ٹوکیو کا تاریخی دن: تاکائیچی کی جیت Nikkei 225 کا تاریخی عروج، Bitcoin اور Gold نئی بلندیوں پر
Political Mandate in Japan Fuels Bitcoin and Gold Rally While Dow Jones Eyes Historic Milestone
جاپان کی سیاست میں ایک نیا باب رقم ہو چکا ہے. جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو مہمیز دی ہے۔ وزیراعظم Sanae Takaichi کی حالیہ الیکشن میں "سپر میجورٹی” (Supermajority) نے نہ صرف جاپانی اسٹاک مارکیٹ بلکہ سونا (Gold) اور Bitcoin جیسی محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ جاپان کا مشہور انڈیکس نکئی 225 (Nikkei225) پہلی بار 57,000 کی سطح کو عبور کر گیا. جو کہ ملکی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔
Sanae Takaichi کی قیادت میں جاپان کا معاشی ماڈل عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ Nikkei 225 کی تاریخی تیزی، Bitcoin اور Gold کی تیزی اور Dow Jones کے بلند اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں. کہ عالمی سرمایہ کاری ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے. جہاں سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کا امتزاج مالیاتی منڈیوں کو نئی سمت دے رہا ہے۔
اس تحریر میں ہم "تاکائیچی ٹریڈ” (Takaichi Trade) کے معنی، اس کے عالمی اثرات اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اس میں چھپے مواقع کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔
اہم نکات (Key Points)
-
تاریخی ریکارڈ: جاپان کا Nikkei225 انڈیکس 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 57,000 کی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔
-
ٹاکائیچی ٹریڈ: وزیراعظم Sanae Takaichi کی بڑی جیت نے $135 بلین کے بڑے مالیاتی پیکج (Stimulus Package) کی راہ ہموار کر دی ہے۔
-
عالمی اثرات: Gold Price پہلی بار $5,000 فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے. جبکہ Bitcoin نے $72,000 کی بلند ترین سطح کو چھوا ہے۔
-
امریکی تعلق: ڈاؤ جونز (Dow Jones) کے 50,000 کی حد عبور کرنے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے جاپانی قیادت کی حمایت نے مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو مزید تقویت دی ہے۔
Takaichi Trade کیا ہے اور اس نے مارکیٹ کو کیوں متاثر کیا؟
ٹاکائیچی ٹریڈ (Takaichi Trade) سے مراد وہ سرمایہ کاری کا رجحان ہے. جو جاپانی وزیراعظم کی جانب سے جارحانہ مالیاتی پالیسیوں (Expansionary Fiscal Policy) کے اعلان کے بعد شروع ہوا۔
Sanae Takaichi کا معاشی نظریہ "آبنومکس” (Abenomics) کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے. جہاں وہ سرکاری اخراجات میں اضافے اور ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے معیشت کو متحرک کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی جیت کا مطلب یہ ہے. کہ اب انہیں پارلیمنٹ میں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا. اور وہ اپنے $135 بلین کے محرک پیکج (Stimulus Package) کو آسانی سے لاگو کر سکیں گی۔
میں نے 2012 میں آبے دور کے آغاز پر بھی ایسا ہی جنون دیکھا تھا۔ جب سیاست اور معیشت ایک پیج پر آ جاتے ہیں، تو مارکیٹ ٹیکنیکل لیولز کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف جذباتی لہر (Sentiment Wave) پر چلتی ہے۔ موجودہ 57,000 کا لیول محض ایک ہندسہ نہیں، بلکہ جاپان اور Nikkei225 کی عالمی معاشی واپسی کا اعلان ہے۔
عالمی سرمایہ کار اب روایتی اسٹاک مارکیٹس کے ساتھ ساتھ محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ Gold اور Bitcoin کی ریکارڈ سطحیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں. کہ سرمایہ کار معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے بھی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔ جاپان کی نئی سیاسی اور معاشی پالیسیوں نے عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سونے اور Bitcoin کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
جاپان میں جب بھی بڑے پیمانے پر پیسہ چھاپنے یا سرکاری خرچ بڑھانے کی بات ہوتی ہے. تو کرنسی کی قدر میں کمی (Currency Devaluation) کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں (Safe Havens) کی طرف دوڑتے ہیں۔
-
سونا (Gold): سونے کی قیمت کا $5,000 فی اونس سے تجاوز کرنا عالمی افراط زر (Global Inflation) کے خدشات اور جاپانی ین (JPY) کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔

-
بٹ کوائن (Bitcoin): ڈیجیٹل گولڈ کے طور پر مشہور Bitcoin نے جاپانی مارکیٹ میں مائع پذیری (Liquidity) بڑھنے کی خبر پر $72,000 کی سطح کو چھو لیا۔

کیا یہ اضافے پائیدار ہیں؟
مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی سطح پر شرح سود (interest rates) اور سیاسی استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال رہے گی، سونا اور کرپٹو کرنسی اپنی برتری برقرار رکھیں گے۔
عالمی مارکیٹس پر اثرات: ڈاؤ جونز 50,000 اور ٹرمپ کا وژن
جاپان کی اس تیزی کا اثر صرف ایشیا اور NIKKEI225 تک محدود نہیں رہا۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے. جہاں ڈاؤ جونز (DJI) نے 50,000 کی نفسیاتی حد عبور کر لی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹریژری سیکرٹری سکاٹ بیسنٹ نے تاکائیچی کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے. کہ وہ اپنی مدت کے خاتمے تک ڈاؤ جونز کو 100,000 تک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بیانیہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد (investor confidence) کو بڑھا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹریژری سیکرٹری سکاٹ بیسنٹ نے Takaichi کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی مدت کے خاتمے تک ڈاؤ جونز کو 100,000 تک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بیانیہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد (Investor Confidence) کو بڑھا رہا ہے۔
| اثاثہ (Asset) | حالیہ سطح (Current Level) | فیصد تبدیلی (Change %) |
| نکئی 225 (Nikkei 225) | 57,000+ | +3.4% |
| سونا (Gold) | $5,000 /oz | +2.1% |
| بٹ کوائن (Bitcoin) | $71,500 | +1.8% |
| ڈاؤ جونز (Dow Jones) | 50,000+ | +1.2% |
پاکستانی ٹریڈرز کے لیے اس صورتحال میں کیا سبق ہے؟
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے جو عالمی مارکیٹس میں تجارت (Trading) کرتے ہیں، یہ وقت انتہائی الرٹ رہنے کا ہے۔
-
کرنسی جوڑوں پر نظر (Focus on JPY pairs): ین (Yen) کی قدر میں اتار چڑھاؤ فاریکس ٹریڈرز کے لیے بڑے منافع کا موقع پیدا کر رہا ہے۔
-
کموڈٹی ٹریڈنگ (Commodity Trading): سونے کی $5,000 کی سطح ایک بڑی نفسیاتی مزاحمت (Resistance) تھی. جس کا ٹوٹنا مزید تیزی کی علامت ہو سکتا ہے۔
-
رسک مینجمنٹ (Risk Management): ایسی غیر معمولی تیزی کے دوران مارکیٹ میں اچانک واپسی (Correction) کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے. لہذا اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔
اکثر ریٹیل ٹریڈرز ‘فومو’ (FOMO) کا شکار ہو کر ٹاپ پر خریداری کر لیتے ہیں۔ یاد رکھیں، جب خبر عام ہو جائے تو بڑے ادارے منافع کی وصولی (Profit Taking) شروع کر دیتے ہیں۔ تاکائیچی ٹریڈ میں انٹری لینے سے پہلے پل بیک (Pullback) کا انتظار کرنا دانشمندی ہو گی۔
مستقبل کا منظرنامہ: کیا Nikkei225 مزید اوپر جائے گا؟
جاپان کی معیشت طویل عرصے تک جمود کا شکار رہی ہے. لیکن اب انفراسٹرکچر پر خرچ اور ٹیکس چھوٹ کے وعدوں نے کارپوریٹ سیکٹر میں نئی جان ڈال دی ہے۔ اگر تاکائیچی حکومت اپنے $135 بلین کے وعدے پر تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے، تو ہم Nikkei225 کو 60,000 کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
تاہم، بڑھتا ہوا قرضہ (National Debt) اور افراط زر (Inflation) وہ چیلنجز ہیں. جو کسی بھی وقت مارکیٹ کے رخ کو موڑ سکتے ہیں۔

اختتامیہ.
جاپان میں ثنائے تاکائیچی کی جیت نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ 57,000 کا نکئی، $5,000 کا سونا اور $72,000 کا بٹ کوائن اس بات کی گواہی دے رہے ہیں. کہ دنیا ایک بار پھر جارحانہ مالیاتی پالیسیوں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ "مواقع کی زمین” ہے. لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin کی قیمت میں یہ اضافہ برقرار رہے گا. یا یہ صرف ایک عارضی تیزی ہے؟ ہمیں کمنٹس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



