US Retail Sales Report کے بعد Gold اور Silver کی قیمتوں میں زبردست اُچھال جبکہ Bonds Yields میں کمی

Weak Retail Sales and Rate Cut Expectations Push Precious Metals Higher

عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک اہم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے. جہاں Gold and Silver Price Forecast 2026 کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی عروج پر ہے۔ حالیہ ڈیٹا کے مطابق، امریکہ میں ریٹیل سیلز US Retail Sales کے اعداد و شمار توقع سے کم رہنے کی وجہ سے امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز (Bond Yields) میں کمی واقع ہوئی ہے. جس نے براہ راست سونے اور چاندی کی قیمتوں کو مہمیز دی ہے۔

اس وقت اسپاٹ گولڈ (Spot Gold) 0.3% اضافے کے ساتھ $5,038.73 فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا ہے. جبکہ Silver کی قیمتوں میں بھی 1% کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں صرف Gold اور Silver ہی نہیں بلکہ Platinum اور Palladium نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی۔ Platinum کی قیمت میں 0.6 فیصد جبکہ Palladium میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار پورے قیمتی دھاتوں کے شعبے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • US Retail Sales میں جمود نے معیشت کی سست روی کے اشارے دیے ہیں. جس سے Gold Demand میں اضافہ ہوا ہے۔

  • امریکی ٹریژری بانڈ ییلڈز میں کمی کی وجہ سے غیر منافع بخش اثاثوں (Non-yielding assets) جیسے Gold کو رکھنے کی لاگت کم ہو گئی ہے۔

  • سرمایہ کاروں کی نظریں اب نان فارم پے رولز (NFP) اور افراط زر (Inflation) کے ڈیٹا پر ہیں تاکہ فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

  • بھارتی اور پاکستانی سرمایہ کاروں میں جیو پولیٹیکل خطرات (Geopolitical Risks) کی وجہ سے گولڈ ETFs کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

US Retail Sales میں کمی Gold Price پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

جب ہم معاشی ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں. تو ریٹیل سیلز (Retail Sales) صارفین کے خرچ کرنے کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ دسمبر کے مہینے میں US Retail Sales میں کوئی اضافہ نہ ہونا اس بات کی علامت ہے. کہ امریکی گھرانے اب بڑی خریداریوں، جیسے گاڑیوں اور الیکٹرانکس، سے گریز کر رہے ہیں۔

جب ریٹیل سیلز کم ہوتی ہے، تو یہ معاشی سست روی کا اشارہ ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کار ڈالر سے نکل کر محفوظ اثاثوں (Safe-haven assets) یعنی سونے کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Gold and Silver Price Forecast 2026 میں اب مزید تیزی کے امکانات واضح ہو رہے ہیں۔

Gold Price as on 11th Feb. 2026 after US Retail Sales Report released
Gold Price as on 11th Feb. 2026 after US Retail Sales Report released

ٹریژری بانڈ ییلڈز (Bond Yields) کا گرنا کیوں اہم ہے؟

US Bonds Yields اور Gold Price کے درمیان ایک معکوس تعلق (Inverse Correlation) پایا جاتا ہے۔ جب بانڈز پر ملنے والا منافع کم ہوتا ہے. تو سرمایہ کاروں کے لیے Gold زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے کیونکہ سونے پر کوئی مقررہ منافع یا سود نہیں ملتا۔ منگل کے روز بانڈ ییلڈز میں کمی نے سونے کو وہ سپورٹ فراہم کی جس کی اسے $5,000 کی نفسیاتی سطح کو عبور کرنے کے لیے ضرورت تھی۔

میں نے اپنے دس سالہ کیریئر میں بارہا دیکھا ہے. کہ جب مارکیٹ $5,000 جیسی بڑی نفسیاتی سطحوں (Psychological Levels) کے قریب ہوتی ہے. تو محض ایک کمزور معاشی رپورٹ بھی شارٹ سیلرز (Short Sellers) کو مارکیٹ سے باہر نکالنے اور ایک بڑی ریلی شروع کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں ریٹیل ٹریڈرز کو جذباتی ہونے کے بجائے ڈیٹا کے استحکام کا انتظار کرنا چاہیے۔

فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور سود کی شرح (Interest Rates) کا مستقبل

مارکیٹ کے ماہرین اور سرمایہ کار اب اس انتظار میں ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کب سود کی شرح میں کمی کا آغاز کرے گا۔ فی الحال، مارکیٹ جون 2026 میں پہلی بار 25 بنیادی پوائنٹس (Basis Points) کی کٹوتی کی توقع کر رہی ہے۔

کیا فیڈرل ریزرو شرح سود میں جلد کمی کرے گا؟

اگرچہ معاشی ڈیٹا سست روی دکھا رہا ہے، لیکن کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک (Beth Hammack) کا کہنا ہے. کہ شرح سود میں تبدیلی کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے۔ وہ معاشی سرگرمیوں کے بارے میں "احتیاط کے ساتھ پرامید” ہیں۔

مارکیٹ کا ردعمل: فیڈ کے حکام کے بیانات اور اصل معاشی ڈیٹا کے درمیان یہ کشمکش مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) پیدا کرتی ہے۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شرح سود میں کمی کا دور شروع ہوتا ہے. Gold اپنی بلند ترین سطح (All-time high) کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔

Non-Farm Payrolls اور Inflation Data کی اہمیت

عالمی سرمایہ کار اب آنے والی Non-Farm Payrolls رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا Federal Reserve کی آئندہ مالیاتی پالیسی کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگر روزگار کے اعداد و شمار کمزور رہے تو شرح سود میں کمی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، جو Gold اور Silver کی قیمتوں میں مزید تیزی لا سکتا ہے۔

Silver Price میں ریکوری: کیا یہ خریداری کا بہترین وقت ہے؟

چاندی (Silver) نے گزشتہ سیشن میں 3% کی گراوٹ کے بعد بدھ کو 1% کی واپسی کی ہے. اور اس وقت $81.49 فی اونس پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ چاندی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک قیمتی دھات ہے. بلکہ صنعتی استعمال (Industrial Use) میں بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

Gold and Silver Price Forecast 2026 کے مطابق، چاندی میں سونے کے مقابلے میں زیادہ فیصد منافع دینے کی صلاحیت موجود ہے. بشرطیکہ عالمی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بہتری آئے۔

Silver Price as on 11th Feb. 2026 after US Retail Sales report
Silver Price as on 11th Feb. 2026 after US Retail Sales report

انڈین اور پاکستانی مارکیٹ میں Gold کا بڑھتا ہوا رحجان

ایشیا میں، خاص طور پر بھارت میں، جنوری کے دوران گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (Gold ETFs) میں سرمایہ کاری ایکویٹی فنڈز سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل (Geopolitical) خطرات اور کرنسی کی قدر میں کمی ہے۔

دھات (Metal) موجودہ قیمت (Spot Price) روزانہ کی تبدیلی (Daily Change)
سونا (Gold) $5,038.73 +0.3%
چاندی (Silver) $81.49 +1.0%
پلاٹینم (Platinum) $2,098.78 +0.6%
پیلیڈیم (Palladium) $1,712.25 +0.2%

ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis): اگلے اہداف کیا ہیں؟

اگر ہم چارٹس کا جائزہ لیں، تو سونے کے لیے $5,060 ایک اہم مزاحمتی سطح (Resistance level) ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے اوپر برقرار رہتی ہے. تو اگلا ہدف $5,150 ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، چاندی کے لیے $80.00 کی سطح ایک مضبوط سپورٹ (Support) کے طور پر کام کر رہی ہے۔

نان فارم پے رولز (NFP) کا انتظار کیوں؟

آج جاری ہونے والی نان فارم پے رولز رپورٹ مارکیٹ کے لیے "میک یا بریک” (Make or break) ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر روزگار کے اعداد و شمار کمزور آتے ہیں. تو Gold Price میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر رپورٹ مضبوط آئی. تو ڈالر دوبارہ مستحکم ہو سکتا ہے اور سونے میں عارضی گراوٹ (Correction) آ سکتی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

خلاصہ یہ ہے کہ Gold and Silver Price Forecast 2026 فی الحال تیزی (Bullish) کے حق میں ہے۔ کمزور امریکی معاشی ڈیٹا اور بانڈ ییلڈز میں کمی نے قیمتی دھاتوں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف خبروں پر انحصار نہ کریں. بلکہ اپنے پورٹ فولیو میں تنوع (Diversification) لائیں اور اسٹاپ لاس (Stop-loss) کا لازمی استعمال کریں۔

ایک طویل تجربے کی بنیاد پر، میرا مشورہ ہے کہ ایسی مارکیٹ میں جہاں قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر ہوں. وہاں ‘بریک آؤٹ’ (Breakout) پر خریداری کرنے کے بجائے ‘ڈپ’ (Dip) یعنی قیمت گرنے کا انتظار کرنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اکثر بڑے ادارے (Institutional Investors) ریٹیل ٹریڈرز کو ٹریپ کرنے کے لیے جعلی تیزی دکھاتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سونا اس سال $6000 کی سطح کو چھو پائے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button