Citadel Securities کی LayerZero اور ZRO میں سرمایہ کاری، نیا Zero Blockchain عالمی مارکیٹس کا رخ بدلنے کو تیار

Strategic ZRO Investment Signals Institutional Shift Toward Scalable Blockchain Financial Markets

آج کی معاشی دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ روایتی وال اسٹریٹ (Wall Street) کے بڑے کھلاڑی اب صرف کرپٹو کرنسی کو دور سے نہیں دیکھ رہے. بلکہ اس کی بنیادیں رکھنے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ Citadel Securities، جو کہ دنیا کے سب سے بڑے مارکیٹ میکر (Market Maker) اداروں میں سے ایک ہے، نے حال ہی میں LayerZero کے نئے "Zero” بلاک چین میں تزویراتی سرمایہ کاری (Strategic Investment) کا اعلان کیا ہے۔

یہ محض ایک عام سرمایہ کاری نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے. کہ Institutional Crypto Adoption and LayerZero Zero Blockchain اب عالمی مالیاتی ڈھانچے کا لازمی حصہ بننے جا رہے ہیں۔

اہم نکات (Key Points)

  • Citadel Securities نے LayerZero کے ‘ZRO’ ٹوکن میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے. تاکہ ٹریڈنگ اور پوسٹ ٹریڈ (post-trade) نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • Zero Blockchain ایک ایسا طاقتور نیٹ ورک ہے جو 20 لاکھ ٹرانزکشنز فی سیکنڈ (2 Million TPS) اور تقریباً صفر فیس کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

  • بڑے ادارے جیسے DTCC، ICE، اور Google Cloud اس ٹیکنالوجی کو ٹوکنزیشن (Tokenization) اور ریئل ٹائم سیٹلمنٹ کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

  • یہ پیش رفت روایتی فنانس (TradFi) اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

زیرو (Zero) بلاک چین کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

زیرو (Zero) ایک "Heterogeneous” بلاک چین ہے جسے خاص طور پر ادارہ جاتی درجے (Institutional-grade) کی مالیاتی مارکیٹوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ ایک ایسا ڈیجیٹل لیجر ہے. جو دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں، بانڈز اور دیگر اثاثوں کو بلاک چین پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اب تک بلاک چین ٹیکنالوجی کو رفتار (Scalability) اور رازداری (Privacy) کے مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن زیرو بلاک چین Zero-knowledge Proofs (ZKPs) کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کو ظاہر کیے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہے. جو کہ بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی اولین ضرورت ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جب ہم 2010 یا 2015 کی دہائی میں ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ (HFT) کی بات کرتے تھے. تو سیکنڈ کے ہزارویں حصے (Milliseconds) کی تاخیر بھی کروڑوں کا نقصان کر سکتی تھی۔ آج، جب Citadel جیسے ادارے زیرو بلاک چین میں دلچسپی لے رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے. کہ ہم ایک ایسی مارکیٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں. جہاں سیٹلمنٹ کے لیے "T+2” (دو دن کا انتظار) قصہ پارینہ بن جائے گا. اور سب کچھ فوری (Instant) ہوگا۔

Institutional Adoption مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

جب Citadel Securities اور ARK Invest جیسی کمپنیاں Institutional Crypto Adoption and LayerZero Zero Blockchain کے حق میں کھڑی ہوتی ہیں. تو اس سے مارکیٹ میں اعتماد (Trust) پیدا ہوتا ہے۔

بڑے اداروں کی شرکت کے فوائد:

  1. لیکویڈیٹی (Liquidity) میں اضافہ: جب بڑے مارکیٹ میکرز نیٹ ورک میں شامل ہوتے ہیں. تو خرید و فروخت میں آسانی پیدا ہوتی ہے. اور قیمتوں میں استحکام آتا ہے۔

  2. ریگولیٹری وضاحت (Regulatory Clarity): بڑے اداروں کی شمولیت سے حکومتوں پر واضح قوانین بنانے کا دباؤ بڑھتا ہے. جو کہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے بھی محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔

  3. انفراسٹرکچر کی بہتری: روایتی نظام (Legacy Systems) کو بلاک چین سے بدلنے سے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔

زیرو بلاک چین کی ٹیکنالوجی: یہ دوسرے نیٹ ورکس سے مختلف کیوں ہے؟

آپ کے ذہن میں سوال آ سکتا ہے کہ "ایساکیا خاص ہے جو ایتھریم (Ethereum) یا سولانہ (Solana) میں نہیں ہے؟” اس کا جواب زیرو کی منفرد آرکیٹیکچر میں چھپا ہے۔

زیرو بلاک چین کی خصوصیات:

خصوصیت (Feature) تفصیل (Description)
رفتار (Throughput) 20 لاکھ ٹرانزکشنز فی سیکنڈ (2M TPS) تک پہنچنے کی صلاحیت۔
فیس (Cost) ایک ڈالر کے دس لاکھویں حصے کے برابر، جو مائیکرو پیمنٹس (Micropayments) کو ممکن بناتی ہے۔
انٹرآپریبلٹی (Interoperability) 165 سے زائد بلاک چینز کے ساتھ براہ راست رابطہ۔
رازداری (Privacy) ZK-proofs کے ذریعے حساس مالیاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھنا۔

Bryan Pellegrino (CEO, LayerZero Labs) کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے روڈ میپ کو 10 سال آگے لے گئی ہے۔ یہ صرف ایک دعویٰ نہیں ہے. بلکہ جب Google Cloud اور DTCC جیسے نام اس کے ساتھ جڑتے ہیں. تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

Citadel Securities اور LayerZero کا اشتراک: ٹریڈنگ کا مستقبل

Citadel Securities کا اس پراجیکٹ میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے. کہ وہ اپنی ٹریڈنگ ورک فلو (Trading Workflows) کو بلاک چین پر منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

پوسٹ ٹریڈ (Post-trade) استعمال: عام طور پر، جب آپ کوئی شیئر خریدتے ہیں. تو اسے آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے اور رقم کی ادائیگی مکمل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ زیرو بلاک چین کے ذریعے یہ عمل سیکنڈوں میں مکمل ہو سکتا ہے. جس سے "کاؤنٹر پارٹی رسک” (Counterparty Risk) ختم ہو جاتا ہے۔

میں نے اپنے کیریئر میں دیکھا ہے کہ 2008 جیسے بحرانوں کے دوران، سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں تھا. کہ اثاثوں کی قیمت گر رہی تھی. بلکہ یہ تھا کہ اداروں کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں تھا. کہ سیٹلمنٹ مکمل ہوگی یا نہیں۔ بلاک چین پر "سمارٹ کنٹریکٹس” (Smart Contracts) اس انسانی غلطی اور بھروسے کے فقدان کو ختم کر دیتے ہیں۔

عالمی معیشت پر اثرات: DTCC، ICE اور Google Cloud کا کردار

صرف Citadel ہی نہیں، بلکہ عالمی مارکیٹ کے دیگر ستون بھی اس دوڑ میں شامل ہیں.

  • DTCC: یہ ادارہ امریکہ میں کھربوں ڈالرز کی سیکیورٹیز کی کلیئرنگ کرتا ہے۔ یہ اب زیرو بلاک چین کو "ٹکنالوجی کولیٹرل” (Tokenized Collateral) کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

  • ICE: نیویارک اسٹاک ایکسچینج کی مالک کمپنی، جو 24/7 ٹریڈنگ کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔

  • Google Cloud: یہ AI ایجنٹس کے لیے "پروگرام ایبل منی” (Programmable Money) اور مائیکرو پیمنٹس پر کام کر رہا ہے۔

عام سرمایہ کاروں (Retail Investors) کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر آپ ایک عام ٹریڈر ہیں، تو شاید آپ کو لگے کہ یہ سب "بڑے لوگوں” کی باتیں ہیں۔ لیکن حقیقت میں، Institutional Crypto Adoption and LayerZero Zero Blockchain براہ راست آپ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

  1. بہتر ایگزیکیوشن: جب مارکیٹ میکر بلاک چین استعمال کریں گے. تو آپ کو ٹریڈز پر بہتر قیمتیں (Slippage میں کمی) ملیں گی۔

  2. نئے اثاثوں تک رسائی: بہت جلد آپ اپنے میٹا ماسک (MetaMask) یا کسی اور والٹ سے براہ راست ایپل یا ٹیسلا کے ٹوکن والے شیئرز خرید سکیں گے۔

  3. سیکیورٹی: ادارہ جاتی درجے کا انفراسٹرکچر کرپٹو اسپیس کو ہیکرز اور فراڈ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اختتامیہ. 

Citadel Securities کی LayerZero میں سرمایہ کاری اور "Zero” بلاک چین کا آغاز اس بات کا واشگاف اعلان ہے. کہ کرپٹو اب صرف ایک تجربہ نہیں رہا۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کی نئی ریڑھ کی ہڈی بننے جا رہا ہے۔ جہاں 20 لاکھ ٹرانزکشنز فی سیکنڈ کی رفتار اور صفر کے قریب فیس ہو. وہاں پرانے اور سست نظاموں کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر، میرا مشورہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس بدلاؤ پر نظر رکھیں۔ جو لوگ ان تبدیلیوں کو وقت پر سمجھ لیتے ہیں، وہی مستقبل کی مارکیٹ میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بلاک چین اب صرف "ڈیجیٹل گولڈ” کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ "ڈیجیٹل اکانومی” کے بارے میں ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ روایتی اسٹاک مارکیٹیں مکمل طور پر بلاک چین پر منتقل ہو جائیں گی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button