چین کی خریداری اور Gold Price کا $5,000 کے قریب استحکام، عالمی مارکیٹس میں ہلچل

Weak US Dollar, China’s Central Bank Demand and Global Risks Strengthen Gold Outlook

عالمی مارکیٹس میں سونا (Gold) ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری (Safe-haven Asset) رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں Gold Price میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ سوموار کے روز ایشیائی تجارتی سیشن (Asian Trading session) کے دوران سونے کی قیمت $5,000 فی اونس کی تاریخی سطح کے قریب مستحکم رہی۔ اس تیزی کے پیچھے محض اتفاق نہیں، بلکہ عالمی اقتصادیات کی بڑی تبدیلیاں اور مرکزی یبینکس کی حکمت عملی چھپی ہوئی ہے۔

موجودہ مالیاتی منظرنامہ یہ واضح کرتا ہے کہ سونا اب صرف ایک روایتی دھات نہیں. بلکہ عالمی مالیاتی استحکام کی علامت بن چکا ہے۔ چین کی حکمت عملی، امریکی معاشی دباؤ اور عالمی کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو مستقبل میں Gold Price کو نئی بلندیاں دے سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کیلئے یہ وقت محتاط مگر اسٹریٹجک فیصلوں کا ہے. کیونکہ سونے کی مارکیٹ عالمی معاشی تبدیلیوں کا سب سے حساس آئینہ بن چکی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ کس طرح چین کی خریداری، امریکی ڈالر کی کمزوری، اور فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی ممکنہ پالیسیاں سونے کے مستقبل کو سمت دے رہی ہیں۔

اہم نکات

  • تاریخی سطح: Gold Price نفسیاتی ہدف $5,000  کے قریب مستحکم ہے۔

  • چین کا کردار: چین کے مرکزی بینک کی جانب سے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔

  • امریکی معیشت: امریکہ میں روزگار کے کمزور اعداد و شمار (Labor market data) فیڈرل ریزرو کو شرح سود کم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

  • جیو پولیٹیکل خطرات: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کیا ہے۔

  • ٹیکنیکل صورتحال: $5,026 ایک اہم مزاحمتی سطح (Resistance level) ہے. جبکہ $4,691 مضبوط سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

Gold Price میں حالیہ اضافے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

Gold Price میں حالیہ تیزی کی تین بنیادی وجوہات ہیں. چین کے مرکزی بینک کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری، امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قدر، اور امریکہ میں شرح سود (Interest rates) میں کمی کی توقعات۔ جب افراط زر (Inflation) کا خطرہ ہو یا جیو پولیٹیکل حالات غیر یقینی ہوں. تو سرمایہ کار ڈالر کے بجائے سونے کو ترجیح دیتے ہیں. جس سے اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

1. چین کی سونے کی خریداری اور عالمی مانگ (China’s Gold Buying)

چین کا مرکزی بینک (People’s Bank of China) گزشتہ کئی ماہ سے اپنے غیر ملکی ذخائر کو متنوع (Diversify) بنانے کے لیے سونے کی خریداری کر رہا ہے۔ یہ اقدام عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی ایک کڑی ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی چین یا روس جیسے بڑے ممالک ڈالر سے ہٹ کر سونے کی طرف مائل ہوتے ہیں. تو یہ مارکیٹ میں ایک "لانگ ٹرم بلش ٹرینڈ” (Long-term bullish trend) کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ محض قلیل مدتی تجارت نہیں. بلکہ ایک تزویراتی تبدیلی ہوتی ہے۔

2. امریکی فیڈرل ریزرو اور شرح سود میں کمی (Fed Rate Cuts 2026)

مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو 2026 میں شرح سود میں کم از کم دو بار کٹوتی کرے گا۔ سونے کی قیمت اور شرح سود کا الٹا تعلق (Inverse relationship) ہوتا ہے۔ چونکہ سونا کوئی سود (Yield) فراہم نہیں کرتا. اس لیے جب بینکوں میں شرح سود کم ہوتی ہے، تو سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے۔

امریکی روزگار کے اعداد و شمار اور Gold Price پر اثرات

امریکی لیبر مارکیٹ کی کمزوری سونے کے لیے فائدہ مند ہے.جب امریکہ میں ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے ہیں. تو یہ معاشی سست روی کی علامت ہے. جس سے ڈالر کمزور ہوتا ہے اور سونا مہنگا ہوتا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق:

  • ADP رپورٹ: نجی شعبے میں صرف 22 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا. جو کہ 48 ہزار کی توقع سے کہیں کم ہے۔

  • JOLTS ڈیٹا: دسمبر کے آخر میں ملازمتوں کی خالی اسامیاں کم ہو کر 6.54 ملین رہ گئیں۔

  • بے روزگاری الاؤنس (Unemployment Claims): نئے کلیمز کی تعداد بڑھ کر 231 ہزار ہو گئی ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں. کہ امریکی معیشت دباؤ کا شکار ہے. جو سونے کے خریداروں (Bulls) کے لیے ایک مثبت خبر ہے۔

جیو پولیٹیکل کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری (Safe-Haven Demand)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے سفارت کاری (Diplomacy) کو پہلی ترجیح قرار دیا ہے. لیکن فوجی آپشنز (Military options) کا ذکر سرمایہ کاروں کو محتاط کر رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہوتے ہیں، سرمایہ کار اپنا پیسہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے میں لگا دیتے ہیں۔

تکنیکی تجزیہ: کیا سونا مزید اوپر جائے گا؟ (Gold Technical Analysis)

ٹیکنیکل بنیادوں پر دیکھا جائے تو سونے کی مارکیٹ اس وقت ایک دلچسپ موڑ پر ہے۔

سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز (Support and Resistance)

Gold Price اس وقت 4 گھنٹے کے چارٹ (4-hour chart) پر 50 پیریڈ کی موونگ ایوریج (50-period SMA) اور 200 پیریڈ کی موونگ ایوریج کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

  • فوری مزاحمت (Immediate Resistance): $5,026.76 – اگر قیمت اس سطح سے اوپر بند ہوتی ہے. تو ہم جلد ہی $5,150 کی سطح دیکھ سکتے ہیں۔

  • مضبوط سپورٹ (Dynamic Support): $4,691.87 – یہ 200 پیریڈ کی موونگ ایوریج ہے. جو Gold Price کو گرنے سے روک رہی ہے۔

انڈیکیٹرز کی صورتحال (Indicators Overview)

  1. RSI (Relative Strength Index): اس وقت 45 پر ہے. جو کہ "نیوٹرل” (Neutral) زون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں نہ تو بہت زیادہ خریداری ہوئی ہے اور نہ ہی فروخت۔

  2. MACD: ہسٹوگرام (Histogram) منفی ہے لیکن سکڑ رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ فروخت کا دباؤ کم ہو رہا ہے۔

ٹریڈنگ کے دوران میں نے سیکھا ہے کہ جب قیمت دو بڑے موونگ ایوریجز کے درمیان ہوتی ہے. تو اسے "کنسولیڈیشن فیز” (Consolidation phase) کہتے ہیں۔ ایسے میں بریک آؤٹ (Breakout) کا انتظار کرنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہوتی ہے۔ جلد بازی میں ٹریڈ لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

Gold Price as on 9th Feb. 2026
Gold Price as on 9th Feb. 2026

سرمایہ کاروں کے لیے اہم مشورے (Practical Wisdom for Traders)

اگر آپ سونے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں. تو درج ذیل پہلوؤں پر نظر رکھیں:

عنصر (Factor) متوقع اثر (Expected Impact)
کمزور ڈالر سونے کی قیمت میں اضافہ
شرح سود میں کمی سونے کی طلب میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں جنگ قیمتوں میں اچانک تیزی
کیون وارش (Fed Chair) اگر وہ سخت پالیسی اپناتے ہیں تو سونا گر سکتا ہے

مستقبل کا منظرنامہ (Future Outlook)

آنے والے دنوں میں مشی گن کنزیومر سینٹیمنٹ (Michigan Consumer Sentiment) اور فیڈرل ریزرو کے ممبران کے بیانات انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر امریکی ڈیٹا مزید کمزور آتا ہے. تو سونا $5,000 کی سطح کو مستقل طور پر عبور کر لے گا۔ لیکن اگر نئے نامزد فیڈ چیئرمین کیون وارش (Kevin Warsh) نے سخت مانیٹری پالیسی کا اشارہ دیا. تو سونے میں عارضی کمی (Correction) آ سکتی ہے۔

حرف آخر

Gold Price اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں ہے. جسے عالمی بینکوں کی خریداری اور امریکی معاشی کمزوری سے تقویت مل رہی ہے۔ تاہم، ایک تجربہ کار ٹریڈر کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ $5,026 کے لیول پر کڑی نظر رکھیں۔ مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہمیشہ اپنے رسک مینجمنٹ (Risk management) کا خیال رکھیں، کیونکہ جیو پولیٹیکل خبریں کسی بھی وقت رخ بدل سکتی ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Gold Price اس سال $6000 تک پہنچ پائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button