Bitcoin اور AI کا سنگم: کیا ‘ڈیفلیشنری افراتفری’ ڈیجیٹل گولڈ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی؟
How Technological Innovation is Reshaping Financial Markets and Strengthening Bitcoin’s Strategic Role
آج کی مالیاتی دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی معاشی نظریات اور Bitcoin سمیت جدید ٹیکنالوجی آپس میں ٹکرا رہے ہیں ۔ARK Invest کی سی ای او، کیتھی ووڈ (Cathie Wood)، جو کہ اختراعی ٹیکنالوجی (Innovative Technology) پر گہری نظر رکھنے کے لیے مشہور ہیں، نے حال ہی میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے. جس نے عالمی سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز دنیا میں ایک ایسی "ڈیفلیشنری افراتفری” (Deflationary Chaos) پیدا کریں گی. جس کا مقابلہ کرنے کی سکت موجودہ بینکنگ سسٹم میں نہیں ہے۔ اس صورتحال میں، بٹ کوائن (Bitcoin) محض ایک سرمایہ کاری نہیں. بلکہ مالیاتی تحفظ کا ایک مضبوط قلعہ بن کر ابھرے گا۔
اہم نکات (Key Points)
-
ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی ارزانی: مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس پیداواری لاگت کو اس حد تک کم کر دیں گے کہ عالمی سطح پر قیمتیں تیزی سے گریں گی (Deflation)۔
-
روایتی مالیاتی نظام کا خطرہ: موجودہ بینکنگ سسٹم اور فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) اس تیزی سے بدلتی صورتحال کے لیے تیار نہیں ہیں، جو پرانے کاروباری ماڈلز کو تباہ کر سکتی ہے۔
-
بٹ کوائن بطور ڈھال: اپنی محدود سپلائی (fixed supply) اور غیر مرکزی نظام (Decentralized system) کی وجہ سے بٹ کوائن افراطِ زر (Inflation) اور تفریطِ زر (Deflation) دونوں کے خلاف ایک بہترین ہیج (Hedge) ہے۔
-
سافٹ ویئر مارکیٹ میں ہلچل: کیتھی ووڈ کے مطابق، بہت سے موجودہ سافٹ ویئر ادارے (SaaS) اس تکنیکی تبدیلی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
کیا مصنوعی ذہانت (AI) قیمتوں میں بڑی کمی کا سبب بنے گی؟
کیتھی ووڈ کا استدلال ہے کہ جب ٹیکنالوجی کی کارکردگی بڑھتی ہے. تو اشیاء اور خدمات کی تیاری کی لاگت گر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اے آئی ٹریننگ (AI training) کی لاگت میں سالانہ 75% اور اسے استعمال کرنے (Inference) کی لاگت میں 98% تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جب پیداواری صلاحیت (productivity) اتنی تیزی سے بڑھتی ہے. تو مارکیٹ میں قیمتیں گرتی ہیں، جسے معاشی اصطلاح میں ‘تفریطِ زر’ (Deflation) کہا جاتا ہے۔
یہ عمل صارفین کے لیے تو اچھا ہے، لیکن ان بینکوں اور اداروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے. جنہوں نے پرانے اور مہنگے ماڈلز پر مبنی قرضے (Debt-Based Growth) لے رکھے ہیں۔
میں نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ڈاٹ کام ببل کے بعد مارکیٹ کی بحالی دیکھی تھی۔ اس وقت اور اب میں بڑا فرق یہ ہے کہ اب ٹیکنالوجی صرف وعدہ نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ جب مارکیٹ میں مائعیت (liquidity) کم ہوتی ہے. اور قیمتیں گرتی ہیں. تو سرمایہ کار ہمیشہ ایسی چیز کی تلاش کرتے ہیں جس کی سپلائی کسی مرکزی بینک کے ہاتھ میں نہ ہو۔
بٹ کوائن: Inflation اور Deflation کے خلاف ایک منفرد ہتھیار
عام طور پر Bitcoin کو افراط زر (inflation) کے خلاف تحفظ سمجھا جاتا ہے. لیکن کیتھی ووڈ کا کہنا ہے کہ یہ قیمتوں کے گرنے کے دور میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ Bitcoin کا "ٹرسٹ لیس” (trustless) ہونا ہے۔ یعنی اس کے لیے آپ کو کسی تیسرے فریق یا بینک پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جب روایتی مالیاتی ادارے (legacy finance) ڈیفلیشن کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوں گے. تو کاؤنٹر پارٹی رسک (Counterparty Risk)—یعنی ایک ادارے کے دیوالیہ ہونے سے دوسرے پر اثر پڑنا بڑھ جائے گا۔ Bitcoin کا اپنا ایک الگ اور خود مختار نیٹ ورک ہے. جو اس قسم کے مالیاتی زنجیر کے ٹوٹنے سے محفوظ رہتا ہے۔
Bitcoin اور روایتی فنانس کا موازنہ
| خصوصیات | روایتی مالیاتی نظام (Traditional Finance) | بٹ کوائن (Bitcoin) |
| سپلائی کنٹرول | مرکزی بینک (لامحدود پرنٹنگ) | الگورتھم (21 ملین تک محدود) |
| شفافیت | پیچیدہ اور چھپی ہوئی | پبلک لیجر (Blockchain) |
| لچک | ڈیفلیشن میں قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے | قیمت گرنے پر قوتِ خرید بڑھتی ہے |
| انحصار | بینکوں اور اداروں پر | پیئر ٹو پیئر (Peer-to-Peer) |
فیڈرل ریزرو کی غلطی اور مارکیٹ کا مستقبل
کیتھی ووڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کا مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) پرانے ڈیٹا پر انحصار کر رہا ہے۔ وہ اب بھی 2% سے 3% مہنگائی کو ہدف بنا رہے ہیں. جبکہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو نے اس "پروڈکٹیوٹی شاک” (Productivity Shock) کو نہ سمجھا. تو وہ شرحِ سود (Interest Rates) کو ضرورت سے زیادہ دیر تک بلند رکھ سکتے ہیں. جو معیشت میں بڑے بگاڑ کا سبب بنے گا۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
کیتھی ووڈ کا تجزیہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ایک گہرا مشاہدہ ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت واقعی عالمی معیشت کو ڈیفلیشن کی طرف دھکیلتی ہے. تو Bitcoin کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اب محض ایک ‘سائبر کرنسی’ نہیں بلکہ ایک عالمی ریزرو اثاثہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے سبق یہ ہے کہ وہ اپنی پورٹ فولیو میں تنوع (Diversification) لائیں اور صرف روایتی اثاثوں پر تکیہ نہ کریں۔ ٹیکنالوجی کی یہ لہر جہاں خطرات لاتی ہے. وہیں Bitcoin جیسے اثاثوں کی شکل میں بڑے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اے آئی (AI) واقعی ہماری معیشت کو بدل دے گا، یا Bitcoin کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک عارضی رجحان ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



