پاکستانی معیشت کی بقا: Agricultural Raw Material کی برآمدات سے ویلیو ایڈیشن تک کا سفر کتنا ضروری؟

How Strategic Agro-Industrial Transformation Can Strengthen Export Earnings and Economic Stability

پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آج بھی اپنی زراعت سے وہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہا جو اسے عالمی مارکیٹ میں ایک مضبوط معیشت بنا سکے۔ ہم اپنی فصلیں خام مال (Raw Material) کے طور پر سستے داموں بیچ دیتے ہیں. اور پھر وہی چیزیں مہنگی قیمت پر تیار شدہ مصنوعات کی شکل میں درآمد کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم Pakistan Agri Value-Addition Strategy کو اپنائیں. تاکہ کسان خوشحال ہو اور ملک کا زرمبادلہ بڑھے۔

مختصر خلاصہ.

  • پاکستان کو خام مال (Raw Exports) کے بجائے تیار شدہ مصنوعات Agri Value-Addition برآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

  • آلو (Potato) کی مثال سے واضح ہے کہ ہم ویلیو ایڈیشن نہ کر کے اربوں ڈالر کا نقصان کر رہے ہیں۔

  • تین نکاتی حکمت عملی: نئی فصلیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے والے بیج، اور پروسیسنگ انڈسٹری کا قیام۔

  • اس تبدیلی سے کسانوں کو بہتر قیمت اور ملک کو پائیدار معاشی استحکام ملے گا۔

Pakistan Agri Value-Addition کیا ہے اور یہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ہے؟

Pakistan Agri Value-Addition Strategy سے مراد وہ عمل ہے جس میں کسی خام زرعی فصل (مثلاً کپاس، آلو یا آم) کو صنعتی عمل سے گزار کر اسے اعلیٰ معیار کی مہنگی مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ:

  1. برآمدی آمدنی میں اضافہ: خام آلو بیچنے کے بجائے اگر ہم فرینچ فرائز (French Fries) یا پاؤڈر برآمد کریں تو قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

  2. روزگار کے مواقع: جب ملک میں کارخانے لگیں گے تو مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا۔

  3. زرمبادلہ کی بچت: ہم اپنی ضرورت کی اشیاء خود تیار کریں گے تو درآمدات (Imports) پر انحصار کم ہوگا۔

آلو کی مثال: ایک ضائع شدہ موقع یا مستقبل کی امید؟

پاکستان میں آلو کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب پیداوار بڑھتی ہے تو ہمارے پاس اسے سنبھالنے کا انفراسٹرکچر (Infrastructure) نہیں ہوتا۔

ہم ٹرکوں کے ٹرک کچے آلو پڑوسی ممالک کو سستے داموں بھیج دیتے ہیں۔ جبکہ چین، ویتنام اور امریکہ جیسے ممالک آلو کو خام حالت میں سرحد پار نہیں بھیجتے۔ وہ اسے چپس، اسٹارچ (Starch)، اور منجمد مصنوعات میں تبدیل کر کے پوری دنیا میں مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ وہ سبزی نہیں بیچتے، وہ اپنی انڈسٹری (Industry) بیچتے ہیں۔

فنانشل مارکیٹس میں ٹریڈنگ کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ کموڈٹی مارکیٹ (Commodity Market) میں خام مال کی قیمتیں ہمیشہ غیر مستحکم رہتی ہیں۔ جبکہ برانڈڈ اور پروسیس شدہ اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔ پاکستان کی آلو کی ایکسپورٹ میں بھی یہی مسئلہ ہے. جب سپلائی زیادہ ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ  میں قیمت گر جاتی ہے. کیونکہ ہمارے پاس ‘سٹوریج’ یا Agri Value-Addition کی طاقت نہیں ہوتی۔

پاکستان کے زرعی شعبے کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

عالمی خبر رساں ادارے Reuters کے  مطابق پاکستان کو اپنی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع تین نکاتی حکمت عملی (Three-Pronged Strategy) کی ضرورت ہے۔

ویلیو ایڈڈ فصلوں کا تعارف (Introduction of Value-Added Crops)

ہمیں صرف روایتی فصلوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی فصلیں اگانی چاہئیں. جن کی عالمی مارکیٹ میں طلب زیادہ ہو۔ مثلاً زیتون، ایوکاڈو یا خاص قسم کی دالیں جنہیں براہ راست انڈسٹری میں استعمال کیا جا سکے۔

2. کلائمیٹ ریزیلیئنٹ بیج (Climate-Resilient Seeds)

موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change) پاکستان کی زراعت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ ہمیں ایسے بیج تیار کرنے ہوں گے. جو کم پانی میں اور شدید گرمی میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں۔ جب تک بیج کی کوالٹی بہتر نہیں ہوگی، ہماری پراڈکٹ عالمی معیار (International Standards) پر پوری نہیں اترے گی۔

3. ایگرو بیسڈ انڈسٹری کا قیام (Promotion of Agri-based Industries)

حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں اور سرمایہ کاروں کو ایسے کارخانے لگانے کے لیے مراعات (Incentives) دے جو کھیت کے قریب ہوں۔ اس سے فصل کی بربادی کم ہوگی اور قیمت میں اضافہ ہوگا۔

خام مال کی برآمدات کے نقصانات کیا ہیں؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب پیداوار ضرورت سے زیادہ ہو تو کسان پریشان کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسے محفوظ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

جب پیداوار کم ہوتی ہے تو ہم باہر سے منگواتے ہیں. اور جب زیادہ ہوتی ہے تو ہم اسے کوڑیوں کے دام بیچ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس "ویلیو ایکسٹرکشن” (value extraction) یا Agri Value-Addition کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

ایک مالیاتی حکمت عملی ساز (financial strategist) کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ پاکستان کا مستقبل زراعت سے جڑی ٹیکنالوجی (Agri-Tech) میں ہے۔ جو سرمایہ کار آج فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ چین (Cold Chain) انفراسٹرکچر میں پیسہ لگائیں گے. وہ آنے والے 10 سالوں میں مارکیٹ لیڈر ہوں گے۔ عالمی مارکیٹ اب صرف "کموڈٹی” نہیں. بلکہ "کوالٹی” اور "ریڈی ٹو ایٹ” اشیاء مانگتی ہے۔

اختتامیہ

پاکستان کو اپنی زرعی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں "سبزی بیچنے والے ملک” کے بجائے "زرعی مصنوعات بنانے والے ملک” کے طور پر ابھرنا ہوگا۔ Pakistan Agri Value-Addition Strategy صرف ایک انتخاب نہیں. بلکہ ہماری معاشی بقا کا راستہ ہے۔ اگر ہم آج اپنی فصلوں کو صنعت سے نہیں جوڑیں گے تو ہم ہمیشہ عالمی قرضوں اور تجارتی خسارے (Trade Deficit) کے جال میں پھنسے رہیں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان کے نجی شعبے کو حکومت کے انتظار کے بغیر خود پروسیسنگ پلانٹس لگانے میں پہل کرنی چاہیے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔ ایسے مزید تحقیقاتی مضامین پڑھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ Forex News in Urdu, Crypto, Stocks, Commodity Market Analysis وزٹ کریں. 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button