امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ، WTI Crude Oil کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ.

Geopolitical Risks and Supply Data Push Oil Market Toward Volatility

عالمی مارکیٹس میں خام تیل (Crude Oil) ہمیشہ سے ایک حساس ترین اثاثہ رہا ہے۔ حالیہ بدھ کے روز ایشیائی تجارتی سیشن (Asian session) کے دوران ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ WTI Crude Oil کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی. جہاں یہ $63.75 کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔

اس اضافے کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں. پہلی، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی (Geopolitical tensions) اور دوسری، امریکی خام تیل کے ذخائر (US crude inventories) میں توقع سے کہیں زیادہ بڑی کمی۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ یہ عوامل قلیل مدتی سپلائی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں. جو مارکیٹ میں تیزی (Bullish sentiment) پیدا کر رہے ہیں۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • جیو پولیٹیکل رسک: امریکہ کی جانب سے Iranian Drone گرائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی ہے. جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

  • ذخائر میں ریکارڈ کمی: API رپورٹ کے مطابق امریکی تیل کے ذخائر میں 11.1 ملین بیرل کی کمی ہوئی ہے. جو مارکیٹ کی توقعات سے بہت زیادہ ہے۔

  • ڈالر کی طاقت: فیڈرل ریزرو (Fed) کی نئی قیادت اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

  • سفارتی پیچیدگیاں: ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی معاہدے پر مذاکرات میں دشواریاں سپلائی کی غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھ رہی ہیں۔

WTI Crude Oil کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟ 

WTI Crude Oil کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی فوری وجہ وہ واقعہ ہے. جس میں امریکی فوج نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ڈرون بحیرہ عرب (Arabian Sea) میں امریکی طیارہ بردار جہاز (Aircraft carrier) ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کے قریب جارحانہ انداز میں آ رہا تھا۔

جب بھی مشرق وسطیٰ، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا خطہ ہے. میں فوجی تنازعہ پیدا ہوتا ہے، تو مارکیٹ فوری طور پر "رسک پریمیم” (Risk Premium) شامل کر دیتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہوتا ہے. کہ اگر یہ تنازعہ بڑھا تو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) جیسی اہم تجارتی گزرگاہیں بند ہو سکتی ہیں۔

یہاں مجھے 2019 کے وہ واقعات یاد آتے ہیں جب ٹینکرز پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں چند ہی گھنٹوں میں 4-5 فیصد کا جمپ دیکھا گیا تھا۔ مارکیٹس میں "پہلے خریدیں، بعد میں سوچیں” والا رجحان ایسے وقت میں حاوی ہو جاتا ہے. جب براہ راست فوجی مداخلت کی خبریں آتی ہیں۔

امریکی خام تیل کے ذخائر (API Inventory Data) کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کی ہفتہ وار رپورٹ نے مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 11.1 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

تفصیل (Details) اصل ڈیٹا (Actual) مارکیٹ توقع (Forecast) پچھلا ڈیٹا (Previous)
API خام تیل انوینٹری -11.1M +0.7M -0.25M

یہ کمی اگست 2023 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ جب سپلائی (Supply) کم ہوتی ہے اور طلب (Demand) مستحکم رہتی ہے. تو قیمتوں کا اوپر جانا فطری عمل ہے۔ اب تمام نظریں ای آئی اے (EIA) کے سرکاری اعداد و شمار پر ہیں. جو آج شام جاری ہوں گے۔

کیا امریکی ڈالر کی مضبوطی WTI Crude Oil کی قیمت کو لگام دے گی؟

ایک طرف جیو پولیٹیکل خطرات ہیں، تو دوسری طرف امریکی ڈالر (USD) کی بڑھتی ہوئی طاقت۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش (Kevin Warsh) کو فیڈرل ریزرو کا اگلا چیئرمین نامزد کرنے کی خبروں نے ڈالر کو سہارا دیا ہے۔

چونکہ خام تیل کی عالمی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، اس لیے جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے. تو دوسرے ممالک کے لیے تیل خریدنا مہنگا ہو جاتا ہے. جس سے طلب میں کمی آتی ہے. اور قیمتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ مارکیٹ کو توقع ہے. کہ کیون وارش کے دور میں شرح سود (Interest Rates) میں کمی سست ہوگی. جو ڈالر کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل: ایک پیچیدہ صورتحال

ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ترکی کے بجائے عمان میں ہوں اور بات چیت صرف ایٹمی معاملے تک محدود رہے۔ یہ سفارتی پیچیدگی (Diplomatic deadlock) ظاہر کرتی ہے. کہ ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ میں مکمل واپسی فی الحال مشکل ہے۔ ایران اوپیک (OPEC) کا چوتھا بڑا پیدا کار ملک ہے. اور اس پر پابندیاں یا اس کے ساتھ تنازعہ براہ راست عالمی رسد کو متاثر کرتا ہے۔

ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) اور قیمت کی پیش گوئی

اگر WTI Crude Oil کی قیمت $64.00 کی نفسیاتی سطح (Psychological level) کو عبور کر لیتی ہے. تو اگلا ہدف $65.50 اور پھر $67.00 ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر ای آئی اے (EIA) کا ڈیٹا توقع کے برعکس آیا. تو قیمت دوبارہ $62.00 کی سپورٹ (Support) کی طرف جا سکتی ہے۔

WTI Crude Oil as on 4th Feb. 2026
WTI Crude Oil as on 4th Feb. 2026

مستقبل کی حکمت عملی 

مختصر یہ کہ، خام تیل کی مارکیٹ اس وقت ایک دوہری تلوار پر کھڑی ہے۔ ایک طرف سپلائی کی کمی اور جنگی خطرات ہیں. اور دوسری طرف ایک مضبوط ڈالر اور سخت مانیٹری پالیسی (Monetary Policy)۔ ایک سمجھدار تاجر (Trader) کے طور پر، آپ کو صرف خبروں پر نہیں. بلکہ ڈیٹا پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ کشیدگی تیل کو $70 سے اوپر لے جائے گی. یا ڈالر کی مضبوطی قیمتوں کو نیچے گرائے گی؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button