AUDUSD کی مضبوط پیش قدمی، US Dollar کی کمزوری اور RBA Policy نے فاریکس مارکیٹ میں ہلچل مچا دی
Aussie Currency Strengthens Amid Interest Rate Outlook and Global Risk Sentiment
آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت عالمی فاریکس مارکیٹ میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں AUDUSD کی جوڑی نے نہ صرف 0.7000 کی اہم نفسیاتی سطح (Psychological Level) کو عبور کیا ہے. بلکہ اب یہ 0.7100 کے قریب تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس تیزی کے پیچھے ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی سخت مانیٹری پالیسی اور امریکی ڈالر کی عالمی سطح پر کمزوری جیسے بڑے عوامل کارفرما ہیں۔
فروری 2026 کے آغاز میں جاپان کے انتخابات اور چین سے آنے والے ملے جلے معاشی اعداد و شمار نے مارکیٹ میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ آسٹریلوی معیشت سست روی کے باوجود "ٹوٹ” نہیں رہی. جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے کافی ہے۔
موجودہ مالیاتی منظرنامے میں AUDUSD کی کارکردگی عالمی اقتصادی حالات، US Dollar کی سمت اور RBA Policy کے فیصلوں سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر عالمی سرمایہ کاری کا رجحان مثبت رہا. اور آسٹریلیا کی معیشت نے اپنی متوازن رفتار برقرار رکھی. تو یہ کرنسی جوڑی مستقبل میں مزید مضبوطی دکھا سکتی ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
RBA کا سخت موقف: ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے سود کی شرح (OCR) کو بڑھا کر 3.85% کر دیا ہے، جو Aussie Dollar کو سہارا دے رہا ہے۔
-
امریکی ڈالر کی تنزلی: جاپانی انتخابات اور امریکی معیشت میں سست روی کے خدشات نے گرین بیک (USD) پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
-
چین کا کردار: چین کی معیشت میں بہتری کے آثار ہیں. لیکن مکمل رفتار ابھی باقی ہے. جو کہ AUD کے لیے ایک مستحکم پس منظر فراہم کر رہی ہے۔
-
تکنیکی صورتحال: 0.7100 ایک بڑی مزاحمت (Resistance) ہے. اگر یہ ٹوٹتی ہے تو اگلا ہدف 0.7157 ہو سکتا ہے۔
AUDUSD کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
فروری 2026 میں AUDUSD بلند ترین سطح 0.7100 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. جس کی بنیادی وجہ آسٹریلیا میں Inflation کا دباؤ اور امریکہ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ نرمی کی توقعات ہیں۔
آسٹریلوی ڈالر نے پیر کے روز اپنی تیزی کا سفر دوبارہ شروع کیا ہے، جسے رسک سینٹیمنٹ (Risk Sentiment) میں بہتری اور امریکی ڈالر میں مسلسل فروخت کے دباؤ سے تقویت ملی ہے۔ فروری 2023 کے بعد پہلی بار 0.7000 سے اوپر قدم جمانے کے بعد، اب بیل (Bulls) 0.7100 کی سطح پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
RBA کی ہاکش (Hawkish) پالیسی اور اس کا اثر
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے حال ہی میں اپنی آفیشل کیش ریٹ (OCR) میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 3.85% کر دیا ہے۔ گورنر مشیل بلک کا پیغام واضح تھا: Inflation ابھی قابو میں نہیں آئی۔
میں نے اپنے 10 سالہ کیریئر میں دیکھا ہے کہ جب دنیا بھر کے بڑے سینٹرل بینک ریٹ کٹ (Rate Cut) کی طرف مائل ہوں. اور RBA ریٹ ہائیک کر دے، تو AUDUSD میں ‘کیری ٹریڈ’ کی وجہ سے غیر معمولی تیزی آتی ہے۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ہم 2026 کے اس آغاز میں دیکھ رہے ہیں۔
آسٹریلوی معیشت: ٹھنڈی مگر مضبوط
آسٹریلیا کے حالیہ معاشی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروتھ سست ضرور ہوئی ہے. لیکن یہ کسی بڑے بحران کا اشارہ نہیں دے رہی۔ اسے ماہرین "سافٹ لینڈنگ” (Soft Landing) کا نام دے رہے ہیں۔
کلیدی اعداد و شمار (Key Statistics)
| انڈیکیٹر | موجودہ ریڈنگ | تفصیل |
| مینوفیکچرنگ PMI | 52.3 | توسیع (Expansion) ظاہر کرتا ہے |
| بیروزگاری کی شرح | 4.1% | توقع سے کم اور بہتر |
| انفلیشن (CPI) | 3.8% | RBA کے ہدف سے اوپر |
| تجارتی سرپلس | A$3.373 Billion | برآمدات میں استحکام |
لیبر مارکیٹ کے مضبوط نتائج اور انفلیشن کی بلند شرح (3.8%) نے RBA کو مجبور کیا ہے. کہ وہ ریٹ کو طویل عرصے تک بلند رکھے۔ جب لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں کے 65,200 نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں. تو یہ براہ راست صارفین کی قوت خرید اور ڈیمانڈ میں اضافے کا باعث بنتا ہے. جو افراط زر کو کم نہیں ہونے دیتا۔
چین کا عنصر: کیا یہ آسٹریلوی ڈالر کو مزید اوپر لے جائے گا؟
چین جو آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے. اس کی اقتصادی صورتحال بھی AUDUSD کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ چین کی اقتصادی ترقی برقرار ہے. مگر صنعتی شعبے میں سست روی اور افراط زر کے مسائل عالمی سرمایہ کاروں کیلئے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ چین کی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری نے آسٹریلوی برآمدات کو سہارا دیا. لیکن مجموعی طور پر سرمایہ کار ابھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا کی معیشت کا چین کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ چین کی جی ڈی پی گروتھ 4.5% (سالانہ) رہی ہے. جو کہ معاون تو ہے لیکن بہت زیادہ جوش و خروش پیدا کرنے والی نہیں۔
چین نے حال ہی میں اپنی پالیسیوں کو "پرو گروتھ” (Pro-Growth) کی طرف موڑنا شروع کیا ہے۔ جنوری کے PMI ڈیٹا میں مینوفیکچرنگ (49.3) اور سروسز (49.4) میں کچھ سستی دیکھی گئی. لیکن برآمدات میں 7% اضافے نے تجارتی توازن کو بہتر رکھا ہے۔ چین سے آنے والی کسی بھی بڑی محرک (Stimulus) کی خبر AUDUSD کو 0.7200 کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis): اہم لیولز
اگر ہم چارٹ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک مضبوط اپ ٹرینڈ (Uptrend) نظر آتا ہے. لیکن کچھ اشارے "اوور بوٹ” (Overbought) ہونے کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں۔
مزاحمتی لیولز (Resistance Levels)
-
0.7093: جنوری 2026 کی بلند ترین سطح۔
-
0.7100: نفسیاتی رکاوٹ۔
-
0.7157: فروری 2023 کی بلند ترین سطح، جو کہ ایک بڑا ہدف ہے۔
سپورٹ لیولز (Support Levels)
-
0.6896: فروری کا نچلا لیول (Floor)۔
-
0.6721: 55-دن کی موونگ ایوریج (SMA)۔
-
0.6572: 200-دن کی اہم موونگ ایوریج۔
ٹریڈنگ کے دوران، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ 200-day SMA سے اوپر ٹریڈ کرنا ایک طویل مدتی تیزی کی علامت ہوتا ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر ہے. ہر بڑی گراوٹ خریداری کا موقع (Buy the Dip) ثابت ہو سکتی ہے۔

پوزیشننگ ڈیٹا: کیا بڑے مارکیٹ پلیئرز (Bulls) واپس آ گئے ہیں؟
CFTC کے ڈیٹا کے مطابق، نان کمرشل ٹریڈرز (بڑے سرمایہ کار) نے اپنی نیٹ لانگ پوزیشنز میں اضافہ کیا ہے، جو اب 26.1K کنٹریکٹس تک پہنچ گئی ہیں۔ اوپن انٹرسٹ (open interest) میں مسلسل تیسرے ہفتے اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں نیا پیسہ آ رہا ہے. جو کہ ٹرینڈ کی مضبوطی کی دلیل ہے۔
آنے والے بڑے خطرات (Risks)
اگرچہ منظر نامہ مثبت ہے، لیکن ٹریڈرز کو درج ذیل عوامل سے ہوشیار رہنا چاہیے.
-
امریکی ڈیٹا: اگر امریکہ میں افراط زر یا روزگار کے اعداد و شمار توقع سے بہتر آئے. تو امریکی ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
-
جغرافیائی سیاسی تناؤ: مشرق وسطیٰ یا دیگر خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی "سیف ہیون” (Safe Haven) ڈیمانڈ بڑھا سکتی ہے. جس سے AUD جیسے رسک کرنسیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
-
چین میں ڈیفلیشن: اگر چین میں قیمتوں کے گرنے کا عمل (Deflation) جاری رہا. تو وہاں سے ڈیمانڈ کم ہو سکتی ہے جو آسٹریلوی برآمدات کے لیے برا ہو گا۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
AUDUSD Analysis and Forecast 2026 کا خلاصہ یہ ہے کہ آسٹریلوی ڈالر اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔ RBA کی سختی اور امریکی ڈالر کی کمزوری کا "کاک ٹیل” اس جوڑی کو مزید اوپر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، 0.7100 کی سطح ایک کڑا امتحان ثابت ہوگی۔ اگر یہ رکاوٹ عبور ہو جاتی ہے، تو ہم آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک سنہرا دور دیکھ سکتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ ٹریڈرز چھوٹے ٹائم فریم پر ریٹریسمنٹ (retracement) کا انتظار کریں اور جذباتی فیصلوں کے بجائے ڈیٹا پر مبنی ٹریڈنگ کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آسٹریلوی ڈالر 0.7500 تک جا سکتا ہے یا یہاں سے واپسی ہوگی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



