بڑا منصوبہ پیش کیا ہے۔ تاہم، اس خبر کے سامنے آتے ہی پری مارکیٹ ٹریڈنگ (Premarket Trading) میں کمپنی کے شیئرز میں تقریباً 4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

سرمایہ کار اس بات پر فکر مند ہیں کہ آیا اتنا بڑا قرض (Debt) اور فنڈنگ کمپنی کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے درست ہے یا نہیں۔اس بلاگ پوسٹ میں ہم اوریکل کے اس بڑے فیصلے، اس کے اسٹاک پر اثرات، اور اے آئی (AI) مارکیٹ کے مستقبل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

مختصر خلاصہ.

  • بڑا فنڈنگ پلان: اوریکل 2026 تک اپنے کلاؤڈ نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے 50 ارب ڈالر تک فنڈز جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  • قرض اور ایکویٹی کا امتزاج: یہ رقم قرض (Debt) اور نئے شیئرز (Equity) کے برابر تناسب سے حاصل کی جائے گی۔

  • سرمایہ کاروں کے خدشات: مارکیٹ میں اس بات پر تشویش ہے کہ بڑھتا ہوا قرض کمپنی کے منافع (Margins) اور کریڈٹ ریٹنگ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

  • مستقبل کی حکمت عملی: اوریکل کا ہدف مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا اور OpenAI جیسے بڑے کلائنٹس کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

یہ فنڈنگ ایک مکس ماڈل کے ذریعے حاصل کی جائے گی.

  1. ایکویٹی (Equity): تقریباً 20 ارب ڈالر کے نئے شیئرز جاری کیے جائیں گے۔

  2. قرض (Debt): بقیہ رقم بانڈز (bonds) اور دیگر قرضہ جاتی ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔

سرمایہ کار Oracle کے شیئرز کیوں بیچ رہے ہیں؟

جیسے ہی فنڈنگ کی تفصیلات سامنے آئیں، اوریکل کے اسٹاک میں 4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اتنا بڑا قرض کمپنی کی بیلنس شیٹ (Balance Sheet) پر بوجھ ڈالے گا۔

بڑھتا ہوا قرض اور کریڈٹ ڈیفالٹ سوائپس (Rising Debt & CDS)

گزشتہ سال کے آخر میں اوریکل کے قرض کے خلاف انشورنس کی قیمت، جسے کریڈٹ ڈیفالٹ سوائپس (Credit Default Swaps – CDS) کہا جاتا ہے. پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے. کہ مارکیٹ اوریکل کو ایک "رسکی” یا پرخطر قرض دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

جب کوئی کمپنی اتنا بڑا نیا قرض لیتی ہے. تو اس کی کریڈٹ ریٹنگ (Credit Rating) گرنے کا خطرہ ہوتا ہے. جس سے مستقبل میں قرض لینا مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔

کیا اے آئی (AI) میں یہ سرمایہ کاری فائدہ مند ہوگی؟ 

Oracle کے پاس اس وقت Nvidia، OpenAI، Meta، اور TikTok جیسے بڑے گاہک موجود ہیں۔ ان کمپنیوں کو اپنے اے آئی ماڈلز چلانے کے لیے بہت بڑے کلاؤڈ نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔

برنسٹین (Bernstein) کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ رقم بڑی ہے. لیکن یہ Oracle کو ٹاپ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی فہرست میں برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف، جیفریز (Jefferies) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے. کہ کمپنی کا فری کیش فلو (Free Cash Flow) مالی سال 2029 تک مثبت ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یعنی اگلے چند سال تک کمپنی صرف خرچ کرے گی اور منافع کمانے میں وقت لگے گا۔

Oracle کے مالیاتی ڈھانچے پر اثرات (Impact on Financial Structure)

کمپنی کا منصوبہ ہے کہ وہ "ایٹ دی مارکیٹ” (At-the-market – ATM) پروگرام کے ذریعے 20 ارب ڈالر کے شیئرز بیچے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں نئے شیئرز آنے سے موجودہ شیئرز کی قدر میں معمولی کمی (Dilution) ہو سکتی ہے۔

فنڈنگ کا ذریعہ متوقع رقم اثر (Impact)
ایکویٹی (Common Stock) ~$20 billion شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں کمی
سینئر ان سکیورڈ بانڈز (Bonds) ~$25-30 billion سود کی ادائیگیوں میں اضافہ
اے ٹی ایم پروگرام (ATM Program) جاری ہے مارکیٹ سے بتدریج فنڈنگ

ٹیکنیکل انالیسس اور مارکیٹ کا ردعمل (Technical Analysis & Market Sentiment)

تکنیکی لحاظ سے (Technically)، اوریکل کا اسٹاک اپنی اہم سپورٹ لیول (Support Level) کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ اگر قیمت موجودہ سطح سے مزید گرتی ہے، تو یہ طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے خریداری کا موقع ہو سکتا ہے. لیکن قلیل مدتی ٹریڈرز (Short-Term Traders) کے لیے یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

مارکیٹ میں اس وقت "نروسنس” (Nervousness) اس لیے ہے. کہ Oracle کا مستقبل اب مکمل طور پر اے آئی کی کامیابی سے جڑ گیا ہے۔ اگر اے آئی کی مانگ میں کمی آئی، تو اوریکل کے لیے یہ 50 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا مشکل ہو جائے گا۔

مستقبل کی پیشگوئی: کیا آپ کو اوریکل میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟ 

اگر آپ ایک ایسے سرمایہ کار ہیں جو طویل مدت (Long-Term) کے لیے سوچتے ہیں. تو اوریکل کا اے آئی انفراسٹرکچر میں قدم جمانا ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر آپ فوری منافع چاہتے ہیں. تو اگلے 2-3 سال اوریکل کے لیے مالی طور پر مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ کے لیے اہم نکات:

  1. کمپنی کے مارجنز پر نظر رکھیں: کیا بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود کمپنی اپنا منافع برقرار رکھ پا رہی ہے؟

  2. قرض کی صورتحال: کیا اوریکل اپنی انویسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ (investment-grade rating) برقرار رکھ سکے گا؟

  3. اے آئی ڈیمانڈ: کیا مائیکروسافٹ اور گوگل کے مقابلے میں اوریکل کے گاہک بڑھ رہے ہیں؟

حرف آخر. 

اوریکل کا 50 ارب ڈالر کا منصوبہ ایک "بڑا جوا” (big bet) ہے جو اسے اے آئی کی دنیا کا بادشاہ بنا سکتا ہے یا اسے شدید قرض کے بوجھ تلے دبا سکتا ہے۔ مارکیٹ کا حالیہ منفی ردعمل صرف قلیل مدتی خدشات کا عکاس ہے۔ ایک تجربہ کار سرمایہ کار کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ ابتدائی بے چینی لے کر آتی ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Oracle کا یہ 50 ارب ڈالر کا پلان اسے اے آئی کی دوڑ میں مائیکروسافٹ سے آگے لے جائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button