Pakistan Kazakhstan Trade میں تیزی، نئی Joint Ventures سے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کے امکانات

Joint Ventures in Food, Agriculture and Pharmaceuticals Open Multi-Billion Dollar Trade Potential

پاکستان اور وسطی ایشیا (Central Asia) کے درمیان معاشی تعلقات ایک ایسی نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں محض باتوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات، جس میں قازقستان کے وزیر تجارت ارمان شقالیف اور پاکستانی وزیر تجارت جام کمال خان شریک تھے. نے دونوں ممالک کے درمیان Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation and Trade Investment کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بلاگ پوسٹ اس تزویراتی شراکت داری (Strategic Partnership) کے تمام پہلوؤں، ممکنہ چیلنجز اور سرمایہ کاروں کے لیے موجود مواقع کا تفصیلی احاطہ کرے گی۔

اہم نکات (Key Points)

  • مشترکہ منصوبے (Joint Ventures): قازقستان نے فوڈ پروسیسنگ، زراعت اور فارماسیوٹیکل (Pharmaceuticals) کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

  • تجارتی ہدف: دونوں ممالک کے درمیان ریلوے اور روڈ نیٹ ورک کی بہتری سے 5 ارب ڈالر کی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

  • کنیکٹیویٹی (Connectivity): پاکستان کے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا، چین اور یورپ سے جوڑنے کے لیے ٹرانسپورٹ کوریڈورز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

  • سرمایہ کاری کے شعبے: ٹیکسٹائل، کان کنی (Mining)، لیدر اور توانائی (Energy) کو ترجیحی شعبوں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

پاکستان اور قازقستان کے درمیان حالیہ مذاکرات کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation کے لئے حالیہ مذاکرات کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات کو "صلاحیت” (Potential) سے نکال کر "کارکردگی” (Performance) میں تبدیل کرنا ہے۔ قازقستان اب پاکستان کو محض ایک دوست ملک کے طور پر نہیں. بلکہ جنوبی ایشیا، افریقہ اور آسیان (ASEAN) ممالک تک رسائی کے لیے ایک کلیدی تجارتی گیٹ وے (Trade Gateway) کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

فنانشل مارکیٹس میں 10 سالہ تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ جب دو ممالک کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر پر بات شروع کرتے ہیں. تو یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے لیے ایک مضبوط سگنل ہوتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں. جہاں سپلائی چین مستحکم ہو۔

کیا پاکستان اور قازقستان کی تجارت 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے؟

Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation میں اتنا پوٹینشل ہے کہ اگر ریلوے اور روڈ کوریڈورز جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو مکمل کر لیا جائے. تو یہ خطہ 5 ارب ڈالر مالیت کی تجارتی لہر پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے. بلکہ علاقائی سپلائی چین (Regional Supply Chain) بھی مضبوط ہوگی۔

زراعت اور فوڈ پروسیسنگ: ایک بڑی گیم چینجر

قازقستان زراعت (Agriculture) اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ جوائنٹ وینچرز (Joint Ventures) بنانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی زرعی زمین اور قازقستان کی جدید ٹیکنالوجی مل کر عالمی سطح پر حلال فوڈ اور پراسیسڈ فوڈ کی مارکیٹ پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے فوائد

پاکستان کی زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن (Value Addition) سے Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر فارماسیوٹیکل کے شعبے میں قازقستان کی دلچسپی پاکستانی دواسازی کی صنعت کے لیے وسطی ایشیائی منڈیوں کے دروازے کھول سکتی ہے۔

ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس: چیلنجز اور حل

Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation and Trade Investment کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جغرافیائی دوری اور ٹرانزٹ روٹس (Transit Routes) کی کمی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے.

  • ریلوے اور روڈ نیٹ ورک: افغانستان اور ترکمانستان کے ذریعے براہ راست زمینی رابطہ قائم کرنا۔

  • ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی (Multimodal Connectivity): ریل، سڑک اور سمندری راستوں کا ایک ایسا امتزاج بنانا جو سامان کی نقل و حمل کو تیز اور سستا بنا سکے۔

  • بندرگاہوں کا استعمال: قازقستان کی جانب سے پاکستان کی بندرگاہوں (کراچی اور گوادر) کو عالمی جنوب (Global South) تک رسائی کے لیے استعمال کرنے کی خواہش۔

تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ

دونوں ممالک نے بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف حکومتیں ہی نہیں. بلکہ نجی شعبہ (Private Sector) بھی براہ راست ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کر سکے گا. جس میں ریگولیٹری رکاوٹوں (Regulatory Bottlenecks) کو کم سے کم رکھا جائے گا۔

سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبے (Priority Sectors)

سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے درج ذیل شعبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں.

شعبہ (Sector) نوعیت (Nature)
کان کنی (Mining) پاکستان نے قازقستان کو معدنیات اور کان کنی میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
ٹیکسٹائل (Textiles) پاکستانی کپڑے کی وسطی ایشیا میں بڑی مانگ ہے۔
توانائی (Energy) توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون۔
فارماسیوٹیکل مشترکہ ادویات سازی کے پلانٹس کا قیام۔

معاشی اثرات اور مارکیٹ کا تجزیہ (Market Insights)

ایک تجربہ کار فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں یہ دیکھ رہا ہوں. کہ یہ تعاون پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کی زمینوں سے آنے والی سستی توانائی اور خام مال پاکستان کی مقامی صنعت کے لیے پیداواری لاگت (Cost of Production) کم کر سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

Pakistan Kazakhstan Economic Cooperation محض ایک معاہدہ نہیں. بلکہ خطے کی تقدیر بدلنے کا ایک منصوبہ ہے۔ 5 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنا مشکل ضرور ہے. مگر ناممکن نہیں۔ اگر انفراسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی کے مسائل حل کر لیے جائیں. تو پاکستان وسطی ایشیا کے لیے ایک ناگزیر (Indispensable) تجارتی پارٹنر بن کر ابھرے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک محفوظ رسائی حاصل کر پائے گا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔

Source: Reuters | Breaking International News & Views

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button