مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، Petroleum Prices میں بڑا اضافہ
Rising Petroleum Levy and Global Oil Volatility Trigger Fresh Inflation Fears in Pakistan
پاکستان میں حکومت نے ایک بار پھر Petroleum Prices میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ 16 فروری 2026 سے نافذ العمل ہونے والے اس فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 7.32 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ (Middle East) میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مارکیٹس (Global Market) میں Crude Oil کی قیمتوں کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں ہم نہ صرف ان قیمتوں کے پیچھے چھپے عوامل کا جائزہ لیں گے. بلکہ یہ بھی دیکھیں گے کہ ایک عام شہری، تاجر اور سرمایہ کار کے لیے اس کے کیا معنی ہیں۔
مختصر خلاصہ.
-
قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول کی نئی قیمت 258.17 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت 275.70 روپے مقرر کی گئی ہے۔
-
بنیادی وجہ: ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی و سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں سپلائی کے خطرات۔
-
پیٹرولیم لیوی (PL): حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 84.25 روپے اور ڈیزل پر 76.21 روپے لیوی وصول کر رہی ہے۔
-
معاشی اثر: ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے سے مال برداری (Logistics) مہنگی ہوگی. جس کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کیوں بڑھی؟
حکومت پاکستان نے Petroleum Prices میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت اب 253.17 روپے سے بڑھ کر 258.17 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 7.32 روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے. جس سے نئی قیمت 275.70 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اتار چڑھاؤ (Fluctuations) ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی سفارشات پر حکومت نے ان نئی قیمتوں کی منظوری دی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی مارکیٹ پر اثرات
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا براہ راست تعلق جغرافیائی و سیاسی حالات (Geopolitics) سے ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تنازع نے عالمی سپلائی لائن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ، جہاں سے دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے. وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
یہاں مجھے اپنے 10 سالہ تجربے سے ایک بات یاد آتی ہے۔ جب بھی مشرق وسطیٰ میں "Supply Disruption” کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، تو مارکیٹ صرف اصل کمی پر نہیں بلکہ "خوف” (Fear Premium) پر ری ایکٹ کرتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ٹریڈرز ایسی صورتحال میں لمبی پوزیشنز (Long Positions) لینا شروع کر دیتے ہیں. جس سے قیمتیں حقیقی طلب سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
حکومتی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) کا بوجھ
Petroleum Prices میں اضافے کا ایک اہم پہلو پیٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) ہے۔ یکم فروری 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، حکومت پیٹرول اور ہائی اوکٹین (HOBC) پر 84.25 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے۔
| پروڈکٹ | پرانی قیمت (روپے) | نئی قیمت (روپے) | اضافہ (روپے) | پیٹرولیم لیوی (PL) |
| پیٹرول (Mogas) | 253.17 | 258.17 | 5.00 | 84.25 |
| ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) | 268.38 | 275.70 | 7.32 | 76.21 |
| کیروسین آئل (مٹی کا تیل) | – | – | – | 20.36 |
| لائٹ ڈیزل آئل (LDO) | – | – | – | 15.84 |
یہ لیوی حکومت کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے. لیکن یہ براہ راست صارفین کی جیب پر بوجھ ڈالتی ہے۔ مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت اکثر بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے بجائے لیوی میں اضافہ کر دیتی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
عام طور پر عوام کا سارا دھیان Petroleum Prices پر ہوتا ہے، لیکن معاشی ماہرین کے نزدیک ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت زیادہ اہم ہے۔ پاکستان میں زراعت (Agriculture) اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ مکمل طور پر ڈیزل پر منحصر ہے۔
-
ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات: جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے، تو ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔
-
اشیاء خوردونوش: سبزیوں، پھلوں اور اناج کو منڈی تک پہنچانے کی لاگت بڑھ جاتی ہے. جس سے عام آدمی کے لیے مہنگائی (Inflation) کا نیا طوفان آتا ہے۔
-
صنعتی پیداوار: بہت سی صنعتیں اپنے جنریٹرز چلانے کے لیے ڈیزل کا استعمال کرتی ہیں. جس سے اشیاء کی تیاری کی لاگت (Cost of Production) بڑھ جاتی ہے۔
مارکیٹ سائیکل کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے نوٹ کیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ عموماً اگلے دو ہفتوں میں خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں 2 سے 3 فیصد اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اسے "Second-round effect” کہا جاتا ہے. اور سمارٹ سرمایہ کار اس دوران Consumer Goods کے اسٹاکس پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔
اوگرا (OGRA) کا کردار اور قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار
پاکستان میں Petroleum Prices کی قیمتوں کا تعین ہر 15 دن بعد کیا جاتا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات تیار کرتی ہے۔
فائنل فیصلہ وزارت خزانہ (Ministry of Finance) وزیراعظم کی مشاورت سے کرتی ہے۔ حالیہ اضافے میں بھی اوگرا کی ورکنگ شیٹ نے واضح کیا کہ اگر عالمی قیمتوں کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا گیا. تو ملک کا گردشی قرضہ (Circular Debt) مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے شیئر بازار (Financial Markets) پر اثرات
ایک فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ اس فیصلے کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر ملے جلے اثرات مرتب ہوں گے۔
-
انرجی سیکٹر (Energy Sector): ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے لیے یہ خبر مثبت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے انوینٹری گین (Inventory Gains) میں اضافہ ہوتا ہے۔
-
سیمنٹ اور آٹو سیکٹر: ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ان شعبوں پر منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کی لاگت بڑھتی ہے اور صارفین کی قوت خرید (Purchasing Power) کم ہوتی ہے۔
کیا قیمتیں مزید بڑھیں گی؟
آنے والے ہفتوں میں قیمتوں کا دارومدار مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم نہ ہوا. تو عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ (Brent Crude) 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 270 روپے کی سطح کو چھو سکتی ہے۔
تاہم، اگر عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی بحال رہتی ہے اور روپے کی قدر مستحکم رہتی ہے. تو مارچ کے پہلے پندرہ دنوں میں عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
اختتامیہ.
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ملکی معاشی مجبوریوں کا عکاس ہے۔ جہاں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ شہری طبقے کو متاثر کرے گا، وہی ڈیزل کی قیمت میں 7.32 روپے کا اضافہ دیہی معیشت اور سپلائی چین کے لیے چیلنجز پیدا کرے گا۔
ایک سمجھدار سرمایہ کار اور شہری کے طور پر، آپ کو اپنے اخراجات اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ری بیلنس (Rebalance) کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا، یا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے یہ اضافہ ناگزیر تھا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



